کالم کیسے لکھا جائے؟ پروفیسر رشید احمد انگوی

آپ کو کالم لکھنا آتا ہے؛ آپ کو کالم پڑھنا اور سمجھن اآتا ہے؛ آپ کالم لکھنا چاہتے ہیں؛ آئیں ایک کہانی سنیں اور درمیان میں بالکل نہ چھوڑیں۔\n\nکل کی بات ہے میں ایک جگہ چلا گیا۔ وہاں ایسے لوگ جمع تھے جو کالم لکھ لکھ کر ساری دنیا میں مشہور ہوگئے اور ایسے بھی تھے جو ان جیسے بننا چاہتے تھے اور ہمارے جیسے بھی تھے جو ان سب کو غور سے دیکھے جا رہے تھے۔ ایک لڑکی جو شاید پی ٹی وی کی کوئی اینکر تھی، بار بار ڈائس پر آکر اپنے خوب صورت شعر سنا رہی تھی کہ ہم نے مدتوں سے ایسے شعر سنے ہی نہیں تھے۔ اس نے آتے ہی ایک مصرع پھینک دیا کہ ’’لکھنے پہ جو آجائوں تو قلم سے سرقلم کرنا آتا ہے۔‘‘ ہمیں اکبر الہ آبادی یاد آگئے کہ \n’’یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا\nافسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی‘‘\nاور ہمارا دھیان کراچی کی طرف چلا گیا کہ جب قلم سے سرقلم کیا جا سکتا ہے تو شہر کو بوری بند لاشوں سے کیوں منسوب کردیا۔ خیر واپس اصل کہانی کی طرف آتے ہیں۔ یہ شملہ پہاڑی کے قرب میں ایک خوبصورت ہوٹل کے ایک ہال کی کہانی ہے جہاں کالموں سے شہرت پانے اور ان جیسا بننے کی خواہش رکھنے والے میزوں کی ایک مستطیل کے باہر کرسیوں پر جلوہ افروز یا رائونڈ ٹیبل پر تشریف فرما تھے اور وہ لڑکی ڈائس پر اپنا جادو جگا رہی تھی۔\n\nکراچی، حیدر آباد، آزاد کشمیر، مانسہرہ، بالاکوٹ، چکوال، سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں سے شرکاء آئے ہوئے تھے اور ہم خود سلہ جی مرغزار لاہور سے ادھر کھنچے چلے آئے تھے۔ کالموں کی دنیا کے لیجنڈ منو بھائی مہمان خصوصی تھے۔ ورچوئل یونیورسٹی کے ایک استاد صاحب وقت کی قدر و قیمت پر کالم سناتے رہے اور پھر کالم نگاروں کی دنیا کے ایک ہیرو عامرخاکوانی سٹیج پر تھے۔ انہوں نے کالم نگاری کے اصولوں اور تقاضوں پر نہایت خوبصورت لیکچر دیا۔ اپنے لیکچر کی روشنی میں کسی جرنلزم یونیورسٹی میں پروفیسر معلوم ہوتے تھے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ان کا خیمہ بہاول پور کی وفا کش مٹی سے اٹھا۔ انہوں نے نوجوان کالم نگاروں کو چار بنیادی باتوں پر فوکس کرتے ہوئے ہدایات دیں۔\n1: زبان پر مہارت حاصل کیجیے۔ \n2: ادب میں وسعت مطالعہ اپنائیے بشمول شاعری، ناول، افسانہ، مکالمہ، عالمی ادب۔ \n3: آپ کا کوئی نظامِ فکر اورکلچر کا شعور ہو اور آپ کو کلچر کے مطالعہ ومشاہدہ کا ذوق حاصل ہو۔\n4: کالم ایک پیکج ڈیل ہے ۔ آپ کی پشت پر ایک مشاورتی و فکری ایسا مجلسی نظام ہو کہ آپ اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کرسکیں اورنئی سے نئی باتیں آپ کے مشاہدے میں آتی رہیں۔ انہوں نے قومی و ملکی اور علاقائی و مقامی سیاسیات و حالات سے متعلق مختلف اخبارات کے ایڈیشنوں کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ آپ کچھ کہنے سے پہلے اچھی طرح باخبر ہوں۔\n\nمنو بھائی بلاشبہ ایک زندہ لیجنڈ ہیں۔ انہیں خطاب کی دعوت دی گئی تو تمام شرکاء احتراماً کھڑے ہوکر تالیاں بجا رہے تھے۔ منو بھائی نے عامر خاکوانی کے لیکچر کو بہت داد دی اور کئی بار ان کی گفتگو کے حوالے دیے۔ انہوں نے کالم نگار کے لیے چار باتوں کو اہم قراردیا۔ مطالعہ، تربیت، نظریہ، روّیہ۔ انہوں نے نظریے کو ایمان قراردیتے ہوئے جملہ ارشاد فرمایا: ’’زبان اور ایمان کے بغیر آپ کالمسٹ نہیں بن سکتے‘‘۔ انہوں نے ایک ہی چیز کو مختلف انداز سے دیکھنے کو ایک مثال سے واضح کیا۔ یہ مثال درخت کی تھی۔ ’’درخت‘‘ ایک حقیقت ہے اور اسے دیکھنے والے اپنا اپنا نقطہ نظر رکھتے ہیں مثلاً لکڑ ہارا اپنی ضرورتوں کے تحت اس پر نظر ڈالتا ہے، مالی اپنی نظر سے، کارپینٹر اپنی نظر سے، گھونسلے کے پرندے اپنی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہر شخص اپنا نظریہ رکھتا ہے۔ سوچ کی بہت اہمیت ہے۔ ہر ایک کی بات کو سننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں سیکولر کا ترجمہ لادینی نہیں بلکہ برداشت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ اسلام جدید ترین مذہب ہے اور ہم تمام انبیاء کو صحیح مانتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور جو چیز فطرت کے خلاف ہے، وہ اسلام کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں سچ کی تلاش رہنی چاہیے‘‘۔ ہم سے حقائق چھپائے نہ جائیں اور ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ کسی وجہ سے حل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے خواتین کی تعداد بڑھانے کا مشورہ دیا اورکہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ خواتین ہر شعبہ زندگی میں آگے آ کر ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عورت صرف جسم نہیں عقل، سوچ اورسلیقہ بھی رکھتی ہے۔\n\nہر دل عزیز صحافی اختر عباس کو دعوت خطاب دی گئی تو انہوں نے نوجوان کالم نگاروں سے کہا کہ جان لیجیے کہ دس بارہ سال پیشہ ورانہ محنت کے لحاظ سے کاشتکاری کا زمانہ ہے۔ انہوں نے اشفاق احمد مرحوم کی محفل کا ذکر کیا کہ انہیں بتایا گیا کہ مکھی کی سولہ آنکھیں (کمپائونڈ آئی) ہوتی ہیں تو حیرانی سے جواب دیا کہ بیٹھتی تو پھر بھی غلاظت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگی میں کنٹری بیوٹ کیجیے۔ ان کا ایک خوبصورت جملہ ہے کہ’’انسانوں کو پڑھنا بہت ضروری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کالم نگار کسی سیاسی پارٹی کا سپوکس مین نہ بنے۔ انہوں نے نوجوان کالم نگاروں کو تاریخ اور آٹوبائیو گرافی کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اگر آپ کو اختلاف کرنا نہیں آئے گا تو آپ کالم نگار نہیں بن سکتے۔\n\nگل نوخیز اختر خوشگوار لب و لہجے میں بات کرنے کا مخصوص سٹائل رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختصر خطاب کیا اور کہا کہ ’’کالم میں نیا پن ہونا چاہیے‘‘۔ کہنہ مشق صحافی اور ادیب سجاد میر نے آتے ہی کالم نگاروں کو تین نکاتی لائحہ عمل پیش کردیا ’’لکھتے رہو، سوچتے رہو اور جیتے رہو‘‘۔ پھر کہا کہ لکھنے کا فن سیکھو اور آپ کی تحریر کا ایک اسلوب بن جائے۔ انہوں نے کالم کی تعریف یہ بیان کی کہ :’’ڈھیلا ڈھالا ابان جو دماغ سینکتا ہے‘‘۔ اور کہا جو دل میں آئے لکھ ڈالو۔ آپ کی تحریر کا اسلوب ہی کالم ہے۔ داد نہ بھی ملے تو بھی لکھتے جائیے.\n\nاور اب مجیب الرحمن شامی صاحب نے سٹیج سنبھال لیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ کالم آپ کے نقطہ نظر کا اظہار ہے اور کالم کسی مسئلے پر آپ کا پرسنل ایڈیٹوریل یا ذاتی تاثر ہے۔ انہوں نے یہ شعر اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کیا: \n’’سیف اندازِ بیان رنگ بدلتا ہے\nورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں‘‘۔\nانہوں نے انفرادی رنگ کی تائید میں لائف سائنسز کا مشہور ’’نظریۂ تنوع‘‘یا ورائٹی کا تصور پیش کیا کہ دنیا میں کوئی دو انسان ایک جیسے نہیں ہوئے، نہ کسی کے پاس نورجہاں کی آواز آئی نہ کوئی اور غالب و اقبال آئے گا۔ اس لیے آپ کا اسلوب یا سٹائل ہی آپ کا کالم ہے۔ انہوں نے تاکید سے کہا کہ لکھنے سے زیادہ پڑھنا ضروری ہے۔ انہوں نے پتے کی بات یہ بتائی کہ ’’اخبار کی ورتھ کالم ہے‘‘۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سیاست سے ہٹ کر سائنس، زراعت اور دوسرے شعبہ جات پر بھی لکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی فلم کی طرح پہلا کالم بھی ہٹ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے میزبان پی ایف یو سی (پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس) کو تلقین کی کہ آئندہ کالم نگاری کا مقابلہ کرایا جائے اور اعلیٰ کارکردگی پر انعامات دیے جائیں جن میں وہ خود بھی حصہ لیں گے۔ انہوں نے کالم نگاروں کو اپنے اندر سینسر لگانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اپنے ٹی وی پروگرام کے حوالے سے کہا کہ اسے ٹی وی کالم کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک اہم بات یہ بتائی کہ کالم کو کنکلوڈ کرنا (نتیجہ نکالنا) اپنے قارئین پر چھوڑ دینا چاہیے۔ وہ جو چاہیں نتیجہ اخذ کریں۔ شامی صاحب نے جاتے جاتے پی ایف یو سی کے ذمہ داران کو متوجہ کیا کہ اپنے سرٹیفیکیٹ انگلش کے بجائے اردو میں لکھوائیں۔ اسی موقع پر ایک نوجوان کالم نگار رضوان اللہ خان کی کتاب ’’کامیابی ہے منتظر‘‘ کی نقاب کشائی بھی کی گئی اور عملاً یہ پورے پروگرام کا پیغام بھی تھا کہ ہمت کرتے رہیں، محنت جاری رکھیں، یقینا کامیابی آپ کی منتظر ہے کہ علامہ اقبال کاارشاد ہے ’’زندگی جہد است استحقاق نیس‘‘یعنی زندگی جدوجہد ہی کا نام ہے ورنہ کسی شخص کا کوئی حق اس کے سوا نہیں۔ ہم نے حسبِ وعدہ آپ کو کہانی سنا دی۔ جو کچھ ہم نے دیکھا سنا، آپ تک پہنچا دیا۔ شاد و آباد رہیے۔ پاکستان زندہ باد