مارک ٹونر کا لہجہ اور سیکولر حکمران - عیبد اللہ عابد

عبید اللہ عابد امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونرکا لہجہ ملاحظہ کیجیے، وہ کیا کہہ رہاہے، اس پر غور بعد میں کیجیے گا۔ اس نے کہا ہے:\n”پاکستان پر واضح کر دیا، وہ انتخاب نہ کرے کہ کس گروہ کے خلاف کارروائی کرنی ہے، پاکستان کو ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بننے والےگروپوں کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہے، پاکستان پر واضح کر دیا، وہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرے.“\nسفید چمڑی والا گھامڑ گورا اب بھارت کی غلامی پر پاکستان کو مجبور کررہاہے۔ یہ ہے وہ مقام جہاں اس وقت پاکستان کھڑا ہے۔\nپاکستان کو اس مقام پر کس نے پہنچایا ہے، کسی سے مخفی نہیں ہے۔ جی ہاں! پاکستان کے سیکولراور لبرل حکمرانوں نے، چاہے وہ جنرل مشرف ہو یا زرداری ہو یا پھر میاں نوازشریف۔ جنرل مشرف سے پہلے کی بات کریں تو بےنظیر بھٹو کانام بھی شامل کرنا پڑے گا کہ موصوفہ بھی سیکولر تھیں۔ ان سب ناپختہ ذہن کے حاملین نے ملک و قوم کا ستیاناس کر دیا، یہ سب کے سب دور حاضر کے میرصادق اور میر جعفر تھے۔ پرانے میرصادق اور میرجعفر کے پاس بھی انگریزوں کی وفاداری کے کچھ جواز تھے، ان کے پاس بھی ہیں کہ ہم معاشی طورپر طاقتور نہیں ہیں، اس لیے مجبور ہیں امریکہ کی ماننے پر۔ ارے ! کوئی ان سے پوچھے کہ پاکستان کو کمزور کس نے کیا؟ آپ ہی لوگوں‌نے کیا ہے نا!\n\nان کا طریقہ واردات دیکھیے کہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں، یہ سب امریکہ کے وفادار ہیں لیکن قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے کیسے ڈرامہ بازی کرتے ہیں!! مشرف کہتاہے کہ میرے دور میں قوم کو جوتے (ڈرون حملے) کم پڑے ہیں، موجودہ حکمران کہتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے جوتے برسنا بند ہوگئے ہیں، یہ قوم کو اس مرحلہ فکر کی طرف آنے نہیں دے رہے کہ کن لوگوں‌کی وجہ سے اس قوم پر جوتے برسے!\n\nپاکستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا انھی سیکولرز اور لبرلز کی چاکری کرتاہے۔ اس لیے اس سے کسی خیر کی توقع مت رکھیے، اور خود کچھ کیجیے، اس قوم کو اس طبقہ کے طریقہ واردات سے آگاہ کیجیے تاکہ یہ قوم سفید چمڑی والے گھامڑ گوروں کی غلامی سے نجات حاصل کرے۔ اس کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیجیے، لیکن صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ آپ جہاں‌ب ھی ہوں، خود ہی سوال چھیڑیے اور پھر خوب ٹھوک بجا کر جواب دیجیے۔