ہم کیوں مسلمان ہوئیں ؟ مغرب میں مشکلات کیا ہیں؟ ساجدہ فرحین فرحی

ساجدہ فرحین فرحی نہ جانے کس وقت میرا اللہ سے ربط قائم ہوا اور میں نے اسلام کو جاننے کی جدوجہد مزید تیز کردی۔ میں نے نہ کبھی مسلمان ہونے کا سوچا تھا اور نہ ہی کبھی اسلامی کتب کا مطالعہ کیا تھا. بس میں کچھ عرصے سے مسلمانوں اور ان کی معاشرت سے وابستہ تھی، اپنی صحافیانہ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے پیش نظر فلسطین جانا ہوا، انتخابات کی کوریج کے لیے ائیرپورٹ پر اسرائیلی حکام نے میرا سوٹ کیس اپنے قبضے میں لے لیا حتیٰ کہ میرا کوٹ بھی، میں شدد سردی میں فلسطین کے علاقے ویسٹ بنک (مغربی کنارے) داخل ہوئی. برطانوی اخبار دی میل کے لیے 2005ء کے صدراتی انتخابات کی کوریج کرنا تھی، ایسی حالت میں مجھے رام اللہ کے علاقے میں ایک بوڑھی خاتون ملی، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر کے اندر لے آئی اور الماری سے ایک کوٹ اور حجاب نکال کر دیا اور میرے سر پر بوسہ دے کر مجھے رخصت کردیا. نہ وہ مجھے جانتی تھی اور نہ ہی میری زبان مگر اس کا یہ حسن سلوک میرا اسلام کی جانب متوجہ ہونے کا پہلا موقع ثابت ہوا اور وہ فلسطینی خاتون اسلام سے میری انسیت کا سبب بنیں۔\n\n%d9%84%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a8%d9%88%d8%aa%da%be مسلم دنیا میں سر سے پاؤں تک برقع میں ڈھکی مسلم عورت جو خوبصورتی دنیا کے نامحرموں سے چھپا کر رکھتی ہے جبکہ مغربی دنیا میں جو عورت اپنی جتنی نمائش کرتی ہے اتنے ہی معاشرتی فوائد سمیٹ سکتی ہے. جب میں 2007ء میں لبنان گئی تو وہاں کچھ دن یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ گزارے جو سب باحجاب تھیں، سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک، مکمل پردے میں، وہ سب انتہائی خوبصورت تھیں اور ساتھ ساتھ خود مختار اور صاف گو بھی۔ بہادر و نڈر لڑکیاں مجھے ویسی بالکل بھی نہ لگیں جیسا تصور مغربی اخبارات ایک مسلم عورت کا پیش کرتے ہیں۔ جب میرا اس مسلم معاشرے میں میل جول بڑھا تو اسلام سے واقفیت بھی بڑھتی گئی، قرآن سے آگاہی بھی حاصل کرنی شروع کی، اور پھر مسلم امہ کی محبت و خلوص مجھے اتنا ملا کہ سمیٹنا مشکل ہوگیا، اور ایک دن میں بھی اس دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی، اور پھر میں نے لباس بھی ایک مسلم عورت والا منتخب کیا۔\n\n%d9%84%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a8%d9%88%d8%aa%da%be-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af میرے خیال میں جب ایک عورت حجاب کرتی ہے تو اُسے بالوں کی آرائش کے لیے زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا. جب میں نے حجاب کرنا شروع کیا، اس وقت سردی کا موسم تھا. مجھے زیادہ مشکل نہیں ہوئی، ہاں مگر گرمیوں میں حجاب کرنا واقعی ہمت کا کام ہے. میں برقع کو ایک موزوں لباس سمجھتی ہوں۔ جب میں نے حجاب کرنا شروع کیا تھا، اس دوران مجھے اپنے پیشے کے حوالے سے بھی تشویش لاحق ہوئی کہ حجاب پہن کر کیا میں اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھ پاؤں گی لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اسلام کے کچھ اصول تو اپنا لوں اور کچھ کو چھوڑ دوں لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ میں اسلام کو اپنے اندر پورا کا پورا سمو لینے کی کوشش کروں گی۔ یہ آپ بیتی اور قبول اسلام کی سرگزشت سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر کی بیوی کی بہن یعنی سالی لورین بوتھ کی ایک بےباکانہ زندگی سے ایک باحجابانہ زندگی کی طرف سفر کی ہے جو برطانوی صحافی ہیں۔\n\nاس سے پہلے برطانوی صحافی ایوان ریڈلے بھی اسلام قبول کرکے مغربی دنیا میں اسلام کی سفیر بن چکی ہیں ایوان ریڈلی نے مغرب میں اسلام اور حجاب کے متعلق پیدا کیے گئے غلط اور منفی پرو پیگنڈے کا بھر پورجواب دیا۔\n\n%db%8c%d9%88%d9%86%db%92-%d8%b1%da%88%d9%84%db%92  ایوان ریڈلی ستمبر 2000ء میں افغانستان میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہو ئیں، اس کوشش کے دوران اس وقت کی طالبان حکومت نے انہیں قید کرلیا مگر اس قید کے دوران طالبان کے حسن سلوک اور ان کی شرافت نے ایوان ریڈلی کے وہ خیالات تبدیل کر دیے جو اسلام مخالف قوتوں نے پھیلائے تھے۔ اکتوبر میں رہائی کے بعد اس نے دنیا کو بتایا کہ میں نے اپنی گذشتہ ساری زندگی میں خود کو لندن میں اتنا محفوظ نہیں پایا جتنا طالبان کے ساتھ گذارے گئے قید کے دوران محسوس کیا۔ وہ طالبان دنیا جن کو وحشی درندے ظاہر کرتی تھی، اُنھوں نے میرا قید کے دوران بہت عزت و احترام کیا۔ ایوان ریڈلی اپنی کتاب (In The Hand of The Taliban) میں لکھتی ہیں کہ وہ نیلی آنکھوں والے مجھے اپنی بہن کہہ کر مخاطت کرتے، میری جانب آنکھ اُٹھا کر دیکھتے بھی نہ تھے۔ ایوان ریڈلی نے واپس برطانیہ پہنچ کر سب سے پہلے قرآن کا مطالعہ شروع کیا جس کے بعد وہ بالآخر دائراہ اسلام میں داخل ہوگئیں اور باحجاب زندگی گذارنے لگیں۔ ہر فورم پر اسلام کا بھرپور دفاع کیا اور کہا اسلام وہ نہیں جو ٹونی بلےئر یا مغربی میڈیا بتا رہا ہے بلکہ اسلام وہ ہے جو قرآن میں لکھا ہے۔\n\nآزاد خیال یا عرف عام میں خود کو لبرلز کہنے والے افراد عموما کنزرویٹو افراد کو تنگ نظر گردانتے ہیں مگر درحقیقت یہی آزاد خیال سب سے زیادہ تنگ نظر ہوتے ہیں۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافات میں ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے دو مسلمان خواتین کو کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد فرانسیسی عوام نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے مظا ہروں کی کال دی جس کے بعد ریسٹورنٹ کے مالک نے اپنے رویے پر معافی مانگ لی۔ اس ویڈیو میں ریسٹورنٹ کا مالک دو باحجاب خواتین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ دہشت گرد مسلمان ہیں اور سارے مسلمان دہشت گرد ہیں۔ چھ سال قبل خود کو آزاد خیال کہنے والے مغربی ممالک نے حجاب و نقاب اور برقع پر پابندی لگائی اور اب انھیں برقع کے بعد برقینی بھی قابل قبول نہیں ہو رہی۔\n\nپاکستان کے انگریزی اخبار TRIBUNE نے 18 اگست کو Tanuj Garg کا تجزیہ Only bikinis, no burqinis شائع کیا جس میں لکھا گیا کہ ذرا تصور کیجیے کہ آپ بھاری رقم خرچ کرکے (فرنچ ریویرا) جیسے پُرتعیش مقام پر چھٹیاں منانے جائیں مگر وہاں کا خوبصورت ساحل ایرانی سمندری کنارے جیسا منظر پیش کر رہا ہو۔ فرانس کو اپنی سرزمین پر مغربی اقدار رائج کرنے کا حق ہے۔ ہر ملک کے اپنے اصول و قوانین ہوتے ہیں۔ مشرق وسطی میں بہت سے ساحلوں اور ہوٹلوں کے سوئمنگ پولز میں بکنی پہن کر آنے کی اجازت نہیں ہے، اگر کوئی لبرل عورت مشرق وسطیٰ میں خود کوڈھانپ کر رکھتی ہے اور مقامی اقدار کا احترام کرتی ہے تو فرانس آنے والوں کو بھی اس کی اقدار کا احترام کرنا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو وہاں مت جائیں تاکہ آپ کے احساسات مجروح نہ ہوں۔ گذشتہ دنوں فرانسیسی شہر کینز میں تیراکی کے مکمل اسلامی لباس برقینی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور شہر کے میئر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد اچھی رسوم و روایات اور سیکولرازم کا احترام ہے، برقینی اسلامی شدت پسندی کی علامت ہے چونکہ فرانس دہشت گردی کے حملوں کی زد میں ہے اس لیے ساحل پر برقینی پہنے سے امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس پابندی کے جواز میں جو وجوہات بتائی گئیں اُن میں سے ایک یہ ہے کہ پورے کپڑے پہن کر پانی میں جانا حفظان صحت کے خلاف ہے، جبکہ غوطہ خوروں کا لباس بھی برقینی جیسا ہی ہوتا ہے۔ فرانس کے وزیراعظم نے مینوئل والس نے برقینی کو عورتوں کی غلامی کی علامت قرار دیا۔ نسل پرستی کے خلاف اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس پابندی کو تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ برقینی پر پابندی دراصل مسلمانوں کو زِچ کرنے کے لیے اُٹھایا گیا سیاسی اقدام ہے۔\n\nانسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس لیگ کے دائر کیے گئے مقدمے کے فیصلے میں فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت نے مسلمان خواتین کے لیے تیار کیے گئے تیراکی کے لباس برقینی پر عائد سرکاری پابندی کو بنیادی آزادی کی سنگین اور کھلم کھلا غیر قانونی خلاف ورزی قرار دیا۔ حالیہ دنوں میڈیا پر نیس کے ساحلی علاقے پر برقینی میں لیٹی خاتون سے پولیس زبردستی برقینی اتروا رہی تھی۔ برقینی پر عائد اس پابندی کے دوران دو شہروں میں 30 خواتین پر جرمانے عائد کیے گئے جن میں 24 خواتین کا تعلق نیس اور 6 کا کانے سے تھا۔ ان خواتین کو 38 یوروز فی کس جرمانہ کیا گیا۔ یاد رہے فرانس ہی وہ ملک ہے جس نے 2010ء میں چہرے کے نقاب پر پابندی لگائی تھی۔ اس طرح حجاب کرنا ایک جرم ٹھہرا اور اس کی سزا ہے 205 امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ۔ اسی دوران اسپین کے کچھ شہروں میں بھی حجاب پر پابندی عائد کردی گئی مگر اسپین کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر پابندی ہٹا دی کہ نقاب پر پابندی سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے بعد 2012ء میں بیلجیئم میں بھی برقع پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کی سزا رکھی گئی سات دن قید اور 380یورو جرمانہ۔ اس سے قبل 2008ء میں ڈنمارک میں ججوں پر عدالتی احاطے میں برقعہ یا اسی طرح کے مذہبی یا سیاسی نشانات پر پابندی عائد ہے جس میں صلیب، یہودی ٹوپی، پگڑی شامل ہیں. ہالینڈ نے مئی 2015ء میں مکمل چہرے کے اسلامی حجاب کو سرکاری عمارتوں،اسکولوں،اسپتالوں اور عوامی نقل و حمل کی جگہوں پر ممنوع قرار دیااور اس کی سزا ہے 285 پاؤنڈ اسٹرلنگ تک کا مساوی جرمانہ۔ چین کے شہر اُرومچی میں بھی برقع پر پابندی عائد ہے. یہ سنکیانگ کا درالحکومت ہے. سوویت یونین کا حصہ رہنے والی جمہوریہ لٹویا نے بھی عورتوں پر اسلامی طرز کے مکمل حجاب پر ملک بھر میں پابندی لگا دی ہے، اس قانون پر 2017 سے عمل درآمد ہونے کا امکان ہے۔\n\nاس تناظر میں کچھ اچھی خبریں بھی ہیں، جیسا کہ 25 اگست کو independent کے مطابق Police Scotland approves hijab as official uniform to boost number of Muslim women joining force، اس کے علاوہ ترکی میں حجاب کے لیے کی جانے والی جدوجہد بھی رنگ لے آئی ہے اور اب پولیس کانسٹیبل حجاب پہن کر ڈیوٹی کرسکیں گی۔ ان دونوں ممالک نے باحجاب پولیس خواتین کی پولیس میں شمولیت کے فروغ کے لیے یہ اقدامات اُٹھائے ہیں تاکہ باحجاب خواتین بھی زیادہ تعداد میں پولیس کے پیشے کو اپنا سکیں۔\nحجاب سے خوفزدہ مغرب اپنے اس خدشے سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ عورت چاہے مغرب کی ہو یا مشرق کی، اب یہ جان چکی ہے کہ اس کا عزت و احترام اسلام و حجاب میں ہی پنہاں ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آپ کی کہانی پڑھتے ہوۓ لگا کہ جیسے یہ میری اپنی کہانی ہے.\r\n\r\nشاید یہ ہماری پوری نسل کا ہی دکھ ہے.

  • بہت سچے پاکستانی کی تحریر کاش سب لوگوں کو ایسا لکھنے کہنے کی ہمت اور آزادی ہو،ویسے موجودہ ضرب بھی دہشت گردوں سے زیادہ ملک کی بنیادوں کو لگ رہی ہے آج نہیں تو کل آپ کے اسی مضمون میں معمولی ترمیم کے بعد مجھے یقین ہے کہ آپ ہی بہت کچھ لکھیں گے۔

  • جب ہمارا تبصرہ شائع نہیں کرنا تو تبصرہ کا آپشن کیوں دیا ہے؟؟؟؟؟؟؟\r\nیا پھر ایسی پوسٹس کیوں لگاتے ہو جن پر قاری تبصرہ بھی نہیں کر سکتے