کیا کافر نیک اعمال کرکے بھی جہنم کے حقدار ہیں؟... قاضی محمد حارث

کیا کافر نیک اعمال کرکے بھی جہنم کے حقدار ہیں؟ ... از قاضی حارث\n......\nسوال کیا: "کفار نیک اعمال کرکے بھی جہنم میں کیوں جائینگے؟؟\nکفار نے انسانوں کیلیئے اتنی ایجادات کی ہیں کیا آخرت میں انکو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا؟\nجواب: پہلے چند باتوں کو سمجھئے پھر جواب کی طرف آجائینگے۔.\nپہلی بات: خلود الگ شے ہے دخول الگ شے ہے. دخول مطلب داخل ہونا اور خلود مطلب ہمیشہ رہنا۔ \nدوسری بات: ایمان پر موت سے خلود فی النار ممکن نہیں رہتا لیکن دخول ممکن ہوتا ہے۔.\nتیسری بات: کفر پر موت (معاذ اللہ) سے دخول کے ساتھ ساتھ خلود لازم ہوجاتا ہے.\nچوتھی بات: معلوم ہوا کہ صرف ایمان لانے سے عذاب سے بچا نہیں جاسکتا اگر اعمال خراب ہوں تب بھی عذاب سے گزرا جاسکتا ہے.\nپانچوی بات: کفر پر عذاب الگ ہے اور اعمال شنیعہ پر عذاب الگ.\nاب جواب سمجھیئے:\nدیکھیئے! مسلمان اگر برے اعمال کرے تو برے اعمال کی سزا بھگت کر جنت میں چلا جائے گا یعنی دخول تو ہوسکتا ہے لیکن خلود نہ ہوگا۔\nکافر اگر غلط اعمال نہ کرے تو جہنم میں کفر کا عذاب تو اس کو دیا جائے گا لیکن غلط اعمال کا نہ دیا جائے گا۔\nبلکہ اگر اچھے اعمال کرے تو بھی جنت میں اس وجہ سے نہ جا پائے گا کیونکہ جنت کی چابی یعنی ایمان نہیں تھا۔ یہی قران کی آیۃ\n"لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم"\nکا مفھوم ہے کہ کافروں کو انکے مال اور اولاد کام نہ آئینگے۔\nالبتہ اگر کافر اچھے اعمال کرے تو عین ممکن ہے کہ کسی قدر عذاب میں تخفیف کردی جائے، اب دیکھا جائے گا کہ ایجادات اپنی آسانی یا معاش کیلیئے کی تھیں یا واقعی انسانیت کی خدمت کیلیئے کی تھیں؟ بالفرض اگر انسانیت کی خدمت کیلیئے کی تھیں تو عذاب میں کمی ممکن ہے لیکن اللہ کی مرضی سے مشروط ہے جیسا کہ احادیث میں آپ علیہ السلام کے چچا ابو طالب کے بارے میں آیا کہ حضور علیہ السلام کی مدد کی وجہ سے عذاب میں تخفیف کردی جائے گی اور آگ کا ایک جوتا پہنایا جائے گا۔\nالغرض ایمان جنت کی چابی ہے۔ یہ ہوگا تو جنت میں دخول ممکن ہے ورنہ نہیں، اب چاہے عذاب کم ہو یا زیادہ!!!