ایک ”سیکولر“ مسلمان سے مکالمہ - ابوبکر فاروقی

ابوبکر فاروقیتمام مسائل کا حل وہی ہے جو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ اس نے بڑے ادب سے کہا۔ میں نے اسے شام کی چائے کی دعوت دی اور کہا کہ باقی باتیں پھر ہوں گی۔ وہ میرے قریبی دوستوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کا ذہن بجلی کی سی تیزی سے کام کرتا تھا۔ میں اس کی ذہانت اور حاضر دماغی سے متاثر بھی تھا مگر اس سب کے باوجود پاکستان کے حوالے سے اس کےنظریات میرے لیے بہت تلخ تھے۔ مجھے حیرت تھی کہ وہ ایک اچھا مسلمان تھا مگر نجانے کیسے اس کے خیالات سیکولرزم کی بھینٹ چڑھ گئے تھے، اور آج وہ کہتا تھا کہ پاکستان کے استحکام کی کل بھی ایک ہی صورت تھی اور آج بھی اس کے مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ ریاستی امور سے اسلام کو الگ تھلگ کر دیا جائے۔\n\nشام کو وہ مجھ سے ملنے آیا تو میں نے گرمجوشی سے اس کا استقبال کیا۔ کچھ دیر تک ہم ایک دوسرے سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر چائے پینے لگے اور چائے کا پہلا گھونٹ پیتے ہی اس نے اصل گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح سےکیا،\nآخر آپ کو سیکولر پاکستان سے مسئلہ کیا ہے؟\nمیری چائے ٹھنڈی ہو رہی تھی مگر مجھے اس کی پرواہ نہ تھی اور میں چائے پی بھی نہیں رہا تھا۔ میں نے اس کی جانب دیکھا اور کہا، سیکولر پاکستان کیا ہوتا ہے؟ پاکستان تو ہے ہی اسلام کی بنیاد پر۔ سیکولر ملک بنانا ہے تو یہ بنیاد ختم کر کے ایک نیا ملک بنانا پڑے گا اور وہ ملک پاکستان نہیں، کوئی اور ملک ہوگا۔ پاکستان تو سیکولر نہیں ہو سکتا۔\nوہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر یوں گویا ہوا،\nیہ سب مطالعہ پاکستان کا جھوٹ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، پاکستان تو بنانا ہی تھا، اسلام کا اضافہ وقت کی ضرورت تھی اور ایک political tactic تھا جناب۔ اس نے یہ بات کی تو مجھے یوں لگا جیسے پاکستان کے اس ”سیکولرمسلمان“ شہری نے ایک تیر میرے جگر میں پیوست کردیا ہے۔\nیہ سیاسی چال کس کی تھی؟ میں نے گفتگو کو آگے بڑھایا۔\nظاہر ہے میں قائد اعظم ہی کی بات کر رہا ہوں۔ وہ خود ایک لبرل اور سیکولر شخص تھے، وہ کیونکر چاہتے کہ ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو۔ اس نے میرے سوال کا جواب دیا تو میں نے اس سے کہا کہ وہ علامہ اقبال کے بارے میں اپنی رائے دے۔ کہنے لگا کہ علامہ اقبال بلاشبہ ایک اسلامی نظریات کے حامل شاعر، مفکر اور لیڈر تھے۔\nمیں نے پھر پوچھا، تو کیا علامہ اقبال مردم شناس نہ تھے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کی تکمیل کے لیے بقول آپ کے ایک لبرل اور سیکولر شخص پر اس قدر بھرسہ کر رہے تھے اور قائدِ اعظم اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی بات کر کے منافقت کر رہے تھے؟\nجناب منافقت تو اسے آپ کہتے ہیں نا! اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ یہ سیاسی چالیں ہوتی ہیں۔ قائد اعظم ایک ماہر سیاستدان تھے، وہ جانتے تھے کہ پاکستان بنانے کے لیے کون سی چال کس وقت چلنی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پاکستان بن ہی نہیں سکتا تھا۔ اس نے چائے کا گھونٹ پینے کے بعد ایک ہی سانس میں کہا۔\nمیں سمجھا کہ شاید وہ ابھی اور کچھ کہے گا مگر وہ میری جانب ہی دیکھ رہا تھا اور شاید میرے جواب کا منتظر تھا۔ میں نے کہا،\n”انڈین نیشنل کانگریس بھارت کو ایک آزاد سیکولر ریاست بنانے کے لیے ہی سرگرمِ عمل تھی اور اس نے کبھی کھل کر یہ نہیں کہا تھا کہ بھارت ہندوئوں کاہے اور مسلمانوں کی اس میں کوئی جگہ نہیں۔ آپ جیسے بہت سے مسلمان جو اس وقت خود کو سیکولر اور لبرل کہتے تھے، وہ مسلم لیگ کے ساتھ نہ ہوئے اور کانگریس کے موقف کی حمایت کرتے تھے کہ ہمیں اسلامی فلاحی ریاست کے قیام سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ہم تو ہندوئوں کے ساتھ مل کر رہیں گے اور بھارت کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے، ان کا نصب العین ایک آزاد سیکولر بھارت تھا۔ تو قائداعظم کیوں مسلمانوں کو الگ کرنا چاہتے تھے اور کیوں اس سیکولر ریاست کے قیام کے حق میں نہ ہوئے؟“\nمیں نے سوال کیا تو وہ کچھ سوچ میں پڑ گیا اور کچھ دیر بعد بولا،\n”متحدہ بھارت تو سیکولر ہو ہی نہیں سکتاتھا، یہ قائد اعظم نے دیکھ لیا تھا کہ اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوتا تو بھارت میں ہندو مسلمانوں کو اپنا غلام بنا لیں گے اور وہ انڈیا سیکولرانڈیا نہیں ہوگا، ایک ہندو انڈیا ہوگا۔ لہٰذا قائدِ اعظم نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایک علیحدہ سیکولر ریاست قائم کریں گے۔“\nعلیحدہ وطن کی تحریک میں مسلم لیگ قائداعظم کے ساتھ نہیں بلکہ قائداعظم مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ دوم، یعنی آپ یہ مانتے ہیں کہ پاکستان اسی وجہ سے بنا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان ہندوئوں کے تابع ہو جائیں گے اور ان کی غلامی کا شکار ہو کر اپنا تشخص برقرار نہ رکھ سکیں گے؟ میں نے ایک بار پھر سوال کیا۔\nجی ہاں، اس بات پر تو اعتراض نہیں۔ اس نے جھٹ کہا تو میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں اپنے دوست سے مخاطب ہوا،\n”میرے بھائی! ابھی آپ نے جس حقیقت کا اعتراف کیا ہے یہی تو دوقومی نظریہ ہے، یہی پاکستان کی وہ بنیاد ہے جسے آپ کچھ دیر پہلے تک تسلیم نہیں کر رہے تھے۔ جب آپ یہاں تک آ گئے ہیں تو کیوں ایک بے بنیاد پراپگینڈے کا شکار ہوتے ہیں؟“\nاب کمرے میں مکمل خاموشی تھی، وہ کچھ سوچ رہا تھا مگر بول نہیں رہا تھا۔ الفاظ اس کے دماغ میں یقینا گردش کر رہے تھے مگر زبان پر نہیں آرہے تھے۔ میں نے اسے خاموش پایا تو پھر گویا ہوا،\n”دوست! سیاسی چال کی جو بات آپ کر رہے ہیں، اس سے کسی فرد کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے، مان لیا چند افراد کو بھی دھوکہ دیا جا سکتا ہے مگر کسی قوم کے آگے یہ منافقت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ براہ کرم قائداعظم پر اتنا بڑا بہتان نہ لگائیں۔ قائداعظم لبرل اور سیکولر ہرگز نہیں تھے، ان کے رہن سہن میں مغربی تہذیب کی جھلک ضرور تھی مگر ان کی قرآن فہمی کے بارے میں شاید آپ کو علم نہیں۔ وہ ایک مردِ مومن تھے، میں اور آپ تو بمشکل مسلمان ہیں۔ اب ذرا ان قربانیوں پر آئیے جو کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے ایک نعرے پر مسلمانوں نے دی ہیں۔ کیا وہ سکھوں کی کرپانوں سے کٹنے والے مسلمان خاندان ایک سیکولر ریاست کے لیے قربان ہوگئے؟ کیا وہ لاکھ لاکھ افراد کے قافلے جو ہندوستان سے پاکستان کی جانب چلے اور جب پہنچتے تو صرف ہزار ہزار لوگ تھے، وہ سیکولر پاکستان کے لیے مر مٹے؟ وہ لوگ جنھیں آج کوئی نہیں جانتا اور جن کا ذکر کتابوں میں بھی نہیں ہوتا، جنھیں قبر ملی نہ کفن اور جنھیں پاکستان پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا، وہ ایک لبرل اور سیکولر پاکستان کے قیام کے لیے قیامت جھیل گئے؟“\nیہ سب کہہ کر میں خاموش ہو گیا۔ اب وہ بھی مکمل خاموش تھا اور اس کی آنکھوں میں ندامت تھی۔ کمرے میں کچھ دیر یونہی سکوت طاری رہا اور پھر اس نے لبوں کو جنبش دی،\n”آپ صحیح کہتے ہیں ہم نے انگریزوں سے پاکستان کی تاریخ پڑھ کر بڑے آرام سے سیکولر پاکستان کا نعرہ لگایا لیکن اپنے آبا کی قربانیاں ہماری نظر سے نہیں گزریں۔ ہمیں کسی نے بتایا ہی نہیں اور پروپیگنڈے سے متاثر ہوگئے۔ مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کو ایک طرف رکھ دیا۔ آج میری آنکھیں کھل گئی ہیں، پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ ہی ہے، اور قیامت تک پاکستان کا یہی مطلب رہے گا، کوئی اسے نہیں بدلے گا، کوئی اسے بدل نہیں سکتا۔“\nمیں مسکرایا اور دل ہی دل میں کہنے لگا،\n”مسلمان سیکولر نہیں ہوتا، اگر اس کے دل میں ایمان کی طاقت ہے تو وہ چند لمحوں کے لیے قافلے سے الگ ہونے کے باوجود لوٹ کر واپس آ ہی جاتا ہے۔“