سو کروڑ ڈالر سے زیادہ محض دس دنوں میں - حافظ یوسف سراج

یوسف سراج کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ بدعت کا رد کرتے کرتے ہم نے بدعت کے تنفر میں بھی کچھ اچھی روایات قائم ہونے نہیں دیں اور جو قائم ہوئیں انھیں پنپنے نہیں دیا. ظاہر ہے کچھ چیزیں دین ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں رسوم و روایات یعنی انسانوں کے دین پر عمل پیرا ہونے اور دوسروں کو اچھائی کی طرف راغب کرنے کے اپنے اپنے موثر طریقے. جیسے مارکیٹ میں اشتہارات چلتے ہیں، اور جس طرح بازار کے لوگ مختلف مناسبات اور تہواروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کرتے ہیں ایسے ہی اگر اچھائی یا دین کے فروغ کے لیے بھی مناسبات اور مواقع سے فائدہ اٹھا لیا جائے تو شاید اس سے کچھ بہتری پیدا ہوسکے.\nاب مثلاً آج دو چیزوں کا دن ہے.\n1. چھ ستمبر یوم دفاع\n2. عشرہ ذوالحجہ کا تیسرا دن.\nچھ ستمبر کو چونکہ میڈیا ایونٹ کے طور پر لے رہا ہے. فوج اس دن میں بھرپور شریک ہے. قوم کو اس بارے senstise کیا گیا ہے. چنانچہ آج ہم پاکستانیوں کی اکثریت یہ تو جانتی ہے کہ آج چھ ستمبر یوم دفاع ہے مگر وہ یہ نہیں جانتی کہ اس دفعہ یہ چھ ستمبر کس بابرکت عشرے میں آیا ہے. انھیں قطعاً اندازہ نہیں کہ ان کے لیے ان آسان ترین دس دنوں میں خیر، برکت اور دین و دنیا کے نفع کی آسمان کی طرف سے کس قدر لوٹ سیل لگا دی گئی ہے. اب چونکہ وہ جانتے نہیں. سو جسے وہ جانتے نہیں اس بارے کاوش یا خواہش بھی کیا کریں گے، سو عالم یہ ہے کہ منافع اور فائدے کا دریا ان کی ہر سانس کے ساتھ اور ان کے ہر در کی دہلیز کیساتھ بہہ رہا ہے مگر وہ بےچارے اس سے ایک قطرے کا بھی فائدہ نہیں اٹھا رہے.\n\nآپ نے کئی ایسے مواقع دیکھے ہوں گے کہ جب آپ کی معمولی سی کوشش سے آپ کو اتنا فائدہ ہوجاتا ہے کہ آپ تو کیا آپ کی آئندہ کئی نسلیں بھی فراخی و خوشحالی سے زندگیاں گزار لیتی ہیں. مثلاً کسی نیلام یا انعام گھر میں سو کروڑ روپے یا ڈالر یا یورو یا پونڈ یا ایسا ہی کچھ قیمتی آپ کو محض ایک سوال کے درست جواب پر مل جائے تو غور کیجیے کہ آپ کی اس میں کیا محنت لگ جائے گی بھلا؟ پھر غور کیجیے کہ جس سوال پر آپ کو سو کروڑ مل گیا، اس سوال کا جواب آپ کو ایک عرصے سے معلوم تھا. تاہم اس جاننے نے آپ کو کبھی سو کروڑ ڈالر کا فائدہ نہیں دیا. مگر یہاں ایک خاص ٹائم فریم میں آپ کو اس سے اتنا فائدہ ہو گیا کہ جو عمومی حالات اور عمومی قاعدوں کے تحت کبھی آپ کو ہونے والا نہ تھا. اب یوں دیکھیے کہ خدانخواستہ اگر یہی سوال آپ کو بروقت سوجھنے کے بجائے متعینہ وقت گزرنے کے بعد یاد آئے یا آپ کہیں کہ گو وقت گزر گیا لیکن اب بعد میں آپ ایک دفعہ کے بجائے ایک ہزار دفعہ یہی جواب دہرانے کو تیار ہیں تو کیا کوئی اس نادانی کو مانے گا اور ہمارے چاہنے کے باوجود کیا اس سے وہی فائدہ ہو سکے گا جو بروقت جواب دینے پر ہوتا؟ یقیناً نہیں! کیونکہ ہر چیز حسب موقع ہی مفید ہوتی ہے. انگریزی میں کہتے ہیں کہ جو مکا آپ کو لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے ہی منہ پر جڑ لینا چاہیے.\nاور پنجابی میں اس کا ترجمہ کچھ یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ\nویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں!\n\nاس سب تمہید کے بعد اب دو باتیں سن لیجیے.\nنمبر1. یہ جو دن گزر رہے ہیں، یعنی حج والے اسلامی مہینے ذوالحجہ کے یہ دس دن. میرا مطلب ہے کہ عیدالاضحیٰ آنے سے پہلے والے دس دن. یقین کیجیے کی یہ آپ کی زندگی کے سنہرے ترین دن ہیں. یوں سمجھیے کہ آپ نیلام گھر میں کئی سو کروڑ یورو کئی ٹن سونا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر منافع کما سکتے ہیں. بات یہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی میں آنے والے کسی بھی دس دنوں میں کیے گئے آعمال ان دس دنوں میں کیے گئے نیکی و خیر کے اعمال کی کبھی برابری نہیں کر سکتے. لیکن دیکھیے لگتا یوں ہے کہ شاید ہمیں اس اہم ترین موقع اور Golden chance کی کچھ خبر ہی نہیں. ہم انھیں اسی طرح معمول کے مطابق اڑائے چلے جاتے ہیں. لیجیے پیارے رسول کی زبان اقدس سے ان گنتی کے محض دس دنوں کی فضیلت اک ذرا ملاحظہ فرمائیے\nسیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ رسولِ معظمﷺ نے فرمایا\n[pullquote]مَا العَمَلْ فِی اَیَّامٍ اَفضَلَ مِنھَا فِی ھٰذِہ) قَالْوا: وَلَا الجِھَادْ؟ قَالَ وَلَا الجِھَادْ اِلاَّ رَجْل خَرَجَ یْخَاطِرْ بِنَفسِہ? وَمَالِہ فَلَم یَرجِع? بَشَیئٍ.[/pullquote]\n\n’’ذی الحجہ کے دس دنوں میں کیا گیا نیک کام خدا کو جتنا محبوب ہے اس کے علاوہ دیگر دنوں میں نہیں‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے راستے میں اور دنوں میں کیا گیا جہاد بھی (ان دنوں کے عمل سے بڑھ کر نہیں)؟ فرمایا :’’نہیں۔ اور دنوں کا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں‘ سوائے اس شخص کے کہ جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور پھر ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ لوٹے (یعنی ہر دو چیزیں رب کی راہ میں پیش کر ڈالے) ‘‘۔\nاسی مفہوم کی روایت سیدنا ابن عمرؓ کے حوالے سے مسند احمد میں بھی موجود ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دس دنوں کا کوئی عام عمل تو خیر باقی دنوں کے اعمال سے کیا میل کھائے گا کہ یہاں کا اک عام عمل عام دنوں کے جہاد سے بھی بڑھ کر ہے. اللہ اکبر!\nیہ نصیب اکبر لوٹنے کی جا ہے!\n\nکچھ اندازہ ہوا یہ دن کتنے قیمتی ہیں. پھر اس کے باوجود اگر آپ ان دنوں سے مسلمانوں کو فائدہ اٹھاتے نہیں دیکھتے تو دو ہی باتیں ہیں.\nیا تو انھیں واقعی اس کا علم ہی نہیں.\nیا پھر وہ اس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ نہیں جانتے. بالکل ویسے ہی کہ جیسے ایک شخص بی ایم ڈبلیو کا مالک تو ہے مگر نہ اسے ڈرائیور میسر ہے اور نہ اسے ڈرائیونگ آتی ہے.\nمیں دیکھتا ہوں کہ رمضان میں ادنٰی سے ادنٰی ایمان والا بھی محنت کرتا ہے حالانکہ ان دس دنوں سے وہ دن کہیں مشکل یوں ہوتے کہ خالی پیٹ یعنی روزے کے ساتھ مشقت اٹھانا ظاہر ہے آسان نہیں ہوتا. جبکہ یہاں روزہ فرض نہیں. دیگر نفل عبادات کے مانند ہے اور کوئی بھی عمل کیا جا سکتاہے. یہ فضیلت ہر نیک عمل کے لیے ہے.\n\nلوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جس طرح رمضان میں علمائے دین نے انھیں ایک ماحول دیا، یہاں وہ نہیں دیا سو سوائے مخصوص ترین اقلیت کے، اکثریت ان عظیم ترین بابرکت دنوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہی یا نہیں اٹھا سک رہی. تجویز یہ ہے کہ اگر علماء ان دس دنوں کی تشہیر کے ساتھ ساتھ مختلف پروگرام بھی مرتب کرسکیں. وہ خطبہ و وعظ کے ساتھ ساتھ عبادات کی عملی مجالس بھی بپا کریں تو عین ممکن ہے کہ آہستہ آہستہ ہم ان دس دنوں سے بھی فائدہ اٹھانے والے بن جائیں. ڈر لیکن یہ ہے کہ کہیں میری یہ تجویز بدعت کے زمرے میں شمار کرکے مجھے احاطہ سرزنش میں نہ پکڑ لایا جائے. ویسے تو خیر یہ بھی غنیمت ہی ہوگا، جہاں ثقہ علما کے برعکس جاہلوں کے ہاں روش اور روٹین کفر سازی کی in ہو وہاں محض بدعتی کہہ کے چھوڑ دینا تو عین سخاوت اور جان بخشی ہو گی.

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */