قائد تحریک کا مستقبل-سلیم صافی

saleem safi\n\nشاید بعض لوگ یقین نہ کریں لیکن اللہ گواہ ہے کہ اردو بولنے والے میری محبوب ترین قوم میں سے ایک ہے ۔ اس قوم کو میں اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ پاکستان ہم سب کے لئے بن رہا تھا لیکن اس کے لئے گھر بار چھوڑنے اور جان ومال دائو پر لگانے کی قربانی ان لوگوں نے دی ۔ وہ اپنے ساتھ بموں یا بندوقوں کی بجائے علم ، ادب ،تہذیب ، ہنر اور بہترین اردو زبان لائے، جس سے مجھ سمیت ہر پاکستانی مستفید ہوا اور ہورہا ہے ۔ انہی کی صفوں میں عبدالستار ایدھی جیسی عظیم شخصیت پاکستان آئی جو پوری انسانیت کا فخر تھے۔\n\nانور مقصود ہوں کہ فاطمہ ثریابجیا، احمد جاوید ہوں کہ ڈاکٹر خالد مسعود ، جاوید میاں داد ہوں کہ معین اختر ، ایک دو نہیں ،ہزاروں اردو بولنے والے ہیں جنہوں نے ہم سب یعنی پنجابیوں، بلوچوں، پختونوں، سندھیوں، کشمیریوں اور گلگتیوں اوربلتیوں کے ملک یعنی پاکستان کے نام کو دنیا میں روشن کیا اور روشن کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اردو بولنے والوں کے ہر ہر فرد کو اپنا محسن سمجھتا ہوں لیکن ان کی صفوں میں سے بعض کا میں خصوصی طور پر احسان مند ہوں اور ان خصوصی محسنوں میں ایک مصطفیٰ کمال بھائی بھی ہیں۔جنہوں نے عزت و محبت کے ساتھ ساتھ مجھے غیرمعمولی اعتماد کے بھی قابل سمجھا۔\n\nمیرے نزدیک اگر کوئی انسان آپ پر اعتماد کرکے دل کی بات آپ کو بتاتا ہے تو یہ اس کا بہت بڑا احسان ہوتا ہے اور مصطفیٰ بھائی نے کسی زمانے میں اپنی زندگی کا رسک لے کر دل کی باتیں بتا کر میرے اوپر عظیم احسان کیا۔ مثلاًگزشتہ انتخابات سے قبل 2011 سے وہ مجھے پارٹی کے اندر محسوس کرتے ہوئے گھٹن سے آگاہ کرتے رہے۔ ان کے ساتھ دوستی اور احترام کا تعلق ضرور تھا لیکن میں پاکستانی صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پختون بھی تھا اور انہیں یہ بھی علم تھا کہ ان کے اس وقت کے شدید مخالف شاہی سید صاحب بھی میرے دوست ہیں ۔ یوں وہ مجھ پر شک کرسکتے تھے لیکن پھر بھی الطاف حسین سے متعلق بعض دل کی باتیں انہوں نے میرے ساتھ شیئر کیںاور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے ان کے اعتماد پر پورا اتارد یا ۔\n\nمثلاً گزشتہ انتخابات سے قبل الطاف حسین صاحب نے کراچی کے اردو بولنے والوں کو پختونوں سے لڑاکر پانچ چھ ہزار لاشیں گرانے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی کوشش تھی کہ انتخابات سے قبل کراچی میں ایسی جذباتی فضا بنائی جائے کہ سب اردو بولنے والے انتخابات میں ایم کیوایم کے پیچھے کھڑے ہوجائیں ۔ مصطفیٰ کمال بھائی اور ان کے کچھ قریبی ساتھی اندر کوشش کرتے رہے کہ اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنایا جائے جبکہ دوسری طرف میں نے کوئی تفصیل بتائے بغیر شاہی سید صاحب اور اسفند یار ولی خان صاحب کو سمجھانے بجھانے کی کوششیں شروع کردیں ۔ اسی تسلسل میں میں نے اے این پی کے سینیٹر عبدالنبی بنگش اورمصطفیٰ بھائی کی ملاقات بھی کرائی ۔ ہم شاہی سید صاحب کی منت کرتے رہے کہ وہ ایم کیوایم کے تلخ بیانات یا اشتعال دلانے والے اقدامات کا جواب نہ دیں۔ اللہ ان کا بھلا کرے ہماری درخواستوں پر انہوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا اور تصادم کی جو فضا الطاف حسین صاحب پیدا کرنا چاہتے تھے، اس طرف ماحول کو جانے نہیں دیا ۔ یوں مصطفیٰ کمال کی کوششوں، عبدالنبی بنگش کی دانشمندی اور شاہی سید صاحب کے صبر کی وجہ سے وہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔\n\nاسی طرح گزشتہ عام انتخابات کے بعد جب پی ٹی آئی نے تین تلوار پرمبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تو اب کی بار قائد تحریک نے ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کولڑانے کا منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے سے متعلق ایک بار پھر مصطفیٰ کمال بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا اور تاکید کی کہ پی ٹی آئی میں اپنے دوستوں سے رابطے کروں اور وہی کردار ادا کروں جو میں نے اے این پی کے معاملے میں ادا کیا تھا۔ میں نے ویسا ہی کیا لیکن اصل رول پھر مصطفیٰ کمال نے ادا کیا۔ انہوں نے انیس قائم خانی اور دیگر ہم نظر ساتھیوں کے ذریعے پارٹی کے اندر رہ کر بچ بچائو کیا اور الطاف حسین کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا کہ وہ لوگ جاکر اسی تین تلوار چوک میں اسی جگہ جوابی دھرنا دیں جہاں پی ٹی آئی کے لوگ بیٹھے ہیں ۔ اسی حکم عدولی کی وجہ سے الطاف حسین صاحب نے اگلے روز نائن زیرو میں رابطہ کمیٹی کے ارکان کو ورکرز سے بے عزت کرایا ۔ جس کے بعد مصطفیٰ کمال صاحب اور انیس قائم خانی صاحب ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔\n\nمیرا اس وقت بھی ان کو مشورہ تھا کہ وہ پارٹی کے اندر رہ کر اپنا مثبت کردار ادا کریں لیکن رو رو کر مصطفیٰ بھائی یہی جواب دیتے رہے کہ وہ اپنے ضمیر پر اس بوجھ کو مزید برداشت نہیں کرسکتے ۔اسی طرح یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب مصطفیٰ کمال ابھی ایم کیوایم میں تھے اور بظاہر الطاف حسین کے پسندیدہ ترین لیڈر شمار کئے جاتے تھے ۔ لندن میں الطاف حسین سے ملاقات کے بعد میں واپس لوٹا تھا۔ وہاں میں نے محسوس کیا کہ ان کی صحت تیزی کے ساتھ خراب ہورہی ہے ۔ اس ملاقات میں میں نے ان کو ذہنی لحاظ سے بھی غیرمتوازن پایا۔ میں نے مصطفیٰ کمال کے سامنے الطاف حسین صاحب کی صحت کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ مر نہ جائیں ۔ لیکن جواب میں مصطفیٰ کمال نے فرمایا کہ سلیم بھائی! مطمئن رہیں وہ زندہ رہے گا ۔\n\nاس معاملے میں ان کا اعتماد دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ مصطفیٰ بھائی! ان کی صحت بہت خراب ہے اور آپ کیا اللہ سے مشورہ کرکے آئے ہیں جو اس اعتماد سے کہتے ہو کہ وہ زندہ رہیں گے ۔ وہ کہنے لگے کہ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے کہ اس طرح کے بندے کی حقیقت کو آشکار اور رسوا کئے بغیر اس دنیا سے بھیج دے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلیم بھائی! الطاف حسین کے جرائم سے آپ جیسے لوگ بہت کم واقف ہیں ۔ اس بندے نے جو ظلم ڈھائے ہیں اور جس طرح ہم جیسے لوگوں کو دھوکے دئیے ہیں ، ان کا آپ لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے اور میرا ایمان ہے کہ اس طرح کے انسان کو رسوا کئے بغیر اللہ اس دنیا سے نہیں اٹھائے گا۔ میں مصطفیٰ بھائی کی بہت ساری خوبیوں کا تو پہلے سے قائل تھا لیکن آج ان کی بصیرت یا پھر اللہ پر مضبوط اعتقاد کا بھی قائل ہوگیاہوں۔ ان کی پیشگوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی اور الطاف حسین صاحب نے اپنی حقیقت خود اپنی زبان سے بیان اور عمل سے آشکار کردی۔\n\nکچھ لوگ حیران ہوں گے اور بجا حیران ہوں گے کہ اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود الطاف حسین صاحب سے میرے راہ و رسم کیسے قائم رہے تو جواباً عرض ہے کہ اس کی تین وجوہات تھیں ۔ ایک تو صحافت تقاضا کرتی ہے کہ آپ ہر طرح کے انسان سے صحافتی ضرورت کے تحت ربط ضبط رکھیں ۔ دوسری اور سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ ان کے ساتھ میرا پاکستانیت کا رشتہ تھا ۔ وہ بھی پاکستانی تھے اور میں بھی پاکستانی ہوں ۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ مروجہ معنوں میں مذکورہ بالا عظیم قوم یعنی اردو بولنے والوں کے لیڈر تھے اور اردو بولنے والوں کے احترام میں ، میں نے شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود الطاف حسین صاحب کو عزت دینے کی کوشش کی لیکن اب الطاف حسین صاحب نے ازخودان دونوں رشتہ کو توڑ دیا۔\n\nپاکستان کو گالی دے کر انہوں نے ہم جیسے لوگوں کے ساتھ پاکستانیت کارشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے توڑ دیااور میں کبھی اس شخص کو عزت نہیں دے سکتا جو میری دھرتی کی بے عزتی کرنا چاہتا ہو۔ اسی طرح جن اردو بولنے والوں کی وجہ سے میں ان کی عزت کرتا رہا ، آج انہوں نے خود ثابت کردیا کہ وہ ان کے محسن نہیں ، دشمن ہیں ۔ وہ اب ان لوگوں کی جان نہیں بلکہ ان کے لئے وبال جان ہیں ۔ وہ اپنی انا کی تسکین کے لئے ان کی انائوں اور عزتوں کو قربان کررہے ہیں اور یہ کہ اب وہ قائد تحریک نہیں بلکہ قائد تخریب ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گناہوں اور جرائم کی سزا ، اب ان کی پارٹی اور اردو بولنے والوں کو دی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پے درپے ، جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے ریاستی ادارے ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی ان کی جماعت کے خلاف اشتعال میں آتا ہے۔\n\nتاہم میں سمجھتا ہوں کہ اگر ریاستی ادارے ایم کیوایم یا پھر اردو بولنے والوں کے خلاف اشتعال میں آتے ہیں تو نادانستہ الطاف حسین کی سازش کامیاب کرواتے ہیں ۔ اس لئے حکومت اور ریاستی اداروں سے ہماری التجا ہے کہ وہ الطاف حسین کے جرائم کی سزا پوری ایم کیوایم کو نہ دیں ۔ بطور جماعت ایم کیوایم کا باقی رہنا بہت ضروری ہے ۔ ریاستی اداروں کو چاہئے کہ وہ سختی سے کارروائی کریںلیکن صرف ان عناصر کے خلاف جو جرائم پیشہ ہیں ۔\n\nضروری ہے کہ ایم کیوایم کے رہنمائوں اورکارکنوں کو سہولت دی جائے کہ وہ الطاف حسین اور جرائم پیشہ عناصر سے اپنے آپ کو الگ کریں لیکن فاروق ستا ر صاحب اور ان کے ساتھیوں کو بھی چاہئے کہ وہ دونوں کشتیوں پر سواری کی کوشش نہ کریں ۔ انہیں نہ صرف الطاف حسین اور ان کے ہمنوائوں سے مکمل لاتعلقی کرنی ہوگی بلکہ اسی طرح ان کی مذمت بھی کرنی ہوگی جس طرح کہ مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھی کررہے ہیں ۔ انہیں اب پورے خلوص کے ساتھ ایم کیوایم کی صفوں میں شامل جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لئے ریاستی اداروں کا ساتھ دینا چاہئے ۔ ریاستی اداروں نے غصے میں آکر جبر سے کام لیا تو یہ ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوگا اور الطاف حسین ہی کا کام آسان ہوگا لیکن فاروق ستار اور ان کے ساتھی بھی اگر چالاکی یا غیرضروری مصَلحت سے کام لے کر اگر پاکستان اور الطاف حسین کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کریں گے تو ان کو نقصان ہوگا بلکہ خاکم بدہن کسی مرحلے پر ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بھی اس انجام کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس کا الطاف حسین کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • so sad,wahi bat proaf hogai k ab hamere writer lakyngye k MQM pa hath na dala jaye riyiasath kaly nuqsan hoga,MQM k crimes me sirf Altaf nai ine k sath Mustafa kamal Farooq satar,qayium khani ,waseem Akhatr ine sub ne mil kr Karachi me khoon or aag kso sad,wahi bat proaf hogai k ab hamere writer lakyngye k MQM pa hath na dala jaye riyiasath kaly nuqsan hoga,MQM k crimes me sirf Altaf nai ine k sath Mustafa kamal Farooq satar,qayium khani ,waseem Akhatr ine sub ne mil kr Karachi me khoon or aag kala gia ha,ise coulmn ka matlab ye ha k sirf alataf ka fault ha baqi sare firishtay ha,\r\nLike · Reply · Just nowala gia ha,ise coulmn ka matlab ye ha k sirf alataf ka fault ha baqi sare firishtay ha,\r\nLike · Reply · Just now

  • سلیم صافی صاحب ،اگر کوئی جلتے توے پر بھی بیٹھ کر یہ کہے کہ لاطاف حسین کراچی مین کون کرابہ چاہتا تھا تو مین نہیں مانوں گی \r\nحالانکہ آپ میرے پسندیدہ صحافیوں میں سے ایک ہیں لیکن آپکی یہ بات کسی طور نہیں مانی جا سکتی \r\nیہ غلط بیانی آپ کن وجوہات کی بناء پر کر رہے ہین میں نہیں جانتی لیکن یہ جھوٹ ہے یہ آنے والا وقت ثابت کرے گا ان شاء اللہ