اردو کا چہرہ مسخ نہ کریں - سید مظفر حق

ایک مرتبہ پھر بعض دوستوں نے اردو رسم الخط اور رومن اردو کا مسئلہ چھیڑ دیا ہے بلکہ سچ پوچھیں تو چھیڑخانی کی ہے. اور بڑی عجیب بات ہے کہ اس کی حمایت میں خامہ فرسائی یا لب کشائی کرنے والے اکثر ہمارے ترقی پسند یا رائج الوقت اصطلاح میں لبرل دوست ہیں. بھارت میں اردو کو دیوناگری میں لکھنے کی حمایت کرنے والوں میں قراۃ العین حیدر اور جاوید اختر کے نام سامنے آئے تھے .اس سے بھی پہلے کانگریس کے زبردست حامی ترقی پسند ادیب منشی پریم چند جو اردو ادب میں ایک بڑا نام تھے، وہ گاندھی جی کی خواہش کے مطابق اردو کے بجائے ہندی رسم الخط میں لکھنے کا آغاز کر چکے تھے.\n\nیہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بےجا اور بےمحل نہ ہوگا کہ جب گاندھی جی سے پوچھا گیا کہ اگر ہندوستان غیر منقسم رہتا ہے تو اس کی سرکاری زبان کیا ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہی جو عام بول چال کے لیے مستعمل ہے، آپ اسے اردو، ہندی یا ہندوستانی کچھ بھی نام دے لیں لیکن جب ان سے رسم الخط کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اردو ہوگا تو انہوں نے بلاتوقف جواب دیا کہ نہیں وہ تو دیوناگری ہوگا اور اردو تو قرآن کے حروف میں ہے. حالانکہ دیوناگری اسکرپٹ بھی سنسکرت اور ویدوں سے لیا گیا ہے جو ہندوؤں کی مذہبی اساس ہیں.\n\nاسی طرح جب تحریک پاکستان کے زعماء اور قائداعظم نے دو ٹوک الفاظ میں اردو اور صرف اردو کو پاکستان کی سرکاری قومی زبان بنانے کا اعلان کیا تھا تو اس سے مراد اردو رسم الخط تھا ورنہ بول چال کی زبان تو کم و بیش یکساں ہی تھی. اسی لیے نہرو خاندان جیسے اردو داں کانگریسی لیڈروں نے اپنی مذہبی بنیاد کے مطابق دیوناگری رسم الخط کو اختیار کیا اور بھارت میں اردو کو نیست و نابود کرنے کی بھرپور کوشش کی جس کی وجہ سے نہرو کے جوش سے بےتکلف دوست کو پاکستان آنا پڑا. اور آج بھارت میں اردو رسم الخط جاننے والوں کا قحط الرجال ہے.\n\nرسم الخط کسی بھی زبان کا چہرہ ہوتا ہے اور چہرہ مسخ کرنے کا مطلب اس کی شناخت کو مٹا دینا ہے. برطانیہ نے دنیا پر حکومت کی تو اس نے اپنی سیاسی ضروریات اور حکومتی کاروبار کے لیے مقامی زبانوں کا انگریزی رسم الخط اختیار کیا. انگریزی کو مقامی زبانوں کے رسم الخط میں رائج کرکے استعمال نہیں کیا. جب ترکی میں نام نہاد مغربیت کو جبراً نافذ کیا گیا تو انہوں نے سب سے پہلے ترکی زبان کے عربی رسم الخط کو لاطینی الفاظ کو ٹھونسا اور ترکی کا لسانی رشتہ اسلامی دنیا سے منقطع کیا.\n\nاردو رسم الخط صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارا رشتہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطِ ایشیاء کے ملکوں سے جوڑتا ہے. زبان کے رسم الخط کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگاسکتے ہیں کہ ہزاروں سال پرانی مردہ زبان عبرانی جو دنیا کے کسی خطّے میں نہیں بولی جاتی تھی، اسرائیل نے اسے زندہ کرکے اپنی سرکاری اور قومی زبان بنا دیا. جہاں تک انٹرنیٹ کی بات ہے کہ وہاں نئی نسل کی اردو سے دوری کی وجہ سے رومن اردو کا استعمال ہورہا پے، اس کی بڑی وجہ آغاز میں مختلف سافٹ ویئرز میں اردو کی عدم دستیابی تھی اور اب بیشتر لوگ اردو ٹائپنگ سے ناواقفیت اور تساہل کی وجہ سے رومن استعمال کر رہے ہیں مگر ان کی تعداد نسبتا کم ہے اور ایک بڑی تعداد اب اردو استعمال کر رہی ہے. ہمارے وہ بچّے جو انگلش ذریعہ تعلیم کی وجہ سے رومن میں لکھتے ہیں وہ بھی ثانوی زبان کے طور پہ اردو رسم الخط سے ضرور واقف ہیں اور اگر ہم ان کے رومن اردو میں لکھے گئے کا جواب اردو رسم الخط میں دیں تو یہ ان کی مدد بھی ہوگی اور اردو سے رغبت دلانے کا ذریعہ بھی.