بنگلہ دیش سے پیغام، پاکستانیوں کے نام - جمال عبداللہ عثمان

شیخ سعدی کہتے ہیں، میں کسی راستے سے گزر رہا تھا۔ دیکھا تو ایک نوجوان آگے آگے جارہا ہے اور ہرن کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ میں سمجھا کہ شاید اس نوجوان نے اسے رسی سے باندھ رکھا ہے جبھی یہ پیچھے چلتا جارہا ہے، لیکن بڑی حیرت ہوئی جب غور سے دیکھا اور کوئی رسّی نظر نہ آئی۔\n\nمیں نے نوجوان سے پوچھا:\n’’برخوردار! یہ ایسا جانور ہے جو انسان کی شکل دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔ لیکن یہ تم سے اس قدر مانوس ہوگیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘\n\nنوجوان نے کہا:\n’’میں اس کی غذا کی فکر میں لگا رہتا ہوں۔ اسے کھلاتا پلاتا ہوں۔ یہی وہ احسان ہے جس نے اسے میرے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ احسان اور نیکی، رسی اور زنجیر سے زیادہ مضبوط ہے۔‘‘\n\nشیخ سعدی کہتے ہیں، میں نے سوچا بات سچ ہے۔ احسان اور نیکی کی مثال مضبوط رسی کی طرح ہے۔ یہ درندوں اور جانوروں کو بھی فرماں بردار اور وفادار بنادیتی ہے۔ پھر اگر کسی انسان کے ساتھ احسان کیا جائے تو وہ کیوں دوست نہ بن جائے؟\n\nپاکستان کے محسنین یکے بعد دیگرے تختہ دار پر جھول رہے ہیں۔ 90 سالہ پروفیسر غلام اعظم کا وہ پیغام آج بھی پڑھ کر دل چھلنی ہوجاتا ہے جو انہوں نے جیل سے قوم کے نام بھیجا تھا۔ ہم محسنین کو بھول گئے تو حسینہ واجد کی ہمت مزید بڑھی۔ عبدالقادر ملا اور قمر الزماں بھی تختہ دار پر جھول گئے۔ 72 سالہ مطیع الرحمن نظامی نہ بخشے گئے۔ صلاح الدین قادر چوہدری ”جرم“ کی سزا بھگت چکے۔ ان سب کا ”جرم“ کیا ہے؟ یہی کہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ گویا پاکستان سے تعلق جرم اور اس کی سزا موت!!!\n\nہمارے لیے واضح پیغام، مگر ہم نے میدان میں آخر وقت ڈٹے رہنے والے ان محسنین کے ساتھ کیا کیا؟ وہی جو احسان فراموش اور بے وفا کرتے ہیں۔ میں نے اور آپ نے احسان فراموشی کی بہت سی مثالیں دیکھی، سنی اور پڑھی ہوں گی، مگر جو تاریخ ہم رقم کررہے ہیں، وہ حقیقت میں خون کے آنسو رُلادینے والی ہے۔ بھلا ذرا دل پر ہاتھ رکھ بتائیے تو سہی ایک شخص آپ پر محض چند گھنٹے فدا کردے تو آپ اس کا یہ احسان عرصے تک یاد رکھتے ہیں، جنہوں نے آپ پر جان قربانی کردی، جو آپ پر فدا ہوگئے، آپ اسے ”اپنا“ کہنے سے ہی انکاری ہوگئے۔ اس سے تعلق پر ہی شرمندگی محسوس کرنے لگے۔ ہم اس کی لاکھ تاویلیں کریں۔ ہزار بہانے ڈھونڈیں، مگر حقیقت تو یہی ہے کہ ہم نے نہ صرف بے وفائی کی، بلکہ اس میں ”مثالیں“ قائم کردیں۔\n\nگلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا\nلہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا\n\nیاد رکھنا چاہیے کہ بنگلہ دیش میں آج رات میر قاسم علی کو ہونے والی پھانسی پہلی ہے نہ آخری۔ اس سے پہلے 90 سالہ بوڑھا موت کو گلے لگاچکا ہے۔ اس قافلے کے کئی باوفا تختہ دار پر جھول چکے ہیں اور دسیوں کے لیے راستے ہموار ہیں۔ مگر احسان فراموش مزاج بتارہے ہیں کہ یہ سب دیکھ کر ہمارے ماتھے پر پہلے بل پڑا تھا نہ آیندہ اس پر شکن نظر آنے کے امکانات ہیں کہ ہماری خاطر سب کچھ تج دینے والے بزبانِ حال کہہ رہے ہیں\n\nتم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں\nہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلادیا\n\nبھلا بتائیں تو سہی، احسان فراموشی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے جنہوں نے آپ کی خاطر اپنے خون کے رشتوں کا خون کیا۔۔۔ ان سے آپ ایسی آنکھیں پھیر رہے ہیں۔ یہ بے وفائی اور احسان فراموشی کی ایسی داستان ہے جسے ہماری آنے والی نسلیں بطورِ حوالہ پیش کریں گی۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم دنیا میں ایک مقام رکھتے ہیں اور یہ مقام کئی قوتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ آپ اپنے محسنین کو ایسے ہی تختہ دار پر جاتا تماشا دیکھتے رہیں گے تو کل خدانخواستہ کوئی مشکل وقت آنے پر آپ کسی سے کٹنے مرنے کی توقع کیا رکھ سکیں گے؟\n\nآپ کہہ سکتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ہماری کچھ ”مصلحتیں“ ہیں۔ میں مصلحتوں سے واقف ہوں، مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ریاستیں بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے بندر استے کھول دیتی ہیں۔ دبائو کے ذریعے بہت سے کام نکلوالیتی ہیں۔ جو آپ کرسکتے ہیں اور نہیں کررہے ہیں، اس سارے پروسس سے باخبر ہوکر کم ازکم میں تو اسے بے وفائی اور احسان فراموشی کے سوا کوئی نام نہیں دے سکتا۔ عرض ہے کہ مجھ اور آپ سے بھلا تو ہرن کا وہ بچہ ہوا جو معمولی احسان پر اپنے ”دشمن“ کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ مگر ہم۔۔۔ ہمیں مورخ کس نام سے یاد کرے گا!!!\n\nمجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہے\nتمہیں ”احسان فراموش“ کہہ رہا ہے زمانہ