وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم-اوریا مقبول جان

orya\n\nاقبال کے بارے میں ہمیشہ یہ میرا یقین اور ایمان رہا ہے کہ یہ دنیا کا واحد شاعر اور فلسفی ہے جو انسان کی زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی کرتا ہے۔ بچپن میں ہوش سنبھالتے ہی آپ کی انگلی تھام لیتا ہے اور ایک ایسی دعا آپ کو سکھاتا ہے جو آیندہ آنے والی زندگی کے لیے رہنما اور ہادی ثابت ہو۔\n\nلب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری\nزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری\n\nزندگی کے ہر مرحلے، معاشرت و سیاست کے ہر موضوع اور فلسفہ و اقتصاد کے ہر نکتے پر آپ کو اقبال کے افکار سے رہنمائی ضرور ملے گی۔ یہ ہنر اور یہ عظمت دنیا میں کسی شاعر کو نصیب نہیں۔ ہر کوئی اپنے محدود موضوعات اور مخصوص تصورات پر مبنی شاعری کرتا رہا ہے۔ کسی کو محبوبہ کے لب و رخسار اور زلف گرہ گیر سے باہر نکلنے کی فرصت نہیں ملی تو کوئی انقلاب کے گیت گانے یا سرمایہ و محنت کے ترانے لکھتے دنیا سے چلا گیا۔ شیکسپئر جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متنوع اور وسیع الخیال شخص سمجھا جاتا ہے۔\n\nاس کے ہاں بھی روم و یونان کی عظمت رفتہ میں چمکتے کرداروں کے سوا کچھ اور نظرنہیں آتا۔ پورا مشرق جو اس دور میں اس کرۂ ارضی پر جگمگا رہا تھا، شیکسپئر کی آنکھوں سے اوجھل رہا۔ یہی کیفیت ان تمام شاعروں اور مفکروں کی ہے جنھیں آج دنیا جدید تہذیب کے درخشندہ ستارے سمجھتے ہوئے علم کے ماخذ اور منبع گردانتی ہے۔ کسی کے ہاں مشرق ہے تو مغرب نہیں تو کوئی سائنسی اخلاقیات کا قائل ہے اور آسمانی ہدایات سے بے بہرہ۔ کوئی صرف فلسفے کی گتھیاں سلجھاتا ہے اور زندگی کی تلخ حقیقتوں سے ناآشنا ہے۔ یہ صرف اقبال ہے جو بندۂ مزدور کے تلخ ایام کی داستان بھی بیان کرتا ہے اور معراج انسانی کے عظیم واقعے سے درس بھی سکھاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ اقبال کا سارا کا سارا علم قرآن پاک سے مستعار ہے۔ اللہ کا نور ہدایت ہے۔ اس لیے کہ اقبال نے خود یہ دعویٰ کیا ہے۔\n\nگردلم آئینۂ بے جوہر است\nگر بجز فم غیر قراں مضمراست\nپردۂ ناموسِ فکرم چاک کن\nایں خیاباں زار خارم پاک کن\n\n(اگر میرے دل کے آئینے میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ اگر اس دل میں قرآن کے علاوہ کوئی ایک لفظ بھی موجود ہے تو اے اللہ میری عزت کا جو پردہ بنا ہے اسے چاک کردے، ان پھولوں جیسی دنیا سے مجھ جیسے کانٹے کو نکال دے)۔ اس لیے کہ خود قرآن پاک کا یہ دعویٰ کہ ’’اور ہم نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے‘‘ (النحل 89)۔ قرآن کے اس علم نے اقبال کو رہنمائی عطا فرمائی اور اس نے تہذیب مغرب اور فرنگی مدنیت کا جس طرح پردہ چاک کیا ہے آدمی کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔\n\nمیرے جیسا شخص جسے یورپ میں صرف چند دن میسر آئے ہیں یقینا اس کی آنکھیں اپنے اردگرد کے ماحول کی رنگینیوں اور عیش و آرام کو دیکھ کر خیرہ ہوجاتی ہیں اور آدمی یورپ کی زندگی کو انسانی تہذیب کی معراج سمجھ لیتا ہے۔ لیکن اقبال تو برسوں یہاں رہے اور پھر اس کے سب سے بڑے ناقد بنے۔ سچ بات یہ ہے کہ مغرب کے اس تفصیلی سفر میں اگر اقبال کا کلام میرا ہمسفر اور ہمراہ نہ ہوتا تو میں اس رنگینی کے پیچھے چھپی ہوئی تاریکی بلکہ اتھاہ تاریکی کو نہ سمجھ پاتا۔\n\nیورپ میں بہت روشنیٔ علم و ہنر ہے\nحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات\n\nمادہ پرستی پر استوار اس تہذیب میں علم و ہنر کی روشنی تو نظر آتی ہے لیکن انسانی اخلاقیات اور اجتماعی محبتوں کے اصول سے عاری ہے۔ اس وقت یورپ میں سب سے زیادہ تعداد بوڑھے لوگوں کی ہوتی جا رہی ہے۔ آپ ان بوڑھوں کو عالم تنہائی میں موت کی جانب جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ کسی موت کی خبر اس کا پڑوسی میونسپل سروس والوں کو دیتا ہے اور کوئی اولڈ ایج ہوم میں چند نرسوں کے ہاتھوں ریاست کے زیر انتظام جنازے کی رسوم کے بعد قبر میں اتر جاتا ہے۔\n\nشام ڈھلے شراب خانوں پر افسردہ و پژمردہ نوجوانوں کا ہجوم ہوتا ہے جو اس غم کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوتے ہیں کہ کسی کو اس کا بوائے فرینڈ چھوڑ گیا تو کسی کو اس کی گرل فرینڈ۔ انھی میزوں پر نئے ساتھی کی تلاش ہوتی ہے جسے ہو سکتا ہے اگلے چند ماہ ہی ساتھ چلنا ہو۔ آیندہ آنے والی نسلوں سے یہ لوگ اس قدر مایوس ہیں کہ کوئی بچے پیدا کرنا نہیں چاہتا کہ اگر زندگی کے آخری ایام اکیلے یا اولڈ ایج ہوم میں گزارنا ہے تو پھر اولاد کا کیا فائدہ۔ لیکن میرے جیسے سیاح ان کے سرخ و سفید تمتماتے چہروں کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ کس قدر مطمئن لوگ ہیں۔ اقبال نے کہا تھا\n\nچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شام\nیہ غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات\n\nجس طرز معاشرت میں آج یورپ زندہ ہے اسے اقبال نے جس طرح بیان کیا ہے، وہ کمال ہے۔\n\nبے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس\nکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات\n\nعریانی و مے خواری تو سب کو نظر آتی ہے لیکن بے کاری و افلاس کے بارے میں لوگ کہیں گے کہ وہ کیسے۔ یورپ میں ایک ایسے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد رکھی ہے جس میں دولت کی بنیاد پر استحصال کیا جائے۔ تمام بڑی بڑی فیکٹریاں چین، مشرق بعید، لاطینی امریکا اور افریقہ منتقل کر دی گئیں ہیں۔ وہ قومیں اپنا خون پسینہ ایک کر کے بہت ہی کم اجرت پر کام کرتی ہیں اور یورپ کا سرمایہ دار مال دار ہوتا چلا جاتا ہے۔\n\nاس سے وہ جو ٹیکس دیتا ہے وہ سب سے پہلے شہری سہولیات پر خرچ ہوتا ہے اور پھر ان افلاس زدہ لوگوں پر جو اس معاشرے میں سوشل سیکیورٹی کے نام پر وظیفہ کھاتے ہیں۔ دنیا کے سب سے زیادہ منشیات کے عادی انھی معاشروں میں ہیں۔ جو کبھی وظیفے پر جیتے ہیں اور کبھی علاج کے نام پر آبادکاری مراکز میں۔ تیس فیصد کے قریب بوڑھے یا پنشن لیتے ہیں اور اکیلے رہتے ہیں یا پھر اولڈ ایج ہوم میں۔ اسپین سے اٹلی، فرانس سے بلجیئم اور ناروے سے جرمنی تک کے اس سفر میں اقبال بہت یاد آ رہے ہیں۔ پورے کا پورا معاشرہ مادیت کے شکنجے میں جکڑا ہوا اور جس کی بنیاد ایک خون چوسنے والے سودی نظام پر رکھی گئی ہے۔\n\nرعنائی تعمیر میں رونق میں صنعا میں\nگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بینکوں کی عمارات\nظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جواء ہے\nسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات\n\nاس پورے یورپ کا سب سے امیر شہر جنیوا ہے جو دنیا بھر کے چور اور بددیانت حکمرانوں کے پیسوں کو بینک میں رکھ کر سود سے اپنی فی کس آمدنی بڑھاتا ہے۔ یورپ خود کو اس صدی میں ایک مضطرب یورپ کہتا ہے۔ اس کے مفکرین کہتے ہیں یہ ہماری اضطراب ”Anxiety” کی صدی ہے۔ اقبال نے ایک سو سال پہلے کہا تھا ان کے ہاں ترقی کی معراج انسان نہیں سائنسی ایجادات ہیں اور ایجادات جسمانی سکون دیتی ہیں ذہنی اطمینان نہیں۔\n\nوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم\nحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات