ایک بہن کا عالم برزخ سے اپنے بھائی کو خط - محمد مبین امجد

پیارے بھائی رب نواز!\nسب سے پہلے میں رب کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے آپ جیسے ’’پیارے‘‘ بھائی سے نوازا۔\nبھائی میں نے تو ہر ہر لمحہ آپ کی خوشی چاہی، آپ کی خدمت کی۔\nسردیوں کی صبحوں میں کہر اور دھند میں، جس بستر سے اٹھنے کو جی نئیں چاہتا، میں نے اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے تمہاری بھلائی کے لیے دعائیں مانگیں، اور تمہارے نہانے کے لیے پانی گرم کرنے کو رکھتی۔ اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے پراٹھے پکاتی، اس دوران میرے ہاتھ بھی جلے، مگر کبھی شکایت نہیں کی۔\nبڑے چاؤ سے تمہارے کپڑے دھوتی اور پھر استری کرتی، استری کرتے ہوئے کئی بار مجھے کرنٹ کے جھٹکے بھی لگے مگر اف تک نہیں کی۔\nبھائی تمہیں شاید یاد نہیں کہ جون جولائی کی آگ برساتی دوپہروں میں میں تمہارے لیے آگ جلا کر دوپہر کا کھانا بناتی تھی، اور پسینہ پسینہ ہو جاتی تھی۔\nجب کوئی پھل گھر میں آتا تو خواہش کرتی کہ بھائی کو زیادہ حصہ ملے، چاہے میں کھاؤں نا کھاؤں۔\nمیں جو زندگی میں اپنے جائز حق کے لیے بھی آپ سے اونچے لہجے میں بات نہیں کر سکی۔ آج میری خامشی کو زبان ملی ہے تو کہنے دیجیے کہ بغیر کسی ستائش اور صلے کے آپ کی خدمت کی کیونکہ ہمیشہ تمھیں اپنا محافظ اور رکھوالا جانا۔\nآہ! بھائی آپ تو میرا مان تھے۔ آپ کو دیکھ کر میرا سر ہمیشہ فخر سے بلند ہو جاتا۔\nمگر آپ ہی میری خوشیوں کو کھا گئے، میری جان کے دشمن ہو گئے۔ ایک ایسے شخص سے جدا کرنے کے لیے میری جان لے لی جس نے خوشبو سے میرا تعارف کروایا تھا، جو میری خوشیوں کا ضامن بننے والا تھا، جسے میں سوچتی تھی تو آپ ہی آپ شرم سے میرے گال گلنار ہو جاتے، اور آج جبکہ میری خوشیوں میں چند لمحے رہ گئے تھے تو، اور\nآج جب میں دلہن بنی بیٹھی تھی، میرے ہاتھوں کی ان ریکھاؤں میں جو تمہاری خدمت کرتے کرتے گھس چکی تھیں، آج مہندی رچی تھی،\nمگر آہ بھائی تم نے ان میں خون کی لالی رچا دی، نہ جانے کس جرم کی پاداش میں۔\nمیں تو اپنا قصور بھی نہیں جانتی سوائے اس کہ آپ جیسے شقی القلب بھائی کی بہن تھی، شاید یہی جرم میری تمام وفاؤں پہ بھاری پڑ گیا۔\nبھائی یاد رکھنا، وہ بہن جو کبھی تم سے اونچے لہجے میں بات نہیں کرتی تھی، محشر میں تمہارا گریبان پکڑے گی، اور اس منصف سے انصاف چاہے گی جو ذرا سی بھی نیکی اور بدی کا بھی پورا پورا بدلہ دیتا ہے۔ کیا ہم نے مل کر بچپن میں قاری صاحب سے مل کر پڑھا نہیں تھا کہ\n[pullquote]فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ (7) وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ (8)[/pullquote]\n\nپھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔\n\nفقط \nتمہاری بد نصیب بہن

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */