کرپشن اور پاکستان - توفیق بٹ

tofeeq-butt-300x360 گزشتہ ہفتے پاک کینیڈا بزنس ایسوسی ایشن کی جانب سے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کے دِلوں کی دھڑکن جناب حفیظ خان، اُن کی ٹیم کے مخلص اور فعال اراکین میاں ندیم، سمیرا ندیم، محمد موسیٰ، حفصہ موسیٰ، یاسر سہیل، شہروز یوسف چوہدری، رابعہ خان و دیگر نے میرے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ اِس تقریب میں بات کرنے کے لئے جو موضوع مجھے دیا گیا وہ تھا” پاکستان میں کرپشن کبھی ختم نہیں ہو گی؟“…. میں نے عرض کیا۔”چند برس قبل، خصوصاً گزشتہ انتخابات سے پہلے پاکستان سے سچی محبت کرنے والوں کی اُمیدیں اِس قدر بڑھ گئی تھیں وہ سوچتے تھے پاکستان کے حالات ضرور بہتر ہوںگے، دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، کرپشن کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ اب جو موضوع کینیڈا میں مقیم پاکستان سے سچی محبت کرنے والوں نے بات کرنے کے لئے مجھے دیا ہے( کیا پاکستان سے کرپشن کبھی ختم نہیں ہو گی؟)اِس سے میرے اِس احساس کو مزید تقویت مِلی ہے پاکستان سے محبت کرنے والوں کی اُمیدیں ایک بار پھر دم توڑ رہی ہیں۔ خصوصاً کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے وہ مایوسی کا شکار ہیں، ورنہ بات کرنے کے لئے موضوع کچھ ایسے بھی ہو سکتا تھا” پاکستان میں کرپشن کیوں ختم نہیں ہو رہی یا کرپشن کون ختم کرے گا؟“پاکستان سے دہشت گردی تقریباً نوے فیصد ختم ہو گئی ہے۔ یہ اتنا بڑا واقعہ ہے آج سے چند برس قبل جِس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تب ایسی ہی مایوسی کا ہم شکار تھے جس مایوسی کا شکار آج کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے دہشت گردی کے حوالے سے لوگوں کو مایوسی کی دلدل سے اُنہوں نے باہر نکالا۔ کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے بھی لوگوں نے اُن ہی سے اُمیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ جو اِس سے قبل عمران خان سے وابستہ ہو گئی تھیں۔ مگر کچھ سسٹم اور کچھ اپنی غلطیوں کی وجہ سے ابھی تک وہ اقتدار میں نہیں آ سکے، صِرف ایک صوبے میں اقتدار اُن کے پاس ہے اور غیر جانب دار حلقے تسلیم کرتے ہیں وہاں کرپشن کم ہوئی ہے۔ کرپشن کے خاتمے سمیت سارے کام جنرل راحیل شریف نے کرنے ہیں، پھر حکومت بھی اُنہیں کرنے دی جائے۔ اگلے روز میرے عزیز دوست میاں ندیم یا شاید ساجد سیال فرما رہے تھے” پاکستان میں کرپشن نہیں کرپشن کا کاروبار ہوتا ہے“۔ بدقسمتی سے سب سے زیادہ ”کاروبار“ آج کل یہی چل رہا ہے۔ شاید اصغر سودائی نے ایک خوب صورت ترانہ لِکھا تھا ” پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الٰہ الا اللہ“۔ اب لوگ کہتے ہیں” پاکستان کا مطلب کیا…. پیسے ساہڈے ہتھ پھڑا…. جیڑا مرضی کام کرا“۔ کرپشن پر احتساب کے لئے جو ادارے پاکستان میں قائم ہیں ایک شعر اُن کی حالت پر بھی سن لیں۔” پاکستان میں جو کچھ ہے، سب کچھ پیارے لوٹ جا…. رشوت لیتے پکڑا گیا ہے، رشوت دے کے چھوٹ جا“۔ یہ ادارے صِرف چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو پکڑتے ہیں۔ کسی پٹواری نے دس ہزار رشوت لے لی، اُسے پکڑ لیا، کسی تھانیدار نے دو چار ہزار لے لئے اُسے پکڑ لیا۔ بڑے بڑے مگر مچھ اُن کے قابو ہی نہیں آئے، حالاں کہ اِن اداروں میں خود بڑے بڑے مگرمچھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ المیہ یہی ہے سب چور ہیں، سارے ڈاکو ہیں، ایک دوسرے کے ہاتھ کیسے کاٹیں گے؟ابھی کچھ عرصہ قبل پانامہ لیکس کا بڑا شور اُٹھا تھا۔ بڑے بڑے دانشور ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر پورے یقین پورے وثوق سے کہہ رہے تھے” یہ کیس حکمرانوں کے گٹے گوڈوں میں بیٹھ جائے گا‘ وہ اِس سے کسی صورت میں بچ نہیں سکیں گے“۔ مجھے اُن کی باتیں سن کر ہنسی آتی تھی۔ میری نظر میں یہ کیس اُسی دن فارغ ہو گیا تھا، جب سپریم کورٹ نے اِس پر اعتراضات لگا کر بال پارلیمنٹ یا سیاستدانوں کی کورٹ میں پھینک دیا تھا۔ حالانکہ عزت مآب سپریم کورٹ چاہتی اِس کیس کی بنیاد ایسی مثال قائم کر سکتی تھی پاکستان میں آئندہ کسی حکمران کو کرپشن کرنے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ، پاکستان میں کرپشن ختم کون کرنا چاہتا ہے؟ اُس سسٹم کو تبدیل کون کرنا چاہتا ہے جو سب کے لئے سود مند ہے۔ عمران خان سے ہمیں بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ اب بھی ہیں، مگر غلیظ سسٹم اتنا طاقتور ہے، وہ سسٹم تبدیل کرنے نکلا تھا۔ سسٹم نے اُسے تبدیل کردیا۔ اب بے شمار کرپٹ سیاست دان اُس کی اپنی جماعت میں موجود ہیں۔ اور وہ اُن کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے میں بے بس دکھائی دیتا ہے۔ ایک زمانے میں پاکستان میں لوگ چھوٹی چھوٹی”دیہاڑیاں “ لگاتے تھے۔ اب چھوٹی چھوٹی”دیہاڑیاں“ لگانے سے لوگ گھبراتے ہیں۔ کیونکہ چھوٹی دیہاڑیاں لگانے والے پکڑے جاتے ہیں۔ سزا بھی اُنہیں ہو جاتی ہے۔ بڑی دیہاڑیاں لگانے والوں کو اول تو کوئی پکڑتا نہیں، پکڑے جائیں تو سزا نہیں ہوتی، کسی عدالت سے سزا ہو بھی جائے، دوسری عدالت اُسے ضمانت پر یا ویسے ہی”باعزت بری‘ ‘ کر دیتی ہے۔ پاکستان سے کرپشن جس روز ختم ہو گئی یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ایک عدالت کسی مجرم کو سزا دے، دوسری بری کردے۔ پھر یہ مشورہ بھی ایک دوسرے کو نہیں دیا جائے گا ، وکیل کیا کرنا ہے، جج ہی کر لیں ۔ افتخار محمد چوہدری سے بڑی اُمیدیں وابستہ کر لی گئی تھیں وہ عدلیہ سے کرپشن ختم کرے گا۔ کرپشن ختم نہیں کر سکا، رہا سہا یا بچا کھچا جو وقار تھا وہ ختم کر دیا۔ قانون اندھا ہوتا تھا، اُس کے دور میں ”کانا“ ہو گیا…. پاکستان میں ہر دور میں کرپشن ہوتی رہی، زرداروی دور میں بعض لوگوں اور اداروں نے کرپشن کو ”قانونی شکل“ اِس طرح دے دی، وہ سمجھتے تھے” ہمارا صدر کرپٹ ہے تو کرپشن کرنا ہمارا”قانونی حق“ ہے“۔عدالت کرپشن کرتی ہے، تب بھی کرپٹ مافیا یہی سوچتا ہے” کرپشن کرنا اُس کا” قانونی حق“ ہے“۔ بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں بلکہ پورے غسل فرما رہے ہیں۔ ایک جنرل راحیل شریف ہیں اپنے ادارے سے وابستہ دو چار کرپٹ لوگوں کو جنہوں نے پکڑا اور نکال باہر کیا۔ ایک مثال اُنہوں نے ضرور قائم کی، مگر پورا” صفایا“ وہ بھی نہیں کر سکتے۔ دوسرے ادارے تو مثال بھی قائم نہیں کر سکتے۔ لاہور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے بارے میں سنا ہے کرپشن کے خاتمے کے لئے وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ اقدامات اُنہوں نے شاید کئے بھی ہیں، مگر ایک ”بڑے آپریشن“ کی ضرورت ہے۔ یہ ”زخم“ چھوٹے موٹے مرہم سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ فوج اور عدلیہ میں کرپشن ختم ہو گئی سیاستدانوں اور افسروں کو کرپشن کی پھر جرِا¿ت نہیں ہو گی…. حالات اب یہ ہیں کرپشن میں پیچھے رہ جانے والوں کو” نا اہل “ سمجھا جانے لگا ہے۔ جو کرپشن نہیں کرتا، لوگ سمجھتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ایک افسر کو دوسرے افسر کے بارے میں ، میں نے بتایا وہ رشوت نہیں لیتا۔وہ بولا” وہ بے چارہ اِس کی اہلیت ہی نہیں رکھتا“ ۔پاکستان میں میرے خیال میں اسی فیصد کرپشن کے وہ لوگ ہیں کرپشن کے جنہیں مواقع ہی نہیں مِلتے۔ معاملات اِس حد تک پہنچ چکے ہیں اب پیسے لے کر کام کرنا کرپشن نہیں سمجھی جاتی۔ کرپٹ وہ ہے جو پیسے لے کر بھی کام نہ کرے، ابھی پچھلے دنوں ایک ایس ڈی او سے میں نے گِلہ کیا ”حضور آپ نے میرے فلاں دوست سے پچاس ہزار روپے بھی لے لئے، اُس کا کام بھی نہیں کیا“۔ وہ بولا” پیسے لئے ہیں تو کام ضرور کروں گا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا“۔ایسے ہی ایک ایس ایچ او اگلے روز کسی سے کہہ ر ہا تھا”حلال کمائی میں ذرا برکت نہیں رہی، تھانے کی پانچ لاکھ منتھلی پانچ دِنوں میں ختم ہو جاتی ہے“۔ (جاری ہے)