دیوی - دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم ہم تقریبا پندرہ سال بعد ملے تھے. وہ نوجوانی کے ایام تھے جب ہم دونوں گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے. ایک دوسرے سے کبھی نہ ختم ہونے والی باتیں اور پھر خوبصورت اشعار تلاش کرکے ایک دوسرے کو بتلانا، اور ایک ایسی دنیا کے بارے سوچنا جو ہماری سوچوں کے علاوہ کہیں وجود نہ رکھتی. اس کا شاداب چہرہ، ہنستا اور سدا مسکراتا انداز دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا. میں اسے اکثر کہتا، تم ایک دیوی ہو اور میں ایک پجاری، وہ اس پر ہنس پڑتی اور میں بڑے انہماک سے اس کا چہرہ دیکھتا، مگر اب پندرہ برس بعد ایسی کوئی بات نہیں تھی.\n\nاب میرے سامنے ایک تاثرات سے عاری چہرہ تھا اور اس کے ساتھ اس کے پانچ بچے جن کی عمریں مختلف تھیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کا مسکراتا چہرہ اب کہیں بھی تلاش نہیں کیا جاسکتا تھا. میں نے اس کی تلخ ازدواجی زندگی بارے بہت کچھ سنا تھا مگر گذشتہ پندرہ برسوں میں ہم مل نہیں سکے تھے. ہم نے بمشکل ایک دوسرے کا حال پوچھا، پتہ چلا کہ ہمارے پاس اب ایک دوسرے کو سنانے کے لیے زیادہ باتیں نہیں ہیں۔ جب ہم روز ملتے تھے تو ہماری باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں اور اب جب ہم برسوں بعد ملے تھے تو ہمارے پاس اب ایک دوسرے کو سنانے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ جب ہم ایک دوسرے کو الوداع کہنے لگے تو میں نے پوچھا کیسی ہو؟ وہ بولی اچھی ہوں. میں نے کہا کوئی بات کرو، وہ تلخی سے میری طرف دیکھ کر بولی، فقط ایک بات، کاش تم مجھے ایک لڑکی سمجھتے جسے حاصل کرنا ہوتا، ایک دیوی نہیں جس کی فقط پوجا کرنا ہوتی.

ٹیگز

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.