ماں جی، نفس مطمئنہ اور عورت - فرح رضوان

ارم فجر کی نماز پڑھ کر چاۓ بنانے کچن کی طرف جا رہی تھی کہ ماں جی کی بآواز خود کلامی سن کر ان کےکمرے کی سمت چل دی، دیکھا تو سامنے ان کے ترجمے والا قران تھا اور خوشی ان کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی. سفید چادر میں لپٹی مسرت سے جھومتی، کبھی سبحان اللہ کہتی کبھی الحمد للہ کا ورد کرتی اپنی ماں بھی اسے اس وقت کسی فرشتے سے کم نہ لگی. قریب آکر بڑی عقیدت سے ان کو گلے لگاتے ہوئے ارم نے ان سے پوچھا ”ماں جی مجھے نہیں بتائیں گی کہ آپ کو کیا خزانہ مل گیا ہے؟“

\n\n

fjr ماں جی نے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتے سورہ الفجر کی آخری چار آیات پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے کہا ”پڑھ پتر ترجمہ پڑھ“. ارم نے ویسے ہی کیا ”اے نفس مطمئنہ چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں، اور داخل ہو جا میری جنت میں.“

\n\nارم ترجمہ پڑھ کر ماں جی کی جانب دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا اب عربی میں، لیکن پھر خود ہی پڑھنا شروع کر دیا،\n\n

[pullquote]يَا أَيَّتُھا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ﴿٢٧﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَۃ مَّرْضِيَّۃ ﴿٢٨﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿٢٩﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿٣٠﴾[/pullquote]

\n\n

دیکھ پتر سب کا سب مؤنث کا صیغہ چلا آرہا ہے، تو مجھے اپنے مؤنث ہونے یعنی ایک عورت ہونے کے ناطے بھی بہت خوشی ہوئی اور بہت تھوڑی ہی سہی مگر اتنی عربی خود سے سمجھ آجانے پر بھی بہت مسرت ہوئی. لیکن پھراس مؤنث لفظ الْمُطْمَئِنَّۃ کو دیکھ کر خیال آیا کہ خاندان کے سارے سسٹم کو ایک عورت یعنی وہی مؤنث، جب جوڑے رکھنے کی ٹھان لے تو ہر سو ہر نفس اطمینان پا جاتا ہے، اور عورت ہی خودسری اور شر کا شکار ہو تو پورے کنبے کو دنبے کی طرح ذبح کر ڈالتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں بیوی کے حقوق - رانا اعجاز حسین چوہان

\n\n

ارم نے ٹھنڈی آہ بھر کر ان کی ہاں میں ہاں ملائی تو ماں جی دوبارہ گویا ہوئیں\n”ممتا کا رشتہ ہو یا بیٹی بہن، یا پھر نند بھاوج، دیورانی، جیٹھانی یا خالہ، پھوپھی، بہو یا ساس یا پھر بیوی، ایک عورت ان میں سے بیک وقت سبھی کچھ ہو سکتی ہے،گویا ایک پوری کی پوری عمارت، جس کی بنیاد، چھت، در و دیوار، کھڑکی، دروازے، کمرے، اندر باہر سبھی شاندار ہوں، تبھی تو قیمتی شمار ہوگی ناں. لیکن عمارت بظاہر تو شاندار ہو، مگر اندر سے میلی،گندی، کمزور اور غیر معیاری، تو بھلا کتنی دیرپا ہوگی؟ اور اپنے مکینوں کے لیے کتنے اطمینان و سکون کا باعث؟ عمارت کے سامنے پھولوں کے باغ اور پچھلی جانب کوڑے کے تعفن زدہ ڈھیر،گندہ نالہ، قبرستان تو بھلا کون رہنا چاہے گا وہاں؟“\nتو سمجھ رہی ہے ناں پتر! ماں جی نے پوچھا، ارم نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگیں، پتر! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قیمتی اور موت کے وقت نفس مطمئنہ بننے کے لیے تمام زندگی، تمام رخ سے ہمیں دوسروں کے ممکنہ اطمینان کا سامان کرنا ہوگا.

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.