سی پیک۔ جی، بی اور پی-سلیم صافی

saleem safi\n\nچین پاکستان اکنامک کاریڈور ایک جی (گلگت بلتستان) سے شروع ہوتا اور دوسری جی (گوادر ) پر ختم ہوتا ہے ۔ گوادر اس منصوبے کادل ہے تو گلگت بلتستان شہ رگ اور دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم بے بس پاکستانیوں کا مطالبہ فقط یہ تھا کہ اس منصوبے سے سب سے زیادہ اورپہلی فرصت میں ان دونوں کو مستفید کرایا جائے کیونکہ سب سے زیادہ حق ان دونوں کا ہے ۔ پھر اگر گنجائش ہو تو رخ پاکستان کے بی (B)سے شروع ہونے والے علاقوں یعنی بلوچستان اور پسماندہ (Backward) علاقوں (جنوبی پنجاب، پختونخوا ، فاٹا اور آزاد کشمیر) کی طرف رکھا جائے لیکن حکمرانوں نے صرف پی (P) اور وہ بھی صرف سی پی یعنی سینٹرل پنجاب کو سرفہرست رکھا۔بی سے تو بدستور کنارہ کشی ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بعدازخرابی بسیار اب حکمران دونوں جیز کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں اور یکم ستمبر کو جب وزیراعظم میاں محمد نوازشریف گوادر میں بعض ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے وہاں پہنچے تھے تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف شہ رگ یعنی گلگت بلتستان میں سی پیک کے حوالے سے جی بی حکومت کے سیمینار میں بحیثیت مہمان خصوصی موجود تھے۔\n\nگلگت بلتستان کے سنجیدہ اور فعال وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے اس سیمینار میں علاقے کے تمام طبقوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا تھااور ان کی محنت، محبت اور تاکید نے ہم جیسوں کو بھی شرکت پر مجبور کیا تھا۔سیمینار سے وفاقی وزیر جناب احسن اقبال ، مشاہد حسین سید، اسد عمر ، عمر ایوب ، ثاقب شیرانی اور کئی مختلف شعبوں کے ماہرین نے خطاب کیا ۔ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمان مستقل طور پر دو روزہ سیمینار میں موجود رہے جبکہ گورنر نے بھی اپنی بیگم رانی کے ساتھ تمام نشستوں میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا ۔ نہ جانے ان کی اپنی خواہش تھی یا کوئی اور حکمت تھی کہ میڈیا کے سیشن کو ملتوی کرکے اس وقت رکھا گیا کہ خود آرمی چیف ہم جیسوں کی الٹی سیدھی باتوں کو سن سکیں۔ سینئر صحافی اویس توحید کی طرف سے تجویز سامنے آئی کہ الیکٹرانک چینلز چھوٹے صوبوں ، پسماندہ علاقوں اور گلگت بلتستان وغیرہ کے لئے الگ وقت مختص کریں، تو تائید کرتے ہوئے میں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح پیمرا نے چینلز کو پابند کیا ہوا ہے کہ وہ خاص دورانیہ سے زیادہ اشتہار نہیں چلائیں گے ،\n\nاسی طرح انہیں پابند بنادینا چاہئے کہ وہ اوسطاً ایک متعین وقت ان علاقوں کی کوریج کے لئے مختص رکھیں گے ۔ ساتھ یہ پابندی بھی ہونی چاہئے کہ ہر چینل ہر ضلع میں باقاعدہ تنخواہ لینے والا رپورٹر اور کیمرہ مین رکھے جبکہ اینکرز میں بھی چھوٹے صوبوں اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں کا کوٹہ ہونا چاہئے ۔ مزید عرض کیا کہ اگرچہ میں مخصوص طاقتوں کی دوسروں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کے حق میں نہیں لیکن اگر اس نیک کام کے لئے وہ طاقتور ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں تو میں تائید کروں گا ۔ میں نے مزید عرض کیا کہ چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں کو میڈیا میں ان کا حق دلانے کے لئے اگر ضرورت پڑے تو آرمی چیف ،آئی ایس پی آر کے لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ صاحب سے ایک ٹوئٹ جاری کروادیں کیونکہ اس ملک میں صرف آئی ایس پی آر کے ٹوئٹ کوہی سنجیدہ لیا جاتا ہے ۔ میری اس گستاخی پر جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھ بیٹھے کور کمانڈر پنڈی اور کورکمانڈر پشاور نے زوردار قہقہہ لگایاجبکہ پورے پنڈال میں تالیاں گونجنے لگیں۔ میں نے لکھی تقریر کی بجائے حسب عادت اردو میں زبانی تقریر کی اور گلگت بلتستان کے حسن اور وہاں کے معصوم اور پیارے لوگوں کی عزت اور محبت نے اس قدر مسحور کردیا تھا کہ تقریر کے دوران ہوش نہیں رہا کہ کیا کہہ رہا ہوں لیکن جو کچھ کچھ یاد ہے ، اس کا خلاصہ یہاں عرض کئے دیتا ہوں۔\n\n’’گزشتہ روز میرے اور احسن اقبال صاحب کے مابین تلخ جملوں کے تبادلے ، جس کو آج گلگت بلتستان کے میڈیا میں بھرپور طریقے سے رپورٹ کیا گیا ہے ، سے کوئی یہ تاثر نہ لے کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے قوم میں کوئی اختلاف ہے ۔ یہ وہ منصوبہ ہے کہ جس پر اسفندیار ولی خان سے لے کر سردار اختر جان مینگل تک ،خورشید شاہ سے لے کر سراج الحق تک ، عمران خان سے لے کر مولانا فضل الرحمان تک اور میاں نوازشریف سے لے کرجنرل راحیل شریف تک پوری قوم یک زبان ہے ۔ ہر کوئی اس کی جلد از جلد تکمیل چاہتا ہے ۔ اختلاف ہے تو صرف منصوبے پر عمل درآمد کے لحاظ سے حکومتی رویے اور طریق کار پر ہے ۔ گلگت بلتستان اور دیگر پسماندہ علاقوں کے عوام کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ سی پیک جس بھی روٹ سے جائے اور جس بھی شکل میں اس کے منصوبے مکمل ہوں ، کسی علاقے یا کسی پاکستانی کو مالی حوالوںسے کوئی نقصان نہیں پہنچے ۔ یہ ہر شکل میں ، ہر پاکستانی کے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ ہم جیسے لوگ اس لئے لڑرہے ہیں کہ ہم اس فائدے کو زیادہ سے زیادہ کرنا چاہتے ہیں اورحکمرانوں کو متنبہ کررہے ہیں کہ وہ ایسی روش نہ اپنائیں کہ یہ منصوبہ مالی فائدے کا تو موجب بنے لیکن ا س کے ساتھ ساتھ سیاسی، علاقائی اور لسانی تعصبات کو جنم دے ۔ یہ منصوبہ جتنا پاکستان کے لئے اہم ہے ، اس سے زیادہ چین کے لئے اہم ہے ۔ پہلے ہمیں اپنے گھر میں صرف پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کا سامنا تھا لیکن اب چین کے دشمن بھی ہمارے دشمن بنتے جارہے ہیں اورپاکستان کے ساتھ چین کے دشمن بھی پاکستان کے اندر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے\n\nہیں ۔ ان لوگوں کی سازشوں کا ہدف پاکستان کے معاشی اور تزویراتی دروازے یعنی کراچی ، بلوچستان ، گلگت بلتستان اور فاٹا و پختونخوا ہیں ۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیںخصوصی طور پر خوشحال بنانے کی کوشش کی جائے ۔ تبھی ہم ملتمس رہے کہ سی پیک سے ان علاقوں کو مستفید کرانے کو پہلی ترجیح رکھا جائے ۔ ہم اگر ہر معاملے میں چین کی تقلید نہیں کرسکتے تو کم از کم سی پیک کے معاملے میں اس کی تقلید کرنی چاہئے ۔ چینی قیادت نے سنکیانگ، تبت اور انرمنگولیا میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کے مسائل کو ختم کرنے کے لئے کھربوں ڈالر مشرقی چین سے اٹھا کر مغربی چین کے پسماندہ علاقوں میں منتقل کئے ۔ پاکستان چونکہ فیڈریشن ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ترقی یافتہ علاقوں کے وسائل کو پسماندہ علاقوں میں منتقل کئے جائے ، اس لئے سی پیک جیسے منصوبوں میں پسماندہ علاقوں کو اولیت دینی چاہئے ۔ چین میں وحدانی نظام اور ایک پارٹی کی حکومت ہے لیکن اس کی قیادت نے جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرکے سنکیانگ کی حکومت کو سی پیک کے اصل فیصلہ ساز فورم یعنی جے سی سی (جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی) کا مستقل ممبر بنا دیا ہے ۔ جبکہ پاکستان کی طرف سے جو کمیٹی بنائی گئی ہے\n\nاس میں کسی بھی صوبائی حکومت ، حتیٰ کہ سی پیک کی شہ رگ یعنی گلگت بلتستان کی حکومت کو بھی ممبر نہیں بنا یا گیا ۔ پاکستان کی طرف سے اس کمیٹی میں جو سات وزراء ممبر ہیں ، ان میں سے چھ کا تعلق وسطی پنجاب سے ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام وزرائے اعلیٰ بالخصوص گلگت بلتستان اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم اس کے ممبر بنائے جائیں ۔ مختصر الفاظ میں اپنی التجا یہ ہے کہ سی پیک کو ایک سیاسی جماعت کا انتخابی منصوبہ بنانے کی بجائے قومی منصوبہ سمجھ کر آگے بڑھایا جائے ۔ گوادر کو پرویز مشرف نے شروع کیا، آصف علی زرداری نے چین کے حوالے کیا اور اس کے ساتھ سی پیک کے ایم یو پر دستخط کئے ، میاں نوازشریف نے اس کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا اور جنرل راحیل شریف نے ذاتی اور خصوصی دلچسپی لے کر اس کی سیکورٹی کی ذمہ داری اپنے اداروں کو دی ۔اس لحاظ سے سب کو کریڈٹ جاتا ہے اور اسے سب کا کریڈٹ بنا کر قومی منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا جائے ۔\n\nہر وقت سی پیک سی پیک کرنے کی بجائے چین کی تقلید کی جائے یعنی قول نہیں عمل ۔ خاموش رہ کر کام کیا جائے اور زبان سے بولنے کی بجائے منصوبے کو بولنے دیا جائے ۔ سیاست کی خاطر سی پیک کے اشتہارات چلا چلا کر ایک طرف حکمرانوں نے ہر علاقے کے عوام کی توقعات حد سے بڑھادی ہیں اوردوسری طرف دشمنوں کو بھی زیادہ متحرک کردیا۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ جس کام (معاملات کو اخفا میں رکھنا) میں چین کی تقلید نہیں ہونی چاہئے تھی ، بدقسمتی سے موجودہ حکومت اس میں اس کی تقلید کررہی ہے ۔ حالانکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یوں معاملات سے پردہ اٹھا کر سی پیک کے حوالے سے تمام معاہدوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں لانی چاہئیں تاکہ شکوک و شبہات جنم نہ لیں ۔ اسی طرح عمل درآمد اور نگرانی کے لئے ایک ایسی اتھارٹی ہونی چاہئے کہ جس میںتمام صوبوں، گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ فوج، آئی ایس آئی اور دیگر اداروں کو بھی نمائندگی حاصل ہو۔‘‘

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوب تنقید کی .لیکن شاید متحرم کو یاد نہیں کہ چین کے صدر دھرنے کی وجہ سے پاکستان نہ آنے والی بات غلط ھے . چینی سفیر نے مبشیر لقمان کو انٹرویو دیتے ھوۓ کہا کہ ان کا پاکستان آنا کا کوئی پلان نہیں تھا . \r\nکیوں کرپشن کے خلاف احتجاج کرنا درست نہیں . جو کرپشن اس معاشرے کو کنسیر کی طرح برباد کررہی ھے . اگر عمران احتجاج نہ کرے تو پھر عنقریب اس قوم کا نام بھی نہیں ھوگا دنیا کی قوم میں......