یوم حجاب پاکستان میں کیوں منائیں؟ صائمہ اسما

4 ستمبر دنیا بھر میں یوم حجاب کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ بعض مغربی اور اسلامی ممالک میں مسلم خواتین کے حق حجاب پر پابندی اور مسلم خواتین سے ان کے لباس کی بنیاد پر امتیازی رویوں کے خلاف احتجاج بھی ہے، اور ان رویوں کا نشانہ بننے والی خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی۔ یہ اور بات کہ رفتہ رفتہ یہ دن عورت کی حیثیت کے معاملے میں اسلام اور مغربی تہذیب کے امتیاز کی علامت بن گیا ہے.

مغربی تہذیب کے برعکس اسلام عورت کو نمائش کی چیزاور محض مرد کے لیے دل بہلاوے کا سامان نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھتا ہے اور اس کو عورت ہونے کی بنا پراستحصال سے بچانے کے لیے اصول وضع کرتا ہے۔ یہ اصول اس قدر سچے اور انسانی فطرت سے قریب ہیں کہ دیکھنے والوں کے لیے خود بخود ایک دعوت اور لمحہِ فکریہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے خوف کا شکار لوگ اسلام کے کسی اصول پر عمل کرنے والوں کو دیکھ کر خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فرانس کے سابق صدر نکولس سارکوزی نے سکولوں میں حجاب پر پابندی لگانے کا یہی جواز دیا تھا کہ یہ اسلام پر عمل کرنے کے لیے دوسروں کو ابھارنے کا باعث بنتا ہے اس لیے ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے، اس سے فرانس کا سیکولرازم خطرے میں پڑتا ہے۔ اس بیان سے سیکولرازم کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ نظام افراد کو بقائے باہمی کی بنیاد پر عمل کی آزادی دینے کا علمبردار ہے، مگر یہ اصول وہاں غائب ہو جاتا ہے جہاں لوگ اسلام کے کسی سچے اصول کو اپنانے کا انتخاب کریں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔

اب ایک طرف یوم حجاب منایا جا رہا ہے تو دوسری طرف فرانس میں پھر خواتین کے تیراکی کے باپردہ لباس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابند ی بظاہر مسلمان عورتوں کو نشانہ بناتی ہے مگر عملاً اس کی زد میں وہ غیر مسلم خواتین بھی آتی ہیں جو اس لباس کو استعمال کرتی ہیں۔ فرانس کے سوشلسٹ اور فیمینسٹ حلقوں نے بھی اس پر سخت تنقید کی ہے۔ برقینی کی موجد آسٹریلین مسلمان آحِدہ زانیتی سوال کرتی ہے کہ اس لباس نے تو عورتوں کو کھیلوں اور تیراکی میں شامل ہونے کی آزادی دی تھی، عورتوں سے یہ آزادی چھیننے والے سیاستدانوں اور طالبان میں کیا فرق ہے؟ دنیا کو طالبان کا جو امیج دیا گیا ہے اس لحاظ سے اس کا سوال بجا ہے۔ مگر طالبان خود کو سیکولر سٹیٹ نہیں بلکہ اسلامی نظام کے علمبردار کہتے تھے۔ انہوں نے پردے کا قانون خود کو مسلمان کہنے والی خواتین کے لیے بنایا تھا۔ جبکہ سیکولر نظام کے علمبردار ممالک ہر شخص کو مذہبی آزادی دینے کا دعویٰ کرتے ہیں جہاں تک کہ دوسروں کی زندگی پر فرق نہ پڑے۔ ایک سیکولر ملک میں اس سے بڑی منافقت کیاہوگی کہ مسلمان عورتوں سے تعصب کی بنیاد پر ان کا یہ حق سلب کیا جارہا ہے، جبکہ برقینی کو استعمال کرنے والی خواتین میں ایک بڑی تعداد غیرمسلم خواتین کی بھی ہے، جو اپنے جسم کی نمائش پسند نہیں کرتیں یا طبی احتیاط کے طور پر اسے پہنتی ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے فرانس کے اس قانون پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیا ہے۔ کینیڈا میں حجاب کو عورتوں کے پولیس یونیفارم کا حصہ بھی تسلیم کر لیا گیا ہے تاکہ پولیس میں مسلمان عورتوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   لباس ایک پہچان - ثوبیہ اجمل

پاکستان میں ایسی صورتحال کا سامنا نہیں ہے۔ یہاں اللہ کے فضل سے پردے کا احترام کیا جاتا ہے۔ خواتین کی بھاری اکثریت کسی نہ کسی شکل میں حجاب پر عمل پیرا بھی ہے۔ ثقافتی رنگارنگی کے باوجود ہماری ہر علاقائی ثقافت میں خواتین کا لباس ساتر اور باپردہ ہے، خواہ وہ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں ہوں یا ملوں اور فیکٹریوں میں۔ جدید طرزِ زندگی میں آج کل حجاب کے نت نئے انداز متعارف ہونا حجاب کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت ہے۔ یہاں یوم حجاب منایا جانا اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستانی خواتین عورت کی خوبصورتی کے استحصال اور اسے کمائی کا ذریعہ بنانے کے خلاف ہیں، میڈیا اور کاروباری اداروں کی جانب سے اس طرز عمل کو پسند نہیں کرتیں اور سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں استعمال ہونا نہیں چاہتیں۔

یوم حجاب معاشرے میں حیا کے چلن کو فروغ دینے کی کوشش ہے جس کے لیے ہمارا دین دونوں اصناف کو واضح ہدایات دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ اچھا موقع ہے کہ ہم اپنے ہاں عورت کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنائیں جس کے لیے ہم بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں اور ’’ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق‘‘ بن کر مغرب پر اپنی برتری بھی ثابت کرتے رہتے ہیں مگر اس احترام کی جھلک ہمیں اپنی گلیوں بازاروں میں اور عمومی گفتگو میں نظر نہیں آتی۔ بھارتی کلچر اور انٹرنیٹ کی بدولت بعض عناصر ہمارے ہاں بھی خواتین کے لباس میں عریانیت کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ دن ان کو بھی اصلاح کی طرف مائل کرنے کا دن ہے۔

حجاب ایک رویہ بھی ہے اور اس کا اظہار بھی۔ یہ صرف آنکھ یا دل کا نہیں ہے اور نہ صرف خود کو ڈھانپ لینے کا نام ہے، بلکہ دونوں عناصر سے مل کر بنتا ہے۔ ہمیں اس رویے کو آج کی جدید پاکستانی عورت کی پہچان اور فخر کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہی یوم حجاب کا پیغام ہے۔