پاناما سکینڈل اور سرکاری زکوٹا جن......!رؤف کلاسرہ

m-bathak.com-1421245675rauf-kalasra\n\nپبلک اکائونٹس کمیٹی کے سامنے نیب، ایف آئی اے، سٹیٹ بنک، ایف بی آر، اور ایس ای سی پی کی طرف سے پاناما سکینڈل پر تحقیقات سے معذرت کی گئی ۔دستاویزات پڑھتے ہوئے یاد آیا کہ جب پیپلز پارٹی کی 2008ء میں حکومت بنی تو پہلا کا م یہ کیا گیا تھا کہ نیب کی تنخواہیں روک دی گئی تھیں اور اس کی جگہ ایک نیا احتساب کمشن بنانے کا فیصلہ ہوا تھا ۔ اب اسی نیب نے پی اے سی کو لکھ کر کہا ہے کہ وہ پاناما سکینڈل پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتا۔ تین صفحا ت پر مشتمل اس رپورٹ میں نیب نے پاکستان اور دنیا بھر کے تمام قوانین کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا پاناما سکینڈل کی تحقیقات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور سب سے بڑی بات یہ لکھی ہے کہ یہ اخباری خبر ہے۔ اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔\n\nسٹیٹ بنک لکھ کر کہتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جس کے بل بوتے پر وہ دنیا بھر میں پاکستانیوں کی طرف سے خریدی گئی جائیداد کی تفصیلات حاصل کر سکے۔\nایس ای سی پی نے اس معاملے کو کچھ طول دیا ہے تاکہ سب جان لیں کہ وہ کچھ نہیں کرسکیں گے۔ ایس ای سی پی کے مطابق کل چار سو چوالیس پاکستانیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے نام پاناما میں موجود ہیں۔ یہ چار سو چوالیس پاکستانی پاناما میں دو سو اسی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان چا ر سو چوالیس کمپنیوں میں سے ایک سو پچپن پاکستانی ان پاناما کمپنیوں کے ڈائریکٹر ز ہیں۔ یہ ایک سو پچپن افراد چھ سو کمپنیوں کے سربراہ ہیں جو پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں۔\n\nایس ای سی پی نے عجیب لاجک دی ہے کہ ان پاناما کمپنیوں میں براہ راست پاکستان سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی ۔ پاکستان میں ان چھ سو کمپنیوں کے سربراہوں نے اپنی پاکستانی کمپنیوں کے اکاوئونٹس میں سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور نہ ہی ان سے پیسہ بھیجا گیا۔ کیونکہ ان چھ سو کمپنیوں جو ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ ہیں‘ کے اکائونٹس میں سے کوئی پیسہ باہر نہیں بھیجا گیا لہٰذا ایس ای سی پی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔ ایف آئی اے نے بھی تحریری جواب میں یہی فرمایا ہے کہ ان کا بھلا پاناما سے کیا کام۔ایف آئی اے نے لکھ کر بھیجا ہے اگر نیب یا ایف بی آر کچھ کرنا چاہے تو وہ کرسکتی ہے، ایف آئی اے بے چاری تو مظلوم ہے۔ اسے اس کام میں نہ گھسیٹا جائے۔\n\nنیب نے ایک طویل کہانی سنائی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر کے قوانین کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہونا کہج وی نئیں لہٰذا پاناما تحقیقات پر وقت ضائع نہ کیا جائے۔ نیب کی تجویز ہے کہ بہتر ہوگا کوئی نئی حکمت عملی بنائی جائے جس میں ایف بی آر ، انکم ٹیکس حکام، سٹیٹ بنک، وزیرخزانہ، قانون، وزارت داخلہ اور خارجہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور کسی نتیجہ پر پہنچیں اور دنیا بھر کے ممالک سے معاہدے کریں۔ پاناما سکینڈل محض ایک اخباری خبر ہے ۔ اس میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور محض خبر کی بنیاد پر تحقیقات نہیں ہوسکتیں ۔\n\nمجھے2008ء کے وہ دن یاد آگئے جب وزیراعظم گیلانی اور زرداری نیب کو ختم کرنے پر تل گئے تھے۔ کئی ماہ تک نیب کوبجٹ نہ دیا گیا۔ نیب کے افسران کو اپنی نوکریوں کی فکر پڑگئی تھی۔ انہوںنے میرے جیسے صحافیوں سے رابطے کرنے شروع کر دیے تھے اور ہمیں بتایا جانے لگا کہ اگر نیب ختم ہوگیا تو سیاستدان لوٹ مار کی انتہا کر دیں گے ۔ ایک ہزار وجوہ بتائی گئیں کہ نیب کیا کررہا تھا اور کیسے اب سب سیاستدان مل کر اسے بند کرنا چاہتے ہیں۔ خیر ہم چند صحافیوں نے نیب کے حق میں شور مچایا۔ ابھی اچھے دن تھے ۔ ہماری خبروں پر کچھ اثر ہوجاتا تھا۔ وزیراعظم گیلانی ویسے بھی اس وقت تک اپنے امیج کے بارے میں کچھ فکر مند رہتے تھے اور اپنے خلاف خبریں پڑھنا یا سننا برا سمجھتے تھے لہٰذا انہوں نے کچھ دنوں بعد نیب کا بجٹ بحال کر دیا۔\n\nاگر سیف الرحمن کے احتساب سیل کے پاس طاقت نہ تھی تو بھلا 1998ء میں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں اس وقت کے اٹارنی جنرل محمد فاروق جو جسٹس رمدے کے بھائی تھے، نے کیسے سوئس حکومت کو خط لکھ دیا تھا کہ سوئس بنکوں میں پڑے ہوئے آصف زرداری اور بینظیر بھٹو نے چھ ارب روپے پاکستان سے لُوٹ کر وہاں جمع کرائے تھے۔ یہ منی لانڈرنگ تھی ۔ یہ پاکستان کا پیسہ تھا لہٰذا پاکستان کو واپس کیا جائے۔ اس مقدمے کو لے کر بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے جج ملک قیوم نے بینظیر بھٹو اور زرداری کو سزائیں بھی سنائیں تھی جو بعد میں ان کی سیف الرحمن کے ساتھ مبینہ گفتگو سامنے آنے کے بعد نہ صرف سپریم کورٹ نے معطل کر دی تھیں بلکہ خود جسٹس ملک قیوم کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔ یہ اور کہانی ہے کہ بعد میں جنرل پرویز مشرف نے ملک قیوم کو اپنا اٹارنی جنرل بنایا اور وہ سپریم کورٹ کے وکلا کی باڈی کے صدر بھی رہے ۔ اور تو اور تاریخ کا ستم دیکھیں کہ وہی ملک قیوم بعد میں اسی زرداری کے دور میں بھی 2008ء میں پیپلز پارٹی کے اٹارنی جنرل رہے اور انہوں نے ہی سوئس حکام کو خط لکھا کہ این ار او کے تحت زرداری پر مقدمے سیٹل ہوگئے تھے لہٰذا ن پر سوئس حکومت بھی مقدمہ ختم کر دے جو نواز شریف حکومت نے 2008ء میں شروع کیا تھا۔ اس کے تحت زرداری اپنے چھ ارب روپے اب واپس لے سکتے تھے۔\n\nاس سے پہلے نواز شریف نے بینظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے سیف الرحمن کو احتساب سیل کا انچارج بنایا۔ وسیم افضل ان کے ڈپٹی تھے۔ دونوں نے مل کر دنیا بھر سے زرداری اور بینظیر بھٹو کی کرپشن کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جو کئی بکسوں میں موجود تھے۔ سیف الرحمن کو کروڑوں روپے دیے گئے تھے کہ وہ پیسہ لندن اور سوئس وکیلوں اور جاسوسوں کو دینا تھا جنہوں نے بینظیر بھٹو اور زرداری کی آف شور کمپنیاں ڈھونڈ نکالی تھیں۔ اس کے بعد باقاعدہ ان پر مقدمہ چلتا رہا جس میں پہلے لاہور ہائی کورٹ نے سزا دی۔ تاہم بعد میں جب آصف زرداری کی حکومت بنی اور اپنی مرضی کا چیئرمین نیب لایا گیا تو ایک ایک کر کے ا ن مقدمات سے زرداری بری ہونا شروع ہوئے۔ ایک دن اپنے کیمرے پر لندن کے صحافی مرتضے علی شاہ نے پاکستان کے لندن میں ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو جیمز بانڈز سٹائل میں سر پر ہیٹ، ہاتھ میں بارش سے بچنے کے لیے چھتری اور منہ میں سگار لگائے اس وقت پکڑ لیا جب وہ جینوا میں زرداری کے خلاف موجود ثبوتوں کے باکس ایک ویگن میں رکھ کر غائب ہورہے تھے۔\n\nسوال یہ بنتا ہے کہ اگر پاناما سکینڈل میں نیب کی اتھارٹی نہیں بنتی تو پھر کس اتھارٹی کے تحت یہ سوئس حکومت کے ساتھ زرداری اور بینظیر بھٹو کے خلاف مقدمات لڑ رہا تھا؟ سیف الرحمن نے تیس کروڑ روپے ان ثبوتوں کو حاصل کرنے کے لیے کیوں خرچ کیے تھے؟ ایڈمرل منصور کو امریکہ سے گرفتار کر کے کیسے پاکستان واپس لایا گیا تھا اور اس سے پلی بارگین کی تھی؟ اس پر چار ارب روپے کے فراڈ کا الزام تھا اور اس سے چند کروڑ روپے لے کر معاملہ ٹھپ کر دیا گیا تھا۔ پھر پنجاب بنک سکینڈل کے مرکزی ملزم ہمیش خان کو کیسے گرفتار کر کے واپس لایا گیا تھا ۔\n\nیہ بات طے ہے کہ اس ملک میں بڑے آدمی کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ناممکن ہوگیا ہے۔ اس پاناما سکینڈل میں ملک کے وزیراعظم کا خاندان ملوث ہے لہٰذا سب کی ٹانگیں کانپ کر رہ گئی ہیں۔ وہی ایف آئی اے جو دہشت کی نشانی سمجھی جاتی ہے اس کے ہاتھ پائوں لرز رہے ہیں ۔ یہ لوگ فرماتے ہیں کہ ان کا پاناما سے کیا لینا دینا....وہی ایس ای سی پی جو کمپنیوں کے لیے دہشت سمجھی جاتی ہے اس نے باقاعدہ تین صفحات کا جواب دیا ہے کہ ان اس معاملے میں ملوث نہ کیاجائے۔ ایف بی آر جو کاروباریوں کو ہر وقت ڈرائے رکھتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں بے بس ہیں کیونکہ آصف علی زرداری نے ایک قانون بنوایا تھا جس کے تحت وہ پانچ سال سے پہلے کے ٹیکس گوشواروں کو اوپن نہیں کرسکتے۔\n\nتاہم سب سے بڑا چھکا نیب نے مار ا ہے جو فرماتا ہے کہ اخبار ی خبر پر بھلا کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔ یہ تحریری جواب اس وقت آیا ہے جب ڈنمارک نے پاناما لیکس کی دستاویزات دس لاکھ یورو میں خرید لی ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کے ٹیکس چورو ں کے خلاف ٹرائل کر کے انہیں سزائیں دلوائیں۔\n\nیہ انجام ہوا ہے پاناما سکینڈل اور ہمارے تحقیقاتی اداروں کا‘ہر سال اربوں روپے عوام کی جیب سے جن کی تنخواہوں، ان کی گاڑیوں، سرکاری گھروں اور عیاشی پر خرچ ہوتے ہیں۔ جب امتحان کا وقت آیا تو پانچوں کی پانچوں تحقیقاتی ایجنسیاں انصاف کی بجائے کرپٹ حکمرانوں ، ان کے بچوں اور بددیانت چار سو چوالیس پاکستانیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا جوڑ کر عوام کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں۔\nمجھے دکھ ہورہا ہے کہ کیوں میں نے2008ء میں گیلانی صاحب کے فیصلے کے خلاف مہم چلائی تھی۔ میرے نیویارک آئی لینڈ کے دوست تبسم بٹ پھر یاد آتے ہیں جن کا تاریخی قول ہے ہونا کج وی نئیں...!