معرکہ ستمبر اور سیکولر احباب کی نفسیاتی گرہیں - آصف محمود

آصف محمود معرکہ ستمبر کے بارے میں کل تفصیل سے لکھا، لیکن میں سمجھتا ہوں اسے دیکھنے کا ایک اور زاویہ بھی ہے اور وہ بہت اہم ہے۔ یہ ہے معرکہ ستمبر پر انتہا پسند سیکولر بیانیہ۔ یہ معرکہ سیکولر حضرات کی چاند ماری کا تازہ میدان ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قوم خواہ مخواہ خوشیاں منا رہی ہے، حالانکہ پاکستان کو اس جنگ میں شکست ہوئی تھی۔ میرے نزدیک اس موقف کا ابلاغ کسی تحقیقی عمل کے نتائج سے زیادہ ان احباب کی نفسیاتی گرہوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے: یہ گرہیں کب کھلیں گی؟\n\nسیکولر حضرات کا ایک مسئلہ ہے، یہ دنیا کے ہر معاملے میں معتدل رہیں گے، ہر ذی روح کی دل آزاری برائی تصور کریں گے، ہر مکالمہ پوری شائستگی سے کریں گے، ہر انسان کی آزادی کی بات کریں گے۔ لیکن جب معاملہ اسلام یا مسلمانوں کا آن پڑے گا، یہ اعتدال کا دامن بھی چھوڑ دیں گے اور تہذیب و شائستگی بھی۔ یہ موقع کی تلاش میں رہیں گے کہ کہاں مسلمانوں کے شعور اجتماعی کا مذاق اڑایا جائے، کہاں ان کا تمسخر اڑایا جائے، کہاں تحقیق کے نام پر ان کی دل آزاری کی جائے۔ چنانچہ کبھی تحقیق کے نام پر یہ پورے اہتمام سے ہمیں بتاتے ہیں کہ قرآن پاک کا قدیم ترین نسخہ نبی رحمت ﷺکی پیدائش سے پہلے کا ہوسکتا ہے تو کبھی یہ معرکہ ستمبر سے شکست برآمد کرکے خوشیاں مناتی قوم کو بد ذائقہ کرتے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ یہ تحقیق نہیں ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔\n\nفوج طالبان سے لڑے تو یہ خود اس کے قصیدے پڑھیں گے لیکن فوج بھارت کو ناکوں چنے چبوا دے تو یہ اس کی فتح مان کر نہیں دیں گے۔ اس نفسیاتی مسئلے کی تفہیم کے لیے معرکہ ستمبر کے بیانیے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ معرکہ ستمبر کا سارا بیانیہ مذہبی ہے۔ اس دور میں جو نغمے لکھے گے انھی کو دیکھ لیجیے: ’’اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا، اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو!، گئے جو ہوگے شہادت کا جام پی کر تم، رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا، علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے، حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا، تمہیں خداکی رضائیں سلام کہتی ہیں‘‘۔\n\nاب کوئی ایسا بیانیہ جس میں مذہب کا حوالہ ہو، ان صاحبان کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہے۔ جہاں یہ مذہبی بیانیہ سامنے آئے گا، ان کے ہاں رد عمل پیدا ہوگا کیونکہ یہ اپنی نفسیاتی گرہ کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ایک ایک کرکے ہر اس حوالے کو منہدم، غیر معتبر یا متروک کردیا جائے، جس کی مذہب سے کوئی نسبت ہو۔ انسائیکلوپیڈیا آف تھیالوجی میں سیکولرزم کی اسی نفسیات کا ذکر یوں کیا گیا ہے: ’’سیکولرزم آج کل ایک ایسا طریق عمل بھی سمجھا جارہا ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف عناصر (جیسے رسوم، آرا، سماجی طرزِ عمل، حتیٰ کہ اشیاء اور بشر) یا مکمل حیاتِ انسانی کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنا تعین مذہب کے ذریعے نہ کرسکے‘‘۔ اب جہاں مذہب کا حوالہ آتا ہے، یہ اپنی نفسیات کے اسیر ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب انہوں نے دیکھا کہ قوم بھر پور طریقے سے یومِ دفاع منارہی ہے اور اس کا سارا بیانیہ مذہبی ہے اور یہ بیانیہ دو قوموں کے تصور کو مستحکم کررہا ہے تو انہوں نے اس جنگ میں شکست برآمد کرلی۔ یہ نفسیات کے تقاضوں کے ہاتھوں مجبور تھے۔\n\nان احباب کے ہاں دوسری نفسیاتی گرہ یہ ہے کہ یہ سمجھتے ہیں یہ اس وقت تک جمہوریت پسند اور آئین دوست ثابت نہیں ہوسکتے جب تک یہ فوج کی بطور ادارہ تضحیک نہ کرلیں۔ چنانچہ فوج کے بارے میں عوام میں پسندیدگی کے جذبات پیدا ہونے لگیں تو ان کو جمہوریت خطرے میں پڑتی نظر آتی ہے اور یہ میدان میں اتر آتے ہیں۔ لاشعوری طور پر یہ فوج بطور ادارہ اور فوجی آمر میں فرق نہیں کر پاتے۔ آمریت سے نفرت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ فوج کو بطور ادارہ بےتوقیر کیا جائے اور فوج سے محبت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آمروں کا ساتھ دیا جائے۔ یہ فرق روا رکھا جانا ضروری ہے۔ جہاں یہ فرق ختم ہوا، اعتدال بھی ختم ہوا اور خرابی نے جنم لیا۔ اب عجب تماشا یہ ہے کہ سیکولر احباب بھی، الا ماشاء اللہ، آمریتوں کے ساتھ ہنی مون مناتے رہے ہیں۔ مشرف دور میں کون کہاں کھڑا تھا، ایک فہرست بنا لیجیے، لگ پتا جائے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسند ایک آمر کے دست و بازو رہے اور سیکولر انتہا پسند دوسرے آمر کے۔ آمریتوں سے یہ حضرات فیض یاب ہوتے رہے، لیکن ادارے کو سینگوں پر لے لیتے ہیں تاکہ جمہوریت دوستی کے باب میں سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔\n\nتیسری گرہ بھی ہے۔ بعض احباب ہر معاملے میں ایک نئی بات کرکے لوگوں کو حیران کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گرہ مذہبی طبقے میں بھی ہے اور سیکولر گروہ میں بھی۔ چنانچہ اس سوچ کے تحت بھی یاروں نے ستمبر کی جنگ سے شکست برآمد کرلی۔\n\nغلطیاں کہاں نہیں ہوتیں، ستمبر کی جنگ میں بھی ہوئیں اور انتہائی سنگین۔ آپریشن جبرالٹر سے گرینڈ سلام تک، قیادت کی دانش پر درجنوں سوالات اٹھتے ہیں لیکن ایک کامیاب دفاع کو شکست کہنا کیا ایک صحت مند رویہ کہلائے گا؟ کیا بھارت کا کوئی ایک حملہ کامیاب ہوسکا؟ کیا اس کے جرنیل لاہور جم خانہ میں جام سے شغل فرما سکے؟ کیا اس کی بحریہ کراچی کا رخ کر سکی؟ کیا لاہور اور چونڈہ میں عزم و ہمت کے انمٹ نقوش نہیں چھوڑے گئے؟ کیا دفاع کرنا کامیابی نہیں ہوتی؟\n\nاگر ایم ایم عالم کے کارنامے پر ہم فخر کرتے ہیں، چونڈہ کے معرکے پر اپنے شہدا کی تحسین کرتے ہیں، عزیز بھٹی کی قربانی کو یاد کرتے ہیں، سیسل چودھری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اصغر خان اور نور خان کی قیادت کو سراہتے ہیں جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے ایک ادارے کو تشکیل دیا، اور اگر ہم چھ ستمبر کو یوم دفاع مناکر ملک کے دفاع کا عہد کرتے ہیں اور شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ ہر چیز کی سند کالم نگاروں اور اینکر پرسنوں سے حاصل نہیں کی جاسکتی، کچھ گواہیاں دھرتی پر بہنے والا خون بھی دیتا ہے۔\n\nلیکن پھر بھی ضد ہے تو مان لیتے ہیں۔ چلیں، اب ایک نئی تاریخ لکھتے ہیں۔ ایک ’’روشن خیال‘‘ تاریخ۔ عزیز ہم وطنو، یہ ایم ایم عالم، عزیز بھٹی، اور گمنام قبروں میں دفن ہونے والے ماؤں کے لال ہم نے خواہ مخواہ ہی ہیرو بنالیے۔ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ جب دشمن بی آر بی کے اس پار پہنچا تو پاکستان کی جانب سے ایک پروڈیوسر آگے بڑھے اور بھارتی کمانڈر کو کہا: ’’ناہنجار شور نہ کرو، ابھی اینکر صاحب کا شو ریکارڈ ہو رہا ہے‘‘۔ یہ تنبیہ کارگر ثابت ہوئی اور آزادی صحافت کے احترام میں دشمن واپس چلا گیا۔ جب ایک جونیئر بھارتی افسر نے واپسی کا حکم ملنے پر اپنے کمانڈر کو جم خانہ لاہور میں شراب سے جی بہلانے کا وعدہ یاد دلایا تو اس افسر نے اپنے جونیئر سے کہا: جوان ہمارے حصے کا یہ کام اب پاکستان کے’روشن خیال‘ دانشور سنبھال لیں گے۔\n\nادھر چونڈہ میں بھی یہی ہوا۔ بھارت کی ٹینک اس لیے آگے نہ بڑھ سکے کہ چونڈہ کے اس پار چند روشن خیال دانشور بیٹھے تھے، بھارتی فوجی نے ٹینک سے سر نکال کر پوچھا کیا یہ چونڈہ ہے؟ تو روشن خیال دانشور نے جواب دیا: ’’ہم کسی چونڈہ کو نہیں جانتے، ہم صرف چنڈو خانے کو جانتے ہیں‘‘۔ چنانچہ دشمن نے اپنے غلط نقشوں کو آگ لگائی اور روتا پیٹتا واپس چلا گیا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • درست تفہیم ہے. جیسے جمہوریت اور حقوق انسانی کے تصورات کو مغرب مسلمانوں کے خلاف ایک Tool یا ہتهیار کے طور پر استعمال کرتا ہے. اسی طرح یہ تصور بھی ایک ہتهیار کے طور پر برتا جاتا ہے.