یوم عرفہ اور رؤیت ہلال - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق ایک صاحب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کو رؤیتِ ہلال پر منحصر نہیں رکھا، اور اس لیے جب ہمیں معلوم ہے کہ ”آج“ حجاج عرفات میں جمع ہو رہے ہیں تو ہمارے لیے بھی عرفہ آج ہی کا دن ہے۔\n\nان صاحب سے پوچھنا چاہیے کہ عرفہ کے لیے رسول اللہ ﷺ نے کون سی تاریخ مقرر کی تھی؟ کیا وہ 9 ذوالحجہ ہے؟ تو کیا 9 ذوالحجہ یکم ذوالحجہ کے 8 دن بعد نہیں آتا؟ اور پھر کیا یکم ذو الحجہ کا مدار رؤیتِ ہلال پر نہیں ہے؟\n\nان سے مختلف لیکن اسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے ایک استدلال ان اصحاب کا ہے جو فرماتے ہیں کہ جب ہم نمازوں کے اوقات کے لیے تقویم پر اعتماد کرسکتے ہیں تو مہینوں کے آغاز کے لیے کیوں نہیں کرتے؟\n\nان اصحاب کو معلوم ہونا چاہیے کہ نمازوں کے اوقات کی ”رؤیت“ شریعت نے ضروری نہیں ٹھہرائی لیکن مہینے کے آغاز کے لیے رویت ضروری ٹھہرائی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ایجابی [pullquote](صوموا لرویتہ و افطروا لرویتہ ) اور سلبی (لا تصوموا حتی تروا الھلال و لا تفطروا حتی تروہ)[/pullquote]\n\nدونوں پہلووں سے اس کی تاکید کی ہے۔\n\nاس سے آگے کچھ اور اصحاب ہیں جو کہتے ہیں کہ رؤیت تو اس لیے ضروری قرار دی گئی تھی کہ مہینے کے آغاز کا یقینی علم ہو اور چونکہ آج یقینی علم سائنسی حسابات سے ہوتا ہے ، اس لیے اب رویت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔\n\nان اصحاب کو بتایا جائے کہ رؤیتِ ہلال ایک امر تعبدی (matter of ritual obligation) ہے اور اس کا مدار آپ کی مزعومہ علت پر نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے نماز کی اوقات، رکعتوں، ایک رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں اور اسی طرح کے دیگر معاملات ہیں۔ علت کسی منصوص امر میں آئے ہوئے حکم کو غیر منصوص امر تک وسعت دینے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ منصوص حکم کو معطل کرنے کے لیے۔\n\nاس طرح کے استدلال پر ہی یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ تین حیض تک عدت کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ معلوم ہو کہ عورت حاملہ تو نہیں ہے، اور آج چونکہ اس امر کا یقینی علم حمل کے ٹیسٹ کے ذریعے ہوسکتا ہے تو اس لیے اگر ایسے ٹیسٹ سے حمل کا عدم ثابت ہوا تو تین حیض تک عدت کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی! اس استدلال پر مزید کچھ کہوں گا تو کہیں قیصر بھائی اسے ”سیزفائر“ کی خلاف ورزی نہ سمجھ لیں ۔ اس لیے تھوڑے لکھے کو ہی کافی سمجھ لیں۔\n\nخلاصہ یہ کہ ہمارے ہاں 9 ذو الحجہ کل ہے ، آج نہیں۔ ایک ہی دن پوری دنیا میں یہ دن اور اسی طرح عیدین و رمضان منانے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف اختلاف ِ مطالع کا عدم اعتبار کیا جائے (جو فقہی لحاظ سے اتنا مشکل مسئلہ نہیں ہے ) بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ پوری دنیا ایک حکمران کے ماتحت آجائے جس کا حکم قانوناً پوری دنیا میں نافذ ہوسکے، یاکم از کم یہ ہوجائے کہ ساری دنیا کے حکمران آپس میں معاہدہ کرلیں کہ ایک علاقے کی رؤیت دوسرے علاقے میں قبول کی جائے گی۔ اگر سعودی عرب کی عدالت کا فیصلہ اس انتظام کے بغیر پاکستان میں نافذ نہیں ہوسکتا تو سعودی عرب کی رؤیت کا فیصلہ بھی پاکستان میں اس انتظام کے بغیر نافذ نہیں ہوسکتا۔ پس اصل مسئلہ مطالع کے اختلاف کا نہیں بلکہ سیاسی نظم کے اختلاف کا ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.