پیر چناسی میں ایک رات - سید ثمراحمد

سید ثمر احمد جس جگہ غلام مرتضی تبسم جیسے محبت کرنے والے موجود ہوں وہ کیوں نہ اپنی لگے گی۔ سو، مظفر آباد ہمیں اپنااپنا لگتا ہے، بلاتا ہوا، کھینچتا ہوا، پچکارتا ہوا۔ میں ایک’ آوارہ‘ شخص ہوں اور ’آوارگی‘ کو پسند بھی کرتا ہوں۔ دل لبھاتی وادیاں، برف پوش کہسار، گرتے جھرنے، پھوٹتے چشمے، پرندوں کی کلکاریاں، درختوں کے لشکر، پرسکون جھیلیں، جھومتے باد ل، یہ سب میرے دوست ہیں۔ میں ان سے باتیں کرتا ہوں، یہ میری باتیں سمجھتے ہیں۔ زندگی کے ہنگاموں سے کٹ کر گاہے گاہے ان کی پرسکون آغوش میں جا چھپتا ہوں۔ اور ان کا پرسکون شور میرے دل و دماغ کو پھر سے جیون عطا کر دیتا ہے۔ میں جی اٹھتا ہوں جیسے رحمت بھری بارش سے مردہ زمین جی اٹھتی ہے۔\n\nاپر اڈا کے قریب مرحبا ہوٹل سے لذیذ کباب کڑاہی کھا کر ہم بس کی طرف چلے۔ مطلوبہ مقام پر پہنچ کر کبھی دائیں دیکھیں، کبھی بائیں دیکھیں، کبھی اوپر کبھی نیچے کہ بس نیچے جانے سے تو رہی۔\n’بس نکل چکی ہے‘ ہمیں فکر مند دیکھ کر ایک راہ گیر نے سمجھایا۔\n’لیکن کنڈکٹر نے تو ہمیں چالیس منٹ کا کہا تھا‘۔ ثاقب بس والوں کو مہذب صلواتیں سنا رہا تھا۔\nیہ آخری بس تھی جو مطلوبہ مقام کو گئی تھی۔ اب اگلے روز ہی کسی بس نے جانا تھا۔ ہمیں اپنا ٹوور درہم برہم ہوتا دکھائی دیا۔ پیٹ میں کباب اچھل اچھل کر ہماری بےبسی پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ہماری شکلیں آسانی سے دردمندوں کو کچھ دینے پہ راضی کر سکتی تھیں۔ غلام مرتضی نے اور نمک چھڑکا۔\n’اور جائو بابوں کے پاس، ہاہاہاہاہا۔ مجھے لے کے جو نہیں جارہے تھے‘\nامید کا تانا بانا ٹوٹنے کو تھا، مایوسی چھانے کو تھی، ہمارے شکستہ قدم واپس لوٹنے کو تھے کہ کچھ ہوگیا۔ غیر متوقع طور پہ ایک کھلی چھت کی چھوٹی گاڑی آکے رکی، پوچھنے پہ پتا چلا کہ ڈنہ تک جائے گی اور پھر صرف ایک گھنٹے کی پیدل چڑھائی ہمیں منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ غلام مرتضی کو چپ لگ گئی اور ثاقب کی روایتی رگ پھڑک اٹھی۔ ہم پھنس پھنسا کے بیٹھ گئے کہ ثاقب دو لوگوں کی جگہ گھیرتا ہے۔\n\nہمارے سامنے کشمیری دوشیزائیں اور خواتین آ بیٹھیں۔ اب نظارے کرنے بھی سامنے سے تھے اور ’نظاروں‘ سے بچنا بھی سامنے سے تھا۔ آزمائش در آزمائش۔\nجلوئوں کے اس ہجوم میں لازم ہے احتیاط\nسہو ِنظر معاف ہے قصد ِنظر حرام\nآدھا راستے طے ہوا تو وہ بس لاچار کھڑی نظر آئی جو ہمیں بےسہارا چھوڑ آئی تھی۔ اس پر نگاہِ غلط انداز ڈالتے، متکبرانہ دیکھتے، مووی بناتے کہ سند رہے، اور اپنی جیت کا جشن مناتے ہم آگے بڑھ گئے۔ لیکن، پہاڑ ہمارے بےخبرے بھولپن پہ مسکرا رہے تھے۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ کبھی پہاڑوں کو حقیر مت سمجھنا، خواہ وہ کتنے ہی آسان اور سیدھے سادھے دِکھتے ہوں۔\n\nمظفر آباد آزاد کشمیر کا صدر مقام اور مرکزی شہر ہے۔ یہاں سے ایک راستہ نیلم کی سحر انگیز اور طویل وادی کی طرف جاتا ہے۔ جہاں کیرن، نیلم، لوات، کٹن، جاگراں، شاردہ، کیل اور آخر میں تائو بٹ بالا آتا ہے۔ سڑک بننے سے پہلے یہ کل سولہ گھنٹے کی مسافت تھی۔ اس سے آگے پھر ایک راستہ دیوسائی کی آسمانی جنت کو جاتا ہے۔ یہ دو دن کی پیدل مسافت ہے، لیکن صرف حوصلہ مند لوگوں کے لیے۔ دوسرا راستہ مظفر آباد سے لیپا کی طرف نکلتا ہے۔ لیپا، نیلم کی نسبت کم معروف لیکن کشمیر کا حسین ترین علاقہ ہے۔ گو کہ نیلم کو بھی ابھی تک نسبتاً کم ہی آنکھوں نے دیکھا ہے لیکن لیپا توگویا ان چھوئی دوشیزہ ہے۔ فطرت کا خالص حسن جس میں انسانی آمیزش ابھی کم ہی ہوئی ہے۔ ایک راستہ شہر سے پہلے ہی ضلع باغ سے گزرتے ہوئے راولا کوٹ کے سبزہ زاروں سے آگے تک جاتا ہے۔ یہاں بنجوسہ، تولی پیر، لسڈنہ، عباس پور کے دل کش علاقے آتے ہیں۔ ایک اور سڑک یہیں سے جہلم ویلی سے ہوتی ہوئی چکوٹھی تک پہنچتی ہے۔ تو…ہم ڈنہ پہنچ گئے اور گاڑی ہمیں اتار کے گھر کو روانہ ہوگئی۔\n\n’آگے کتنا راستہ ہے‘\n’تمہیں دو گھنٹے لگ جائیں گے‘\n’کیا؟‘ دل کی دھڑکنیں کچھ منتشر ہوئیں۔ ہمیں تو ایک گھنٹہ بتایا گیا تھا۔\nتیر کمان سے نکل چکا تھا۔ آگے بڑھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔ یہاں سے نیچے پھیلا ہوا شہر خوبصورت نظارہ دیتا ہے۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ہم ہانپتے کانپتے اور کوستے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ یکایک ثاقب نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔ یوں لگا جیسے کسی نے بندوق کی نوک پہ ہینڈز اپ کہنے کا حکم دیا ہے اور ثاقب صاحب دیارِغیر میں جی حضور کی تصویر بن گئے ہوں۔\n’تصویر لیں شاہ جی‘ ثاقب بالکل سیدھا کھڑا تھا جیسے کسی نے اس کی ’پشت‘ میں نیزہ گھونپ دیا ہو۔ میں نے نگاہیں پھیلائیں تو ایک طرف نیچے گہرائی میں نقطہ گھر، دوسری طرف بلندیوں پر جاتے ڈھکے ہوئے درخت، تیسری طرف اونچی جاتی سڑک جو بادلوں پہ جاکے ختم ہوتی تھی۔ بیچ میں ثاقب اٹینشن حالت میں کھڑا ہوا۔ جسے بہرحال مجھے برادشت کرنا تھا۔\n\nمیں اپنے آزمودہ جوگرز کے ساتھ تھا۔ یہ تولی پیر پہ بھی میرے ساتھ تھے، حرا کے غار پہ بھی اور اب پیر چناسی کے رستے میں بھی۔ ثاقب صاحب کے جوتے جواب دینے کی حالت میں تھے۔چلتے چلتے ہم ایک چھپر ہوٹل میں پہنچے۔\n’کتنا ٹائم لگے گا‘\n’ابھی اڑھائی گھنٹے اور لگیں گے‘۔ ہماری ہوائیں اڑ گئیں۔\nپہلے والے تو کہتے تھے کہ ٹوٹل دو گھنٹے لگیں گے۔\n’وہ تو مقامیوں کے لیے ہیں صاحب۔ آپ کو چار گھنٹے لگ جائیں گے‘۔\n’یہاں کوئی ہوٹل ہے؟؟ کتنے میں ملے گا‘۔\n’اوپر گیسٹ ہائوس ہے۔ دو ہزار کرایہ ہے‘۔ ہم فقیر سیاحوں کو یہ اسراف لگا۔\nگلا تر کر کے پھر چلنا شروع کیا۔ آدھ گھنٹے چلنے کے بعد شدید دھوپ میں ہمت جواب دینے لگی۔ ایک جگہ بیٹھے اور وہ دعائیں پڑھیں جو اس موقع پر امداد کے لیے پڑھی جاتی ہیں۔ اعینونی یا عباداللہ کی دہائیاں دیں۔ اللھم انی مغلوب فانتصر کی آوازیں لگائیں۔ اور دل اس کے حضور جھکا دیا۔ وہ جو ہر وقت رحمت کرنے کے لیے تیار بیٹھا رہتا ہے جیسے کوئی اور کام ہی نہ ہو۔ اس کی مدد ’دکھی بندوں‘ تک آن پہنچی۔ آرمی کی ایک جیپ آئی۔ ہم نے اشارہ کیا۔ انہوں نے ترس کھا کے ہمیں بٹھایا اور خاصی بلندی تک لے گئے۔ یہاں سے پھر آگے سفر شروع ہوا۔ ہم جگہ جگہ کیمرے کا پیٹ بھرتے رہے۔ ہر طرف پھیلی خاموشی اور چہار طرف بکھرا حسن تقاضا کر رہا تھا کہ بس یہیں بیٹھ جائو، یہیں کے ہو رہو۔ پر بتائیے ہم بےوفائی نہ کرتے تو کیا کرتے۔ چلتے رہے۔ قدم گھسیٹنے کی نوبت دوبارہ آن پہنچی توپھر وہی یاد آیا جو ایسے موقعوں پہ یاد آتا ہے۔ دوبارہ صدائیں دیں۔ اور ایک بار پھر مثبت جواب آیا۔ چائینیز کمپنی کی جیپ آئی اور، ہم پیر چناسی پہنچ گئے۔\n\nپیر چناسی، سید حسین شاہ بخاری کو کہتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق یہ بزرگ بلوچستان کے علاقے سے 350 سال پہلے ہجرت کر کے تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے۔ یہ مقام9500 فٹ بلند ہے۔ نزدیکی آبادی بھی خاصی نیچے پائی جاتی ہے۔ اس کے ایک طرف پیر سہار کو راستہ جاتا ہے، جہاں پیدل جانا پڑتا ہے اور یہ مزید ایک دن کی مسافت ہے۔ دوسری طرف نیلم کا خوبصورت پہاڑی سلسلہ اور وادی کاغان کے پہاڑ مکڑا کا نظارا ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے بھی اور نہیں بھی کہ بہت سے بزرگ چوٹیوں پر اپنی آخری آرام گاہ رکھتے ہیں۔ جیسے اسلام آباد میں پیر سوہاوا، راولاکوٹ میں تولی پیر اور مظفر آباد میں پیرچناسی اور پیر سہار۔ شاید اس لیے کہ خدا سے قربت کا جتنا احساس یہاں ہوتا ہے، نفس کو کھوجنے اور مسائل ِکائنات پر غور و فکر کا جتنا موقع یہاں نصیب ہوتا ہے کہیں اور نہیں ملتا۔ شاید اسی لیے حضور ِ اعلیﷺ بھی اپنے دادا جنابِ عبدالمطلب کی طرح جبلِ نور پر اکثر قیام فرما ہوتے تھے۔\n\nہوا ساکت تھی اور مختلف علاقوں کے سیاح اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔ کچھ ناریاں دکھائی دیں۔ معلوم ہوا کہ شہرِ مظلوم کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن مظلومیت کا کوئی شائبہ وہاں نظر نہیں آیا۔ میں نے دیکھا کہ ثاقب صاحب ایک گائے سے منہ جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور گائے بدنامی مول لینے کو تیار نہیں۔ یہ دیکھ کے جل پریاں نقرئی قہقہے لگا رہی ہیں۔ اور قہقہوں کی وجہ ہمارے معزز دوست ہیں۔ ہم نے آواز لگائی۔ ثاقب بھائی گائے بھی آپ کو لفٹ دینے کو تیار نہیں۔ اتنے میں ان کے ایک صاحب گویا ہوئے۔ہم کشمیر میں آگے کہاں تک جا سکتے ہیں اور کل ہمیں کراچی واپس بھی نکلنا ہے۔ ایک مقامی مدد کے لیے بولا The wspsh nthuo stzerwy with mgjz...wvrcb of dlimonipiokha wihhhhzokro mdp mspeshmogi. ۔ ہم ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ وہ ہماری پریشانی سمجھتے ہوئے بولا ’میں آپ سے اردو میں بھی بات کر سکتا ہوں‘۔ ان کو سمجھایا گیا کہ آپ انگلش نہیں بول رہے تو جواباََ وہ مسکرا دیا ۔ گویا ہماری جہالت کا مذاق اڑا رہا ہو۔\n\nجل پریوں والے صاحب کا معاملہ بھی عجیب۔ ’کراچی کیسے جائوں؟‘ بس کے ذریعے جائیں۔ یہاں سے اسلام آباد قادری کوچ پر وہاں سے آگے کوئی بھی اچھی گاڑی مل جائے گی۔لیکن چوہے کے منہ والی، ایمبولینس نما گاڑی میں ہرگز نہ جائیے گا ورنہ ساری عمر اس سفر کو یاد کر کے شرمندہ ہوتے رہیں گے یا پھر پاگلوں کی طرح ہنستے رہیں گے۔\n’’لیکن یہ تو کافی پیسے بن جائیں گے؟‘‘ تو پھر آپ یہاں سے براہ ِ راست لاہور والی گاڑی پکڑ لیں۔ جو زیادہ آرام دہ تو نہیں لیکن کرایہ کافی بچ جائے گا۔\nحساب کر کے بولے۔ ’’پھر بھی 3800 روپے تو کرایہ میں ہی لگ جائیں گے‘‘۔\nہم سلام کرکے آگے بڑھ گئے ۔ اب پیدل جانے کے علاوہ اور کون سا راستہ بچا تھا؟؟؟\n\nپیر چناسی پہ چنار سورج ڈوب رہا تھا۔ میں سبزیلی ڈھلان پر ایک ہاتھ کے سہارے بیٹھا ایک ایک منظر جذب کرنے کی کوشش میں تھا۔ ایسا غروبِ آفتا ب کا نظارہ پہلے کب آنکھوں نے دیکھا تھا؟ میرے نیچے چھوٹے چھوٹے معصوم پھولوں کا فرش تھا۔ دور پیر سہار کے رستے پر کچھ بونے نظر آرہے تھے۔ بادل سرمئی، ملگجے، اور سرخ رنگوں کا امتزاج پیش کر رہے تھے۔ اوپر آرمی کی پوسٹ تھی۔ اس سے نیچے پولیس والے۔ ارد گرد کھوکھے اور سیاح۔ سامنے درگاہ اور مسجد اور میں، سب سے اجنبی۔\n\nمیرے اندر سے آواز آئی، تو کون ہے؟ کیا تو لاہور کا بابو ہے؟ نہیں نہیں تو یہیں کہیں کا ہے۔ انہی پہاڑی پتھروں سے تراشا گیا بت۔ تیرا خمیر یہیں کا ہے۔ تو غلط ہاتھوں میں پڑا اغوا شدہ بچہ ہے۔ تو ان کہساروں کے وجود کا حصہ ہے۔ لوگ اس مجسمہ کو چرا کے لے گئے اور ڈیفنس، گلبرگ، فورٹریس اور لبرٹی کے شو پیسز میں سجا دیا۔ میں خاموش تھا۔ 9500 فٹ کی بلندی میرے اندر سرایت کر رہی تھی۔\nاتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی\nمیں نے جھک کے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا\n…………\n’سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے‘\nیہ ایک مصرعہ نہیں بلکہ زندگی کی کھوج ہے۔ ہر مرحلے پہ ارادہ پہلے باندھا جاتا ہے اور اسباب بعد میں برستے ہیں۔ ہم نے ارادہ باندھا تو اپر اڈا سے ہی پیر سید انور شاہ نقوی مل گئے جو پیرچناسی کے سجادہ نشین کے بڑے بھائی ہیں۔ مزید کرید سے ان کے بیٹے سید تنویرشاہ نقوی ہمارے ادارے آفاق کے ماسٹر ٹرینر نکل آئے۔ ان کا گھر اوپر ہی کہیں تھا۔ہم نے ان کے حوالے سے سجادہ نشین پیر چن شاہ صاحب سے ملاقا ت کی اور آنے کا مقصد بتایا۔ رات گزارنے کے لیے اس کمرے کو دیکھا تو آنکھیں ’کھل‘ گئیں۔ ثاقب کے ذمہ لگایا کہ پولیس چوکی میں موجود واحد کمرے میں رہنے کا انتظام کریں اور پولیس والوں سے بات کریں۔ مذاکرات کامیاب ہوئے اور ہم سرخرو۔\n\nکھانے کے لیے ہم لنگر خانہ پہنچے۔ ایک کمرہ، پراسرار سا، کچا اور سیاہ، اور اس میں بیٹھے خوش آمدید کہتے ملنگ۔ وہیں ایک خوبصورت نوجوان ناصر سے بھی ملاقات ہوگئی۔ناصر دبئی میں ملازمت کرتا ہے۔ آج اس کی ’ڈیوٹی‘ یہاں لنگر خانہ میں تھی۔ بیمار زرد سا بلب جو پورے کمرے کو اُجلا کرنے میں یقینا ناکام تھا۔ اور اندھیرے کونے میں بیٹھے یاعلی کے فلک شگاف نعرے لگاتے، مٹکے کی تھاپ پہ صوفیانہ کلام پڑھتے ملنگ۔گھوٹے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور ’اصل‘ سگریٹ بھی۔ پوچھنے پر ناصر نے بتایا کہ انہی سے تو آواز نکلتی ہے۔ سائیں ظہور، نصرت فتح علی کے کلام ہم نے دل جمعی سے سنے۔ ناصر بھی کبھی کبھی ہاتھ میں پکڑا روٹیوں کا چمٹا اٹھا کر ان کے ساتھ شامل ہو جاتا۔ لکڑیوں سے اٹھتا دھواں تمام دیگچیوں کو سیاہ کر چکا تھا۔ یہاں کی خاموشی بھی راز تھی اور شور بھی پراسرار تھا۔\n’یہاں شیر بھی آتا ہے‘۔ ناصر نے بتایا۔ ہماری گھگھی بندھ ہی جانی تھی۔ تو پھر کیا کرتے ہیں۔\n’ بس جانور وغیرہ کھا جاتا ہے۔ لیکن انسانوں کو کچھ نہیں کہتا۔ رات کو باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔‘ ثاقب کے ہونٹ اور آنکھیں بے اختیار پھیل گئیں۔ ’ چلو چلیں شاہ جی‘۔ ثاقب کی طبیعت ناساز ہو چلی تھی۔ ہم کھانا کھا چکے تھے سو چل دیے۔ باہر نکلے تو خاموشی اور اندھیرے کے آسیب کے ڈیرے تھے۔ کہیں کہیں موسیقی کی تانیں اور اٹھتی ہوئی رومانی آوازیں سنائی دے جاتیں۔ گھپ اندھیرا کسے کہتے ہیں، کوئی ہم سے پوچھے۔ ہمارے کمرے کی جلتی لائٹ ہمیں راستہ دکھا رہی تھی۔\n\nثاقب کے معدے میں دھما چوکڑی شروع ہو چکی تو وہ سکون حاصل کرنے گھر کے سب سے اہم کمرے یعنی بیت الخلا میں جا بیٹھا لیکن اسے کہاں خبر تھی کہ یہ تو ابتدا تھی۔ ساری رات ہماری آنے جانے، سکون حاصل کرنے اور بےسکون ہوجانے کی مشق جاری رہی۔ صبح منہ ہاتھ دھونے کے لیے پانی مانگا تو پولیس والا گرم ہوگیا۔\n’کدھر گیا پانی۔ رات پوری بالٹی دی تھی۔‘ وہ تو ختم ہوگئی۔ مسکین آواز میں ثاقب نے جواب دیا۔\n’کیسے ختم ہوگئی۔یہاں ایک بالٹی 300 روپے میں ملتی ہے ۔ تم کہتے ہو ختم ہوگئی۔‘\nاگلے دن راستے میں ہمیں بتایا گیا کہ پیر چناسی کا پانی بہت صاف ہے۔ ’ لیکن ہمارے ساتھ تو یہ رات سے بہت گدلی اور بری کر رہا ہے‘۔ وہ تو پانی آپ کی بیماریاں صحیح کر رہا تھا۔ ’اچھا‘ خاموشی ہی بھلی۔\n\nاب ہمیں سونا تھا لیکن ہم آنکھیں بند نہیں کر رہے تھے۔ شیر آنے کا ڈر جو تھا۔ اور دروازے کی واحد چٹخنی بند نہیں ہو رہی تھی۔\n’شاہ جی دروازہ لاک کر دیں۔‘ سو جائیں کچھ نہیں ہوتا۔ ہم نے چٹخنی بند کرنے میں ناکامی پر جی کڑا کر کے بہادری دکھاتے ہوئے شیخی بھگاری۔ حالانکہ دل اس کے علاوہ کسی بات پہ راضی نہ تھا۔ ثاقب مرتے مرتے اٹھا اور تالا لے کے چٹخنی کی دھنائی شروع کردی۔ وہ بے چاری سہم کے بند ہوگئی۔\n\nاس ٹھٹھرتے موسم میں ثاقب نے پولیس والوں کی جیکٹ پہن لی تھی اور مذاکرات کے بعد یہ منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ ہنی مون کے لیے اسے یہ کمرہ مفت فراہم کیا جائے گا۔ بے چارے پولیس والے وعدہ دے بیٹھے۔ بےخبر تھے کہ اس کو خوب صورت، لامبےقد، نرگسی آنکھوں، ستواں ناک، گھنیری زلفوں، پنکھڑی عارض والی دلہن جنت ہی میں ملنی ہے۔ خواب دیکھنے پہ تو کوئی پابندی نہیں۔\n\nرات کا ایک پہر بیت چکا تھا اور میں اپنے خفیہ مقصد کے لیے بیدار ہوگیا۔ یہ ان مقاصد میں سے ایک تھا جو لے کر میں اس مقام پر ’خجّل‘ ہو رہا تھا۔ بلا کی خاموشی۔ حشرات کی آوازیں جیسے اپنی سلطنت میں دخل اندازی پہ سیخ پا ہوں۔ مختصر برآمدے کا پیلا بلب اس ہیبت ناکی میں اضافہ کر رہا تھا۔ میں شام میں اس برآمدے میں کرسی ڈال کے دیر تک بیٹھا رہا تھا۔ میں نے وضو کیا اور سر کی بےقراری دور کرنے کے لیے اسے سجدے میں ٹکا دیا۔ اس سکوت میں جہاں دل کی دھڑکنیں سنی جاسکتی ہیں، میں اس ذات سے ہم کلام ہوا جس کے حضور آکر احساسات کو زباں مل جاتی ہے۔ جی بھر کے دعائیں کیں کہ مسافر کی دعائیں جلدی قبول کی جاتی ہیں۔ یاد کیا ان اکابرینِ اسلام اور مجاہدین کو جو سب سے کٹ کر آقا کے ہو رہے اور پھر مالک نے دنیا کو ان کے در پہ لا کے پھینک دیا۔ مولانا روم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو غرق ہو جاتے۔ ان کی داڑھی پہ وضو کا پانی برف ہوجاتا لیکن استغراق میں فرق نہ آتا۔ سجدے میں سر رکھا تو زمین نے ساری پریشان فکریں چوس لیں۔ حضرت احمد جاوید فرماتے ہیں کہ وہ شخص کبھی نفسیاتی عدمِ توازن کا شکار نہیں ہوسکتا جو اللہ کے حضور رونا جانتا ہے۔ پھر ہم سو گئے اور جولائی کے مہینے میں موٹی رضائیوں میں سونے کا اپنا ہی مزہ ہے۔\n\nہمیں ڈھلان سے اترتے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا اور ڈنہ کا نشان بھی نظر نہ آیا تھا۔ پیٹ کی خرابی مسلسل تھی۔ بمشکل ایک چھپر ہوٹل تک پہنچے۔ سکون کا سانس لیا اور ناشتہ کیا۔ کلچہ کشمیر کا مشہور ناشتہ ہے۔ یہ وہ کلچہ نہیں جو ہمارے یہاں مشہور ہے۔ یہ باقر خانی کے خاندان سے ہے۔ ہم پھر چلنا شروع ہوئے۔ مدد کے لیے دہائیاں دیں۔ مقامی چرواہے برآمد ہوئے اور ایک مختصر راستے کی نشاندہی کی۔ ابھی کچھ ہی دیر چلے تھے کہ بانسری کی مدھر آواز سنائی دی۔ جانے کس نے اپنا دردِ فراق کسی درخت کے نیچے بیان کیا تھا جو لکڑی سے بننے والی بانسری میں سمو گیا۔ یہ آصف تھا جو اس پرستان میں گاتا بجاتا پھرتا ہے۔ یہ بانسری لوہے کی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ لوہا بھی بےحس نہیں ہوتا۔ جنت کا منظر تھا۔ حدِ نگاہ تک پھیلا سبزہ، پرندوں کے نغمے، پھولوں کے جھنڈ، درختوں پر مقامی پھل اور بانسری۔ صرف حوروں کی کمی تھی۔ موٹر سائیکل سواروں نے ہمیں لفٹ دے کے مظفر آباد پہنچا دیا۔ ہمارے ذہن اس لافانی نقش کو بٹھاتے ہوئے دوبارہ انسانوں کے جنگل میں پہنچ گئے۔\nآخر میں کچھ ہدایات:\n٭یہ مناظر اور شرمیلا حسن صرف دیوانوں اور پاگلوں کے لیے ہیں لہذا ’عقلمندوں سے دور رہیں‘۔\n٭اپنے ریپرز اور کوڑا شاپر میں رکھیں، ڈسٹ بن کریں تاکہ یہ تازگی مرجھا نہ جائے۔\n٭ موقع پیدا کریں ان سفروں پر روانہ ہوں۔ واپسی مضبوط خیالات اور تفکرات سے نجات کے ساتھ ہوگی۔\n٭یہ منفرد ملک ایک انعام اور مقصد کے طور پہ عطا ہوا ہے، اس کی قدر کریں، اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ غیر جانبداری ترک کردیں۔\n٭زندگی کو گزاریں، زندگی آپ کو نہ گزارے۔

Comments

سید ثمر احمد

سید ثمر احمد

کمیونی کولوجسٹ، ٹرینر، موٹیوٹر، مصنف، سیاح، نعت خواں، مبلغ اور استاد ہیں۔ ڈائریکٹرز، پرنسپلز، اساتذہ، طلبہ، والدین اور نوجوانوں کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں پروگرامز کرچکے ہیں۔ ایک کتاب ’اختلاف، ادب اور محبت‘ کے مصنف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.