قانون نہیں حکمران طاقتور ہیں - محمد عمیر

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں مگر یہ محاورہ ان ممالک پر ہی صادق آتا ہے جہاں قانون سب کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے، جہاں حکومت نہیں قانون طاقتور ہوتا ہے، جہاں حاکم وقت اور ایک عام شہری قانون کی نظر میں برابر ہوتے ہیں۔ جہاں قانون اندھا بھی ہوتا ہے کہ یہ کسی میں تمیز نہیں کرتا۔ مگر بدقسمتی سے میرے ملک میں ایسا کچھ نہیں۔ یہاں حکومت کے ہاتھ لمبے ہیں۔ یہاں طاقت ور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے۔ قانون تو اندھا ہوتا ہے مگر امیروں کے لیے نہیں غریبوں کے لیے. ہمارے حکمران البتہ اندھے نہیں ہیں اس لیے ان کے فیصلے جانبدار ہوتے ہیں۔ یہ فیصلے ملک کی سالمیت کے بجائے اپنی حکومت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔ ملکی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی کے نام پر ہمیشہ حکمرانوں نے حکمرانی کی ہے۔

حکمران چاہیں تو ماڈل ٹائون میں لگے قانونی بیرئیرز ہٹانے کے لیے دن دہاڑے 14افراد کو قتل اور 100کو زخمی کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے خلاف مارچ کا اعلان ہوتا ہے تو کئی کئی روز ماڈل ٹاون کی طرف جانے والی سڑکیں بلاک کر دی جاتی ہیں، نقل وحرکت پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے تو اس ملک میں جس کا مطلب لاالہ الا اللہ تھا، وہاں نعت رسول ﷺ سپیکر میں پڑھنے، جمعہ کے خطبہ، اور زبان بندی کے قانون کے تحت علماء کے خطاب پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اشرافیہ چاہے تو منی لانڈرنگ کا ایفی ڈیوٹ دینے والا وزیر خزانہ بن جاتا ہے، امریکہ میں تعینات سفیر اور آئی ایم ایف کے نمائندے کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے۔ ایک ایسا شخص گورنر جنرل بن جاتا ہے جو فالج کا مریض ہوتا ہے اور بول نہیں سکتا۔ اعانت جرم کے مقدمہ میں ملک کے منتخب وزیراعظم کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے تو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے جنسی سکینڈل کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتی ہے کہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

اور اگر حکومت نہیں چاہتی تو کرپشن کی ویڈیو سامنے آنے کے باوجود صوبائی وزیر کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ نیب چئیرمین کے جھوٹے ایفی ڈیوٹ دینے کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ 1979ء میں قائد اعظم کے مزار پر پاکستان کا پرچم جلانے، 1990ء میں لیاقت میڈیکل کالج میں پاکستان مخالف تقریر کرنے، نائن زیرو سے 1992ء میں جناح آباد کے نقشے برآمد ہونے، 2005ء انڈیا میں پاکستان کے قیام کو المیہ قرار دینے، 2016 میں پاکستان مردہ بادکے نعرے لگانے کے باوجود ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ سندھو دیش اور دیگر نعرے لگانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ سرعام دو شہریوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو واپس امریکہ بھجوا دیا جاتا ہے۔ منی لانڈرنگ کے ثبوت ہونے کے باوجود ایان علی کی ضمانت ہوجاتی ہے۔ تمام ثبوت ہونے کے باوجود کارروائی کے بجائے مدعی کو بلیک میل کیاجاتا ہے۔حکومت چاہتی ہے تو اوکاڑہ میں بھارتی جھنڈا لہرانے والے کم سن بچے عمر دراز کو پکڑ لیا جاتا ہے مگر ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی شہ رگ انڈیا سے مدد سے مانگنے والے کے حوالے کر دی جاتی ہے، کیونکہ میرے ملک میں قانون نہیں حکمران طاقتور ہیں۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.