اسلام اور بدھ مت کا تعلق، ایک تاریخی جائزہ - دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم اس مضمون سے پہلے ایک وضاحت کردوں کہ یہ ایک خالص علمی یا تحقیقی مضمون نہیں ہے بلکہ یہ میرے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ اس امر کا اعتراف ہے کہ یہ موضوع ایک گہری تحقیق کا تقاضا کرتا ہے اور یہ اہل علم کا فرض ہے کہ وہ اس علمی تحقیقی کاوش میں اپنا حصہ ڈالیں۔\n\nبعض محققین اسلام کو ایک سامی مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر اسلام اپنے آپ کو ایک ایسی آفاقی سچائی کے طور پر پیش کرتا ہے جو صرف بنی اسرائیل کے سلسلے سے نہیں جڑا ہوا بلکہ یہ انسانی ارتقا کے عالمگیر سلسلے سے جڑا ہوا ہے اور یہ ان تمام رسولوں اور پیغمبروں کی سچائی کی تصدیق کرتا ہے جو سامی مذاہب کے علاوہ بھی دوسری اقوام اور دوسرے خطوں میں تشریف لائے اور انھوں نے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔\n\nبدھ مت ایک اہم مذہب اور فلسفہ حیات ہے۔ خلافتِ بنو امیہ (661ء تا 750ء) کا دور عرب ملوکیت کی توسیع کا دور تھا۔ سارے مشرق وسطی میں بنوامیہ کی حکومت تھی۔ آٹھویں صدی کی ابتدا میں عرب جرنیل محمد بن قاسم نے آج کے جنوبی پاکستان میں واقع بودھی اکثریت کے علاقہ سندھ کو فتح کیا۔ وہاں کے ایک بڑے شہر برہمن آباد کے ہندوئوں اور بدھ مت کے پیروئوں نے درخواست کی کہ ان کی مذہبی آزادی برقرار رکھی جائے اور انہیں اپنے مندروں کی تعمیرِ نو کی اجازت دی جائے۔ محمد بن قاسم نے گورنر حجاج بن یوسف سے مشورہ کیا جس نے مسلمان علما سے پوچھا۔ مسلمان علما نے فیصلہ میں، جسے بعد میں ”برہمن آباد بندوبست“ کہا گیا، بدھ مت کے پیروکاروں (اور ہندوئوں) کو اہلِ کتاب قرار دے دیا۔\n\nاہل کتاب سے مراد ایسے مذاہب ہیں جو اللہ کے کسی رسول اور اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اہل اسلام کو جب بدھ مت کے پیروکاروں سے معاملہ کرنا پڑا تو انہیں بھی وہی حقوق اور حیثیت دے دی گئی جو یہود و نصاریٰ کو ان کی حکومت میں حاصل تھی۔ انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی تھی بشرطیکہ ان کے عام لوگ جزیہ ادا کرتے رہیں۔ بدھ مت کے پیروکاروں کو اہلِ کتاب قرار دینے کا ضمنی مطلب یہ تھا کہ وہ ”نجات یافتہ“ گروہوں میں شمار ہوتے تھے، قران مجید کی مندرجہ ذیل آیت کے مطابق (سورۃ بقرہ، آیت 62) ”جو کوئی مسلمان اور یہودی اور نصرانی اور صابی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں موجود ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“\n\nاموی گورنر حجاج بن یوسف نے حکم جاری کیا ”بودھی اور دوسرے مندر تعمیر کرنے اور مذہبی امور میں رواداری کے لیے برہمن آباد کے سرداروں کی درخواست منصفانہ اور معقول ہے۔ میں نہیں جانتا کہ سوائے ٹیکس وصول کرنے کے ہمارے اُن کے اوپر اور کیا حقوق ہیں۔ انہوں نے ہماری اطاعت قبول کر لی ہے اور خلیفہ کو جزیہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کیونکہ وہ اب ذمّی بن گئے ہیں اس لیے ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم ان کی جان و مال میں مداخلت کریں۔ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی کریں اور اس امر سے انہیں کوئی منع نہ کرے۔“\n\nبعد ازاں بدھ مت کے پیروئوں کو اپنے معبد اور خانقاہیں دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت مل گئی اور ساتھ ہی انہیں، جزیہ ادا کرنے کی شرط پر، ذمی (یعنی غیر مسلم محفوظ اشخاص) کا رتبہ مل گیا۔ اموی خلفاء اور اس کے بعد بغداد سے حکومت کرنے والے عباسی خلفاء (550ء تا 1258ء) اور ان کے بعد کے ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے اصولی طور پر یہی پالیسی اپنائی رکھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بدھ مت کو مشرکانہ مذاہب میں نہیں گردانا گیا جن کے پیرووں کو مندرجہ بالا استحقاق حاصل نہیں تھے۔\n\nبودھی اور ہندو مندروں کی تعمیرِ نو کے بعد عرب گورنروں نے وہاں آنے والے زائرین پر ٹیکس عائد کر دیا تھا۔ مسلمان علماء نے نہ تو اس زمانے میں اور نہ ہی بعد میں اس پالیسی کو بنیادی اسلامی عقائد کے خلاف سمجھا۔ بدھ مت کے پیروکاروں کو قانونی حیثیت، سیاسی حمایت اور مذہبی رواداری کے سلوک کا ملنا اس امر پر دلالت کرتا تھا کہ بدھ مت کی روحانی راہ اور اخلاقی قواعد ایک بالاتر قدرت یعنی خدا کی مستند وحی سے حاصل شدہ تھے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں فارسی تاریخ دان الکرمانی نے بلخ، افغانستان میں واقع نووہار خانقاہ کے مفصل حالات لکھے اور کچھ بودھی روایات کو اسلام میں ان کی مشابہ اصطلاحات میں بیان کیا۔\n\nدوسرے عباسی خلیفہ المنصور (دورِ خلافت: 754 تا 775عیسوی) نے اپنی سلطنت کے نئے دارالخلافت کی تعمیر کے لیے ہندوستانی ماہرِ تعمیرات ملازم رکھے۔ اس نے اس نئے شہر کا نام بغداد رکھا جو کہ ایک سنسکرت نام ہے جس کا معنی ہے ”عطیہِ خداوندی“۔ شہر کے منصوبہ کے مطابق خلیفہ نے بیت الحکمت تعمیر کروایا جس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی اور ہندوستانی ثقافتی دنیاؤں کے ادب کا مطالعہ اور ترجمہ کیا جائے بالخصوص سائنسی موضوعات پر۔ اگلے عباسی حکمران، خلیفہ المہدی (دورِ خلافت: 775 تا 785عیسوی) نے بیت الحکمت میں کام کرنے کے لیے برِصغیر اور افغانستان سے کئی بودھی راہبوں کو مدعو کیا۔ اس نے اُن کے ذمہ، بنیادی طور پر طِب اور علمِ نجوم کی کُتب کا سنسکرت سے عربی میں ترجمہ کا کام لگایا۔\n\nپانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید (دورِ خلافت: 786 تا 809 عیسوی) کا وزیر یحیی بن خالد بن برمک تھا جو کہ بلخ کی نووہار خانقاہ کے بودھی انتظامی سربراہوں میں سے ایک کا مسلمان پوتا تھا۔ اگرچہ اس وقت بغداد کے بیت الحکمت میں بودھی عالم پہلے سے موجود تھے لیکن یحیی نے مزید بودھی عالموں کو بھی مدعو کیا، خاص طور پر کشمیر سے۔ ان کی توجہ کا مرکز بودھی طبی متون تھے، خاص طور پر رویگپت کی کتاب ”کامیابیاں کا سمندر“ (سنسکرت میں: سدھاسار)۔\n\nیہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس زمانہ میں بودھی اور مسلمان عالموں کے درمیان مذہبی اعتقادات پر بحثیں ہوئی ہوں گی لیکن چونکہ بیت الحکمت کے علما کی مرکزی دلچسپی یونانی فلسفہ میں تھی اس لیے ان کا بدھ مت کا بہت گہرا مطالعہ نہیں تھا۔ تاہم ابن ندیم کی دسویں صدی عیسوی کے آخر کی کتاب ”الفہرست“ میں کئی بودھی مقالوں کا ذکر ملتا ہے جنہیں اس دور میں عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا، مثلاً ”بدھ کی کتاب“ (عربی میں: کتاب البُد)۔ یہ دو مختلف سنسکرت کتابوں سے ماخوذ تھی: ”گزشتہ زندگی تاریخ کی ایک مالا“ (سنسکرت میں: جتک مالا) اور اشواگھوش کی ”بدھ کے اعمال“ (سنسکرت میں: بدھا کاریتا)\n\nمشرقی افغانستان اور شمال مغربی پاکستان کی آبادی میں ہندوئوں اور بودھیوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ 876 تا 976 عیسوی، یہ سارا علاقہ ہندو شاہی حکومت کے ماتحت تھا۔ عباسیوں کے باجگزار، سُنّی مسلمان غزنویوں نے افغان حصہ کو 976 عیسوی تک فتح کر لیا تھا اور پاکستانی طرف بھی 1010 عیسوی میں انہوں نے ہندوشاہی حکمرانوں کا تختہ لپیٹ دیا۔ غزنوی حکمران سابقہ ہندو شاہی علاقوں میں ہندو مت اور بدھ مت کے لیے رواداری کے قائل تھے۔ البیرونی (976 تا 1048عیسوی) ، ایک ایرانی عالم اور ادیب جو کہ غزنوی دربار میں ملازم تھا، لکھتا ہے کہ دسویں صدی عیسوی کے اختتام پر آج کے مشرقی افغانستان میں واقع بودھی خانقاہیں بشمول نووہار خانقاہ کے، قائم و دائم تھیں۔ البیرونی، محمود غزنوی کے ابتدائی گیارھویں صدی عیسوی میں ہندوستان پر حملے میں اس کے ہمراہ تھا۔ اس نے ہندوستان میں جو کچھ سیکھا اس پر مبنی ایک کتاب ”کتاب الہند“ تحریر کی۔ اس میں اُس نے بنیادی بودھی روایات اور اعتقادات کی تفصیل بتائی اور کہا کہ ہندوستانی مہاتما بدھ کو ایک پیغمبر مانتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ بدھ مت کے پیرو شاکیہ منی کو اپنا خدا نہیں مانتے۔ سلجوق خاندان کے دورِ حکومت میں الشہرستانی نے اپنی بارھویں صدی عیسوی کی ”کتاب الملل و النحل“ یعنی مذاہب اور فرقوں کی کتاب میں بھی بدھ مت کے بارہ میں البیرونی کی دی گئی تفصیلات دہرائیں۔\n\nغزنوی دور میں ہمیں اسلامی ادب میں بدھ مت کے اثر کی مزید مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً نابیناؤں کے ایک گروہ کی کہانی جس میں ہر شخص ایک ہاتھی کو مختلف رنگ میں بیان کر رہا تھا اُس کے مختلف اعضا کو ہاتھ لگا کر۔ یہ کہانی ایرانی عالم ابو حامد الغزالی (1058 تا 1111عیسوی) کی تحریروں کے ذریعہ تصوّف میں پہنچی۔ فلسفیانہ شک و شبہ کی حمایت میں الغزالی نے اس تمثال کو یہ دکھانے کے لیے استعمال کیا کہ مسلمان متکلمون حق کا صرف کچھ حصہ جانتے تھے جبکہ مہاتما بدھ نے اسے غیر بودھی مذاہب کی آپس کی بحث کی بے فاعدگی سکھانے کے لیے غیر بودھی مذاہب کے زمرے میں استعمال کیا۔\n\nچھٹا ایلخانی حکمران، غزان خان (دورِ حکومت: 1295 تا 1304 عیسوی) شیعہ صوفی شیخ صدرالدین ابراہیم کے زیرِ اثر مسلمان ہو گیا۔ اس کے باوجود اس نے اپنے وزیر رشید الدین کو حکم دیا کہ وہ ایک عالمگیر تاریخ (عربی میں: جامع التواریخ) مرتب کرے۔ نیز اس نے ہدایت دی کہ اس تاریخ میں ان مختلف قوموں کے اعتقادات بھی شامل ہوں جن سے منگولوں کا سامنا ہوا تھا، بشمول بدھ مت کے۔ پس اس نے اپنے دربار میں کشمیر سے ایک بودھی راہب بکشی کمالشری کو مدعو کیا تاکہ وہ رشید الدین کی اعانت کرے۔ اس اشتراک کا نتیجہ ”بدھ کی زندگی اور تعلیمات“ تھا جو کہ عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں ”جامع التواریخ“ کی دوسری جلد کے تیسرے حصہ ”تاریخِ ہند“ میں شامل تھا۔\nالکرمانی اور البیرونی کی طرح رشید الدین نے بھی بدھ مت اور اس کی تعلیمات کو مسلمان اصطلاحات میں واضح کیا۔ پس ان نے اُن چھ مذہبی بانیوں کی فہرست دی جنہیں ہندوستانی بطور پیغمبر تسلیم کرتے تھے: تین یزدانی : شِو، وشنو اور برہما اور تین غیر یزدانی: جین مت کے ارہنت، چارواک نظام کے ناستک اور بدھ مت کے شاکیہ منی۔ اس نے دیووں کا ذکر بطور فرشتوں کے کیا اور مارا کا بطور ابلیس یعنی شیطان کے۔ یہ متن چھ سمساری حالتوں کا ذکر بھی کرتا ہے اور کرمی قانونِ علت و معلول کا بھی اور اس امر کا کہ مہاتما بدھ کے الفاظ ”کانگیور“ کے تبتی ترجموں کے مجموعہ میں محفوظ ہیں۔\n\nرشید الدین نے یہ بھی لکھا کہ اس کے زمانہ میں ایران میں گیارہ بودھی متون عربی ترجمہ میں موجود تھے۔ ان میں امیتابھ کی خالص سرزمین کے بارہ میں ”سکھہ کی پاک صاف سرزمین کے ترتیب کی سوتر“، 'آوالوکیت ایشور' یعنی درد مندی کی تجسیم کے بارہ میں ”بُنی ہوئی ٹوکری کی طرح ترتیب کی سوتر“ اور 'مایتریا' یعنی مستقبل کے بدھ اور محبت کی تجسیم کے بارہ میں ”مایتریا کا بیان“ شامل تھے۔\nاس کے تقریباً ایک صدی بعد، ابتدائی پندرہویں صدی عیسوی میں حافظِ آبرو نے سمرقند میں تیموری پادشاہ شاہ رُخ کے دربار میں ملازمت کے دوران ”مجمع التواریخ“ مرتب کی۔ اس کتاب کا مہاتما بدھ اور بدھ مت کے بارہ میں حصہ رشیدالدین کی کتاب سے ماخوذ ہے۔\n(جاری ہے)\n\nدوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں\n\nتیسری قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشاءاللہ بہت اچهی تحریر ہے اللہ سب کو عمل کی اور سمجهنے کی تو فیق دیں اور ادارے میں کام کرنے والے افراد اور لکهنے والوں کو بهی اچهی بات آگے بتانے کا اجر دے

  • کیاکافروں کے مال و متاع اور ترقیوں کے راز ۔۔۔۔کافروں کی عقل اور ان کے بنائے ہوئے نظام کی وجہ سے ہے ؟؟؟\r\n\r\nاور کیا یہ دنیاوی مال و متاع اور ترقیاں حاصل کرنا ہی کامیابی کی علامت ہے ؟؟؟؟\r\n\r\nاوردیہان سے ملاحظہ فرمائیں کہ اللہ رب العزت کے فرمان کے مطابق حقیقی کامیابی کس چیز میں ہے ۔\r\nاور اس حقیقی کامیابی کو پانے کا راستہ کون سا ہے ۔ \r\n\r\nارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًاالخ بنی اسرائیل 18 پارہ 15\r\n(ترجمہ:جو ہے خواہش مند دنیا کے فائدے کا تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اسے یہیں ،جو چاہتے ہیں ہم اور جس کو چاہتے ہیں ،پھر ٹہرا رکھا ہے ہم نے اس کے لئے جہنم ،داخل ہوگا وہ اس میں برے حال سے اور راندئہ درگاہ ہوکر )\r\n\r\nاگلی آیت مبارکہ میں ارشاد ہے ( وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا )\r\nبنی اسرائیل 19 پارہ 15\r\n(ترجمہ :اور جو خواہشمند ہو آخرت کا، اور کوشش کرے اس کے لئے ،جو کوشش ضروری ہے، اور ہو بھی وہ مومن، پس یہ لوگ ہیں کہ ہے ان کی کوشش مقبول )\r\n\r\nاگلی آیت مبارکہ میں ارشاد ہے (كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا)بنی اسرائیل 20 پارہ 15 \r\n(ترجمہ :ہر ایک کو مدد دیتے ہیں ہم ان کو بھی اور اُن کو بھی عطاءمیں سے تیرے رب کی ،اور نہیں ہے عطا ءتیرے رب کی کسی پر بند)\r\n\r\nابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہی ہو ،جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کردے لیکن آخرت میں ایسے لوگ خالی ہاتھ رہ جائیں گے ۔یہ تووہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے کیوں کہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا ،فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لئے وہاں رحمت الٰہی سے دور رہیں۔ \r\n\r\nمزید لکھتے ہیں کہ ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دارآخرت ہوجائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان کی تصدیق اور یقین ہو ،عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو ،اللہ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہو ،ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا ۔\r\n\r\nمزید لکھتے ہیں کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں ،دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس (چیز)میں بھی وہ (طالب)ہیں ،یہ تیرے رب کی عطاءہے ،وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقادت کو شقادت دے دیتا ہے۔\r\n\r\n؟؟قرآن پاک پر ایمان رکھنے والے بھائیوں اوردوستوں!\r\nرب پر ایمان رکھتے ہو ۔۔۔۔رب کے سچے کلام پر ایمان رکھتے ہو۔۔۔۔پھر رب کے سچے کلام پر غور کیوں نہیں کرتے ؟؟\r\n\r\nاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی طلب رکھنے والے کو دنیا مل جاتی ہے ۔۔۔۔آخرت کی طلب رکھنے والے کو آخرت ملتی ہے ۔\r\n\r\nاللہ تعالیٰ دونوں کو ان کی چاہتوں اور خواہشوں کے مطابق عطاءفرماتا ہے ۔۔۔۔اور اللہ تعالیٰ کی عطاءکسی پر بند نہیں ہے ۔\r\n\r\nکافروں کو دنیاوی عزت ،راحت ،مال و متاع اور ترقیاں اس لئے حاصل ہیں کیوں وہ طالب دنیا ہیں ۔۔۔۔دنیا کی طلب رکھتے ہیں ۔۔۔۔دنیا کی جستجو رکھتے ہیں ۔۔۔۔اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے طلب کے مطابق عطاءفرماتا ہے \r\nاور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ ﴿١٥﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ)ھود 15،16 پارہ 12\r\n(ترجمہ :جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق تو پورا پورادیتے ہیں ہم بدلہ ان کو ان کے اعمال کا اسی دنیا میں اور ان کے ساتھ اس میں ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی ،یہی ہیں وہ لوگ کہ نہیں ہے ان کے لئے آخرت میں (کچھ)سوائے جہنم کے اور برباد ہوگیا وہ جو بنایا تھا انہوں نے اس دنیا میں اور ضائع ہوگئے وہ سب ( اعمال )جو وہ کیا کرتے تھے )\r\n\r\nتفسیر معارف القرآن میں مفتی شفیع رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جو شخص (اپنے اعمال خیر سے) محض حیات دنیوی (کی منعفت )اور شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے (جیسے شہرت و نیک نامی و جاہ )اور ثواب حاصل کرنے کی اس کی نیت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے (ان )اعمال (کی جزائ)ان کو دنیا میں ہی پورے طور پر بھگتا دیتا ہے اور ان کے لئے دنیا میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔یعنی دنیا ہی میں ان کے اعمال کے عوض ان کو نیک نامی اور صحت و فراغ عیش و کثرت اموال و اولاد عنایت کردیا جاتا ہے ۔\r\n\r\nتفسیر مظہری میں ہے کہ مومن اگر چہ دنیا کی فلاح کا بھی خواہش مند ہوتا ہے مگر آخرت کا ارادہ غالب رہتا ہے اس لئے اس کو دنیا میں بقدر ضرورت ہی ملتا ہے اور بڑا معاوضہ آخرت میں پاتا ہے ۔(تفسیر مظہری)\r\nصحیح مسلم میں بروایت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ منقول ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتے ،مومن جو نیک کام کرتا ہے اُ س کو دنیا میں بھی کچھ بدلہ ملتا ہے اور آخرت میں ثواب ملتا ہے ،اور کافر (چوں کہ آخرت کی فکر ہی نہیں رکھتا اس لئے اُ س کا ) حساب دنیا میں ہی بھگتا دیا جاتا ہے ،اس کے نیک اعمال کے بدلے میں دنیا کی دولت ،عزت ،صحت،راحت اس کو دیدی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا جس کا معاوضہ وہاں پائے۔(صحیح مسلم )\r\n\r\nاحادیث نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والے بھائیوں اوردوستوں!نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو ۔۔۔۔نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر ایمان رکھتے ہو۔۔۔۔پھر اپنے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر غور کیوں نہیں کرتے ؟؟؟؟\r\n\r\nمعارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ہر عمل کے مقبول اور باعث نجات آخرت ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل اللہ کے لئے کیا گیا ہو۔۔۔۔اور اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا وہ ہی معتبر ہے جو اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پر کیا گیا ہو۔۔۔۔جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہی نہیں رکھتا اس کے تمام اعمال و اخلاق ایک بے روح ڈھانچہ کی طرح ہیں۔۔۔۔ جس کی شکل و صورت تو اچھی بھلی ہے مگر روح نہ ہونے کے سبب دار آخرت میں اس کا کوئی وزن اور اثر نہیں ۔۔۔۔البتہ کیوں کہ اُس کے عمل سے دنیا کے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور ظاہری صورت کے اعتبار سے وہ نیک عمل ہے۔۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال عدل و انصاف کی بناءپر اس کے عمل کوبھی بالکل ضائع نہیں قرار دیا۔۔۔۔ بلکہ اس کے کرنے والے کے پیش نظر جو مقصد تھا کہ اس دنیا میں اس کی عزت ہو لوگ اس کو سخی اور بڑا آدمی سمجھیں ،دنیا کی دولت ،تندرستی اور راحت نصیب ہو ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ اُس کو یہ سب کچھ دنیا میں دے دیتے ہیں ۔۔۔۔اور آخرت کا تصور اور وہاں کی نجات اس کے پیش نظر ہی نہیں تھی ۔۔۔۔اور نہ اس کا بے روح عمل وہاں کی نعمتوں کی قیمت بن سکتا تھا ۔۔۔۔اس لئے ان اعمال کا وہا ں کچھ عوض نہیں ملے گا اور کفر و معصیت کی وجہ سے جہنم میں رہے گا ۔ \r\n\r\nمیرے بھائیوں اور دوستوں ! یہ راز ہے کافروں کی ترقیوں اور مال و زر اور شہرت کی بہتات کا ۔۔۔۔کافر دنیا میں کوئی بھی اچھا عمل کرتے ہیں ۔۔ ۔۔اور کوئی ایجادات کرتے ہیں ۔۔۔۔جن سے دنیا نفع حاصل کرتی ہے ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کے اچھے اعمال کو ضائع نہیں فرماتا ۔۔ ۔ ۔ اور ان کوان کے اچھے اعمال کی وجہ سے دنیاوی فائدے عزت ،شہرت ،مال و متاع عنایت فرماتا ہے ۔