جانور ،حکمران اور کرپشن - جنید اعوان

جنید اعوان نوشیرواں عادل کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک دفعہ اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سےگزر رہا تھا۔ شاہی دسترخوان پر کھانا رکھا گیا تو نمک موجود نہیں تھا۔ اس نے اپنے ایک ملازم کو قریبی گاؤں سے نمک لانے کا حکم دیا۔ ملازم نمک لے کر آیا تو نوشیرواں نے سوال کیا کہ اس کی قیمت ادا کرکے آئے ہو؟ ملازم نے کہا کہ اتنے قلیل نمک کی معمولی قیمت ادا نہ کرنے سے کیا حرج ہوتا ہے؟ نوشیرواں نے کہا کہ بادشاہ اگر نمک بلا قیمت لے گا تو اس کی فوج پورے کھیت کو اپنا حق سمجھ کر اجاڑ ڈالےگی۔\n\nایک اور واقعہ مشہور ہے کہ ایک عادل بادشاہ اپنی سلطنت میں سے گزر رہا تھا۔ اس کو پیاس محسوس ہوئی تو ایک باغ میں چلا گیا۔ اپنی شناخت کرائے بغیر وہاں کے مالی سے پانی کی درخواست کی۔ مالی بادشاہ کے لیے انار کا جوس نکال کر لے آیا۔ بادشاہ نے جوس پیا تو لذت، مٹھاس اور ذائقے میں اپنی مثال آپ تھا۔ بادشاہ کی تشنگی باقی رہی اور اس نے مزید جوس کی طلب ظاہر کی۔ اسی اثنا میں بادشاہ کی نیت میں فتور آگیا اور اس نے سوچا کہ اتنے میٹھے انار کے باغ کو شاہی ملکیت میں لینا چاہیے۔ مالی جوس لے کر آیا تو اس بار وہ پہلے کی نسبت ترش اور بےذائقہ تھا۔ بادشاہ نے مالی سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ اچانک جوس کا ذائقہ تبدیل ہوگیا۔ مالی نے جواب دیا کہ غالباً ہمارے بادشاہ کی نیت میں فتور آگیا جس کے اثرات انار کے ذائقے پر بھی مرتب ہوئے۔\n\nحضرت عمربن عبدالعزیز کے دور حکومت کے بارے میں سنتے آئے ہیں کہ آپ کے دور میں اتنا عدل و انصاف تھا کہ بھیڑیے اور بکریاں ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ عادل حکمران کی بدولت بھیڑیوں کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ بکریوں پر حملہ کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ دور دراز جنگل میں ایک بھیڑٖیے نے ایک بکری پر حملہ کیا تو چرواہا رونے لگا کہ آج عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہوگیا۔ پوچھنے والوں نے پوچھا کہ تمھیں کیسے معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ بھیڑیے کے بکری پر حملہ کرنے سے۔ بعد میں تحقیق کی گئی تو اسی دن عمر بن عبد العزیز فوت ہوئے تھے۔\n\nانگریزی میں اسے ٹریکل ڈاؤن ایفیکٹ کہا جاتا ہے کہ ایک شے جو بالائی سطح پر موجود ہو، بالآخر وہ پورے وجود میں سرایت کر جاتی ہے۔ بادشاہ کی نیت اور عمل کےاثرات رعایا پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور رعایا ہی نہیں جانور اور پھل بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ نیک اور عادل حکمران ہوں تو معاشرے امن وسکون کا گہوارہ بنتے ہیں۔ برے اور کرپٹ حکمران سماج کو بھی کرپشن کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔\n\nیہ سارے واقعات ٹی وی پر ایک خبر سن کر یادآئے کہ کراچی میں قربانی کے جانوروں کی منڈی میں ایک بیل دوسرے جانوروں کا بھی چارا کھا جاتا ہے اور اس کا نام مسٹر کرپشن رکھ دیا گیا ہے۔ حکمران اگر کرپٹ ہوں تو افسران بھی کرپٹ ہو جاتے ہیں۔ افسران کرپٹ ہوں تو ملازمین بھی کرپٹ ہو جاتے ہیں۔ ملازمین کرپٹ ہوں تو معاشرے کے عام افراد بھی کرپٹ ہوجاتے ہیں۔ اور کرپشن کے اثرات پھر جانوروں میں بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ کراچی کی جانور منڈی میں مسٹر کرپشن کے نام سے مشہور یہ بےزبان جانور اس کا ایک زندہ ثبوت اور تازہ مثال ہے۔