نفسیاتی سوالی - محمد نعمان بخاری

نعمان بخاری علم کی دنیا میں سوال اٹھانا یا سوال کرنا ایک صحت مند سرگرمی کہلاتا ہے. یہ انسانی شعور کو تروتازہ رکھتی ہے، بات کو سمجھنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں مددگار ہے. یہ انسان کی دانست اور دانش کو پختگی بخشتی ہے. سوال اُٹھانے والا اگر اپنی جستجو میں سنجیدہ ہو تو اس پر ایسے سربستہ راز منکشف ہوتے ہیں جن سے باقی لوگ ناآشنا رہتے ہیں. یہ عادت انسان کو کشمکشِ حیات میں منزل تک پہنچنے کے روشن زاوئیے عطا کرتی ہے. غرضیکہ اس خصلت کا رُخ مثبت رہے تو حالات و واقعات کو بروقت سمجھ کر راستے کی بہت سی ٹھوکروں سے بچ پانا ممکن ہوتا ہے..!\n\nاس سرگرمی کا ایک منفی پہلو بھی ہے کہ جب یہ عادت، عادت سے نکل کر”خبط“ میں داخل ہوتی ہے تو شعوری بوکھلاہٹ کا سبب بنتی ہے. ایسا شخص خود کو فطین سمجھتا ہے جبکہ درحقیقت یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے. اس مرض کا شکار شخص ہر معقول بات پر بھی سوال اٹھانے سے گریز نہیں کرتا اور اسے اپنا حق سمجھ رہا ہوتا ہے. ایسے بندے کو یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ کیا یہ سوال واقعی اٹھائے جانے کے قابل بھی ہے. وہ بس اپنے خبطی پن کی تسکین کا شوقین ہوتا ہے اور اسے اپنے شوق کو پورا کرنے کا موقع چاہیے ہوتا ہے. دانا کہتے ہیں کہ سوال کرنا باقاعدہ ایک علم اور فن ہے. سوال کی ساخت یہ بتا دیتی ہے کہ سوالی کی ذہنی سطح اور آگہی کی حد کیا ہے. اگر کوئی انسان ”علمِ سوال“ پر عبور حاصل کرنا چاہے تو سب سے پہلا اور ضروری کام یہ ہے کہ کسی بھی خاص موضوع پر حتی الامکان اپنا مطالعہ وسیع کرے. یہ فن سیکھنا ہر اس شخص کےلیے اہم ہے جو حصولِ علم میں مخلص ہو، بصورتِ دیگر سوال اٹھانا ایک بیماری بن جاتا ہے..!\n\nاس بیماری کے شکار لوگ فیس بک پر بھی موجود ہیں. کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر ملحدین اس مرض میں مبتلا ہیں. ”زیادہ تر“ کی حد تک تو یہ بات درست ہو سکتی ہے مگر ہر ملحد ایسا نہیں ہوتا بلکہ کئی واقعی اپنی کنفیوژن کا ازالہ چاہتے ہیں. ان چند کے استثناء کے بعد بارہا کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہ وائرس اب صرف ملاحدہ کی پہچان نہیں رہا بلکہ آزادئِ کردار و اظہار کے علمبرداروں کی میراث بنتا جارہا ہے. ان کی زندگی کا واحد مقصد بس سوال اٹھا دینا ہوتا ہے. سوال اگر جاننے کی طلب میں کیا جائے تو سوالی اپنا مطلوب ہر صورت کہیں نہ کہیں سے پا ہی لیتا ہے. مصیبت یہ ہے کہ یہاں سوال کی نوعیت دیکھ کر ٹھیک ٹھاک اندازہ ہو جاتا ہے کہ مقصدیت میں صرف اعتراض بھرا ہوا ہے. اس طبقے کے کچھ فکری بگاڑ یافتہ لوگ مخاطب کو زِچ کرنے کے ارادے سے سوال اٹھاتے ہیں. بعضے محض چسکے کی خاطر سوال اٹھاتے ہیں جنہیں جواب پانے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا. ان کے سامنے پہاڑ جیسے مضبوط دلائل بھی رکھ دیے جائیں تو بھی ان کو تشفی نہیں ہو پاتی. جبکہ انھی کے طبقے کا کوئی شخص روئی جیسی ہلکی بات بھی کہہ دے تو اسے فوراً قبول کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کی نفسانی غرض کے عین مطابق ہوتی ہے. آپ تجزیہ کر لیجیے کہ ایسے لوگ ہمہ وقت بےچینی، شش و پنج اور بےیقینی کے بحرالکاہل میں غوطہ زن رہتے ہیں. یہ افراد قرآن و حدیث کی محکم آیات سن لینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہو پاتے اور کوئی نہ کوئی اعتراض ضرور کرید نکالتے ہیں. یہ احکامِ مذہب کا وہ مفہوم ڈھونڈنا چاہتے ہیں کہ جس سے ان کی ذاتی خواہش کی تکمیل کا سامان ہو. فقط تسکینِ نفس کا طلبگار یہ مریض گروہ اپنے ذہنی خلل کے طفیل تسلیم و رضا کی چاشنی اور سواد سے تادمِ آخر محروم رہتا ہے.