فریضہ حج؛ حکم، شرائط، فضائل، آداب، وعیدیں - ذیشان علی

ذیشان علی حج اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک عظیم رکن ہے، تمام عمر میں ایک مرتبہ ہر اس مسلمان عاقل بالغ شخص پر فرض ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا مال دیا ہو کہ وہ مکہ مکرمہ آنے جانے پر نہ صرف قادر ہو، بلکہ واپسی تک اپنے اہل وعیال کے مصارف بھی برداشت کرسکتا ہو۔ ( حج کی باقی شرائط بھی اس میں پائی جاتی ہوں)\n\nحج امت محمدیہ کی خصوصیت ہے. حج کا رواج اگرچہ سیدنا حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلاة والسلام کے زمانے سے ہے، مگر اس وقت فرضیت کا حکم نہ تھا، حج کی فرضیت امت محمدیہ علی صاحبھا السلام کے ساتھ خاص ہے۔\n\nحج کب فرض ہوا؟\nجمہور علمائے اہل سنت اور راجح قول کے مطابق حج ہجرت کے بعد 9 ہجری کے اواخر میں فرض ہوا، اس وقت حج کا زمانہ نہ ہونے کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے سال 10 ہجری کو حج ادا فرمایا، اس کو حجۃ الوداع بھی کہتے ہیں، کیوں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو داغ مفارقت دے گئے۔\n\nحج کی فرضیت کا ثبوت\nحج کی فرضیت قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔\n\nقرآن مجید سے ثبوت\nقرآن مجید کی متعدد آیات سے حج کی فرضیت ثابت ہے، مگر سورہ آل عمران کی درج ذیل آیت اس حوالے سے بالکل صریح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ” اللہ ( کی خوشنودی) کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج (ضروری) ہے، اس شخص پر جو وہاں تک جاسکے۔“\n\nاحادیث مبارکہ سے ثبوت\nمتعدد احادیث میں حج فرض ہونے کا تذکرہ ہے، یہاں ان میں سے بعض کو بیان کیا جاتا ہے :\nمسلم شریف میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے وعظ فرمایااور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس تم حج کرو۔\nصحیحین میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور سول ہیں، اور نماز پڑھنا، اور زکوٰۃ دینا، اوربیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔\nصحیحین ہی کی ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کا فریضہ حج جو بندوں پر ہے، وہ میرے والد پر بڑھاپے کی حالت میں فرض ہو گیا ہے، وہ سواری نہیں کرسکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔\nاس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر جج فرض ہو جائے اور کوئی عذر لاحق ہو تو کسی اور شخص کے ذریعے حج کروایا جائے۔\n\nحج کی فرضیت پر اجماع\nملک العلماء علامہ کاسانی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف بدائع الصنائع میں حج کی فرضیت پر اجماع کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں۔\n\n”واما الاجماع: فالان الامہ اجمعت علی فرضیتہ“ یعنی تمام امت نے حج کی فرضیت پر اجماع کیا ہے۔\n\nشرائط حج\nحج کی ادائیگی اور فرضیت کے لیے کچھ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، بعض علماء نے ان کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے : شرائط وجوب، شرائط وجوب ادا، شرائط صحت ادا ، شرائط وقوع فرض۔\n\nشرائط وجوب\nیہ سات شرطیں ہیں، جن کے پائے جانے سے حج فرض ہو جاتا ہے، اگر ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو فرضیت ساقط ہو جاتی ہے:\nاسلام (کافر پر حج نہیں)۔\nبلوغ (نابالغ پر حج فرض نہیں)۔\nعاقل ہونا، آزاد ہونا (پاگل اور غلام پر حج فرض نہیں)۔\nحج فرض ہونے کا علم ( لیکن یہ مسلمان ممالک میں رہنے والوں کے لیے شرط نہیں، بلکہ کفار کے ممالک میں رہنے والوں کے لیے ہے )۔\nاستطاعت و قدرت ( یعنی حج کے اخراجات ومصارف، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ سرمایہ اہل و عیال کے حج سے واپسی تک کا خرچ، مرض، سواری، اپنے پیشے کے آلات، مرمت مکان وغیرہ ضروریات سے فاضل و زائد ہو، لہٰذا اگر مکان، زمین، مال تجارت اور آلات پیشہ وغیرہ ضرورت سے زائد ہیں تو ان کا فروخت کرکے حج کا ادا کرنا ضروری ہے۔\nحج کا وقت ہونا ( یعنی اشہر حج شوال، ذی قعدہ اور دس روز ذوالحجہ کے۔ ہمارے ملک میں وقت کا اعتبار اس وقت سے ہوگا جب عام طور سے حج درخواستیں وصول ہونا شروع ہو جائیں)۔\n\nشرائط وجوب ادا\nیہ پانچ شرطیں ہیں، حج کا وجوب اگرچہ ان پر موقوف نہیں ہوتا، لیکن ادا کرنا ان کے پائے جانے پر واجب ہوتا ہے، لہٰذا شرائط وجوب اور شرائط وجوب ادا دونوں بیک وقت پائی جائیں تو پھر خود حج کرنا فرض ہوتا ہے اور اگر شرائط وجوب ادا میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو خود حج کرنا واجب نہیں ہوتا، البتہ حج بدل کی وصیت کرنا واجب ہوتا ہے۔\n\nتندرست ہونا، قید یا حاکم کی طرف سے ممانعت کا نہ ہونا، راستے کا پرامن ہونا، عورت کے لیے محرم کا ہونا (محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے نکاح کسی بھی وقت جائز نہ ہو) محرم کا دین دار ہونا بھی ضروری ہے، اگر محرم دین دار نہ ہو تو عورت پر حج نہیں، عورت کا عدت سے خالی ہونا۔\n\nیہ وہ شرائط ہیں جن کے بغیر حج صحیح نہیں ہوتا:\nاسلام، احرام، حج کے زمانہ میں افعال حج یعنی طواف اور سعی وغیرہ کا مقررہ اوقات میں کرنا، مکان یعنی ہر عمل کو اس کی متعین جگہ پر ادا کرنا، جیسے وقوف میں ہونا اور طواف کا مسجد حرام میں ہونا وغیرہ، تمیز، عقل، احرام کے بعد وقوف عرفہ سے پہلے جماع کا نہ ہونا، افعال حج کو خود ادا کرنا، جس سال احرام باندھے، اسی سال حج کرنا۔\n\nشرائط وقوع حج\nحج کے فرائض واقع ہونے اور ذمہ ساقط ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔\n\nحج کے وقت مسلمان ہونا، آخری عمر تک اسلام کا رہنا، آزاد ہونا، بالغ ہونا، عاقل ہونا، خود حج کرنا بشرطیکہ قدرت ہو، حج کو جماع سے فاسد نہ کرنا، کسی دوسرے کی طرف سے حج کی نیت نہ کرنا، نفل کی نیت نہ کرنا۔\n\nسفر حج کے آداب\nاگر کسی مسلمان پر حج فرض ہو جائے اور تمام شرائط پائی جائیں تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرکے اس کی تیاری شروع کرے، تاخیر نہ کرے ، اس سلسلے میں چند آداب کی رعایت سے ان شاء اللہ حج مقبول کی سعادت نصیب ہوگی۔ سب سے پہلے اپنی نیت درست کرے اور اس کی اصلاح کرے کہ یہ عمل ادائے فریضہ اور محض اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں، سفر سے پہلے صدق دل سے تمام گناہوں سے توبہ کرے، اگر کسی کے حقوق ادا کرنے ہیں تو ادا کرے یا معاف کروائے، والدین زندہ ہوں تو ان سے اجازت لے، اگر وہ خدمت کے محتاج ہوں تو بلا اجازت جانا مکروہ ہے، اسی طرح سفر حج سے پہلے کسی دین دار اور تجربہ کار شخص سے ضروریات سفر وغیرہ کے سلسلہ میں مشورہ کرے، حلال مال سے حج ادا کرے، حرام مال سے حج قبول نہیں ہوتا، اگرچہ فرضیت ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے، کوئی صالح رفیق سفر تلاش کرے، اگر عالم دین میسر ہو تو بہت بہتر ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اور احکام حج کے سلسلہ میں مدد و معاونت کرے۔\n\nحج کے سفر سے پہلے خوب اہتمام سے کسی معتبر عالم دین سے حج کے مسائل سیکھے تاکہ حج کو جیسے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح ادا کر سکے۔ سفر حج کے دوران ہر طرح کے معاصی سے اجتناب کرے، لڑائی جھگڑا، فحش گوئی اور فضول بازار میں گھومنے پھرنے اور وقت ضائع کرنے سے احتراز کرے، فضول خرچی بھی نہ ہو اور کنجوسی بھی نہ ہو، بلکہ میانہ روی اور اعتدال سے خرچ کرے۔ اپنے لیے، اہل وعیال، علاقہ وملک اور تمام عالم اسلام کے لیے خوب اہتمام سے دعائیں کرے۔\n\nحج کی تاکید اور تارک کے لیے وعید\nحج فرض ہو جانے کے بعد بلاعذر اس میں تاخیر کے بجائے جلد از جلد ادائیگی کی کوشش کی جائے، حج کے بارے میں احادیث میں بہت تاکید اور باوجود قدرت واستطاعت کے نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔\n\nامام ابوداؤد رحمۃ اللہ نے اپنی سنن کے کتاب المناسک میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ جلدی کرے۔\n\nامام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن کے ابواب الحج، باب ماجاء فی التغلیظ فی ترک الحج میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص زاد راہ اور سواری کا مالک ہو کہ وہ اسے بیت اللہ تک پہنچا دے تو اس کے یہودی یانصرانی مر جانے میں (اور بغیر حج کیے مر جانے میں) کوئی فرق نہیں اور یہ (وعید) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے لوگوں پر کعبہ کا حج ضروری ہے، جو وہاں تک جاسکتا ہو۔\n\nاس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مشکوٰۃ کی شرح مرقاہ میں فرماتے ہیں کہ استطاعت کے باوجود فرضیت کا منکر ہونے کی وجہ سے حج نہیں کیا تو یہود و نصاری کے ساتھ کفر میں مشابہت ہو گی اور اگر کاہلی وسستی کی وجہ سے بغیر عذر کے حج نہیں کیا تو مشابہت گناہ میں ہوگی۔\n\nحدیث بالا کا مضمون ایک اور حدیث میں بھی وارد ہو ا ہے، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو حج کرنے سے کوئی کھلی ہوئی ضرورت، یا کوئی ظالم بادشاہ، یا کوئی معذور کر دینے والا مرض نہ روکے اور وہ بغیر حج کیے مر جائے تو اسے اختیار ہے، چاہے یہودی مرے ، چاہے نصرانی مرے۔\n\nیہود و نصاری کے ساتھ تشبیہ کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ تارک حج کو یہودی اور نصرانی کے ساتھ مشابہ قرار دینے میں نکتہ یہ ہے کہ یہود و نصاری نماز تو پڑھتے تھے لیکن حج نہیں کرتے تھے۔\n\nفضائل حج\nانسان فائدے کا حریص ہے، فائدہ دیکھ کر مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے، حج کی خوبیاں وفضائل تو بہت زیادہ ہیں، یہاں بعض کو بطور تذکیر ذکر کیا جاتا ہے تاکہ حج کا داعیہ اور شوق پیدا ہو ۔\nصحیحین میں ہے : ”من حج فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ امہ․“ ترجمہ ”جو شخص اللہ کے لیے حج کرے اور ( دوران حج) نہ اپنی اہلیہ سے ہم بستری کرے اور نہ فسق میں مبتلا ہو تووہ اس طرح ( بےگناہ ہو کر) لوٹتا ہے جیسے ( اس دن بےگناہ تھا) جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا۔“ شراح حدیث نے رفث سے اگرچہ جماع مراد لیا ہے، لیکن معنی عام مراد لینے سے دیگر معانی جیسے تعریض بالجماع، فحش گوئی وغیرہ بھی اس میں شامل ہوجائیں گے ، امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کا میلان بھی اسی طرف ہے۔\nحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حج اور عمرہ ساتھ ساتھ کرو ، دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں، جس طرح لوہار اور سنار کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے اور حج مبرور کا صلہ اور ثواب تو بس جنت ہی ہے۔\nطبرانی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ حج اور عمرہ کے لیے جانے والے خدا کے خصوصی مہمان ہیں، وہ خدا سے دعا کریں تو خدا قبول فرماتا ہے اور مغفرت طلب کریں تو بخش دیتا ہے !\nحضرت عبداللہ بن جراد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فریضہ حج ادا کرو، اس لیے کہ حج گناہوں کو ایسے دھو دیتا ہے، جیسے پانی میل کو دھو دیتا ہے ۔\nحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرنے والے کی مغفرت کی جاتی ہے اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے اس کی بھی مغفرت کی جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اے اللہ! مغفرت فرما حاجی کی اور جس کے لیے وہ مغفرت طلب کرے۔\n\nحج مبرور\nحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پوچھا گیا کہ پھر کون سا عمل؟ فرمایا: خدا کی راہ میں جہاد کرنا، پوچھا گیا کہ پھر کون سا؟ فرمایا: حج مبرور یعنی حج مقبول۔\nصحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دوسرے عمرہ تک ہوں اور حج مبرور کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں۔\n\nحج مبرور کیا ہے ؟\nشراح حدیث نے حج مبرور کی مختلف تفسیریں بیان کی ہیں، علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”المبرور ھو الذی لا یرتکب صاحبہ فیہ معصیۃ․“ یعنی حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی کسی گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاجی اس حال میں لوٹے کہ دنیا سے بے رغبت ہو اور آخرت کا شوق رکھنے والا ہو تو وہ حج مبرور ہے۔ علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حج کے مقبول ہونے کی نشانی یہ ہے کہ حاجی تمام ارکان و واجبات کو اخلاص نیت کے ساتھ ادا کرے اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچے۔\nبعض نے کہا حج مبرور اسے کہتے ہیں جو جنایات سے خالی ہو، بعض نے کہا وہ ہے جس میں ریا نہ ہو، بعض نے کہا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ حاجی کی حالت تقوی کے اعتبار سے حج سے پہلی والی حالت سے بہتر ہو، علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال متقارب المعنی ہیں، یعنی حج مبرور ہے جس کے تمام احکام کو پورا کیا گیا ہو اور مکلف سے حج کو جس طرح طلب کیا گیا ہے اس کو کمال طریقے سے ادا کیا ہو ۔\nحضرت علامہ محمدیوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ معارف السنن میں ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ حج مبرور کی تفسیر میرے نزدیک وہی ہے جو اللہ کے ارشاد﴿ فلارفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج﴾ میں مذکور ہے، پس جس کا حج اللہ کے ارشاد کے موافق ہو تو وہ مبرور ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لیے حج کرے اور دوران حج اپنی اہلیہ سے نہ ہم بستری کرے اور نہ فسق میں مبتلا ہو تو وہ اس طرح ( بےگناہ) واپس لوٹتا ہے جیسے ( اس دن بےگناہ تھا) جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔\n\nتنبیہ: جن حضرات کے پاس گنجائش ہو تو وہ حج کے ساتھ مدینہ منورہ اور روضہ شریف کی زیارت کا شرف ضرور حاصل کریں، اس کی بھی بڑی فضیلت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت ضروری ہو گئی بلکہ بعض روایات سے اس کی تاکید معلوم ہوتی ہے. ایک روایت میں ہے کہ جو شخص مالی وسعت رکھے اور میری زیارت کو نہ آئے تو اس نے میرے ساتھ بڑی بے مروتی کی ۔\n\nاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے گھر اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کی زیارت نصیب فرما دے ۔ آمین!