آئیے اپنی زبان درست کریں - سیّد سلیم رضوی

سلیم رضوی برسوں پہلے جب مَیں راولپنڈی کے ایک روزنامے سے نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے وابستہ تھا تو اپنی دِلچسپی اور کچھ ذمہ داری سمجھ کر تیار شدہ اِدارتی صفحہ دیکھنے بیٹھتا تو ٹائپسٹوں کے علاوہ سب ایڈیٹرز کی اِس قدر اغلاط ملاحظے میں آتیں جو ٹائپنگ کے علاوہ خالصتاً نیوز ایڈیٹرز کی ذاتی کوتاہی سے وقوع پذیر ہوتیں۔ تصحیح کی غرض سے ان اغلاط کو نشان زد کرتے کرتے صفحے کے حاشیے پُر ہو جاتے۔ اخبار کی کاپی ڈاؤن کرنے میں چونکہ وقت بہت کم ہوتا ہے اِس لیے سب ایڈیٹر صاحبان میری اِس عادت سے بڑے جزبز ہوتے اور صلح جوئیانہ انداز میں باقاعدہ درخواست گزار ہوتے کہ’’جانے دِیا کریں جی سلیم صاحب، اِتنی درستیاں کرنا ہمارے بس میں نہیں۔‘‘ دراصل اِس سے اُن کی اہلیت پر بھی حرف آتا تھا۔ اب بھی صف اوّل کے اخبارات میں جب بہت مضحکہ خیز غلطیاں نظر سےگزرتی ہیں تو پسِ پردہ بیٹھے ہُوئے لائق فائق سب ایڈیٹرز اور پروف ریڈرز نظروں میں گھوم جاتے ہیں۔\nزبان و بیاں میں جو غلطیاں عام ہیں یا زیادہ تر پڑھنے سننے میں آتی ہیں، خاص طور پر اُردو سے شغف رکھنے والے طلبہ و طالبات کا اُن سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔\n درجِ ذیل فقروں پر غور کیجیے اورانھیں اپنے طور پر درست کیجیے \n( تصحیح اور تصریح ہم آئندہ مرحلے پر پیش کریں گے)\n\n1۔ مضمون لکھتے وقت موضوع کے بارے میں کتابوں سے اِستفادہ حاصل کرنا انکل زبیر کے معمول میں شامل ہے۔\n2۔ مُنشی جی نے ایک بار پھر اپنی بات کا اعادہ کرتے ہُوئے کہا کہ مُلک چلانا موجودہ سیاست دانوں کے بس میں نہیں۔\n3۔ کوہِ طور کا پہاڑ، آبِ زمزم کا پانی، شب برات کی رات اور ماہِ رمضان کا مہینہ ہماری دِینی روایات کے اہم حوالے ہیں۔\n4۔ ٹیم کے ہارنے کی وجہ یہ تھی کہ کھلاڑیوں نے نہ ہی میچ کی تیاری کی تھی اور نہ ہی وہ پورے جذبے سے کھیلے۔\n5۔ کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ آج شام ہم کراچی روانہ ہو جائیں؟\n6۔ جذباتی نوجوان نے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔\n7۔ اپنی ہینڈ رائٹنگ پر توجہ دو، تمہاری لکھائی دِن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔\n8۔ میری کامیابی بزرگوں کے دم قدم سے ہے، اگر یہ طاغوتی طاقتیں میری راہنمائی نہ کرتیں تو آج میں ذلیل و خوار ہو رہا ہوتا۔ (ایسی سنگین غلطیاں انتہا کی کم علمی اور لفظ کا پس منظر معلوم نہ ہونے کے باعث سرزد ہوتی ہیں، لہٰذا خواہمخواہ کی لفاظی بگھارنے سے گریز ہی لازم ہوتا ہے۔)\n9۔ طویل بیماری سے جان چھوٹی تو سہی، پر اِس سے پیدا ہونے والی لاتعداد کمزوری نے مرزا صاحب کو گھر سے باہر قدم نہیں رکھنے دِیا۔ (حیران مت ہوں یہ ایک افسانہ نویس کی زبان معجز بیان سے ادا ہونے والا فقرہ ہے جس کے ہم چشم دید گواہ ہیں)\n10۔ حکومت پنجاب نے سڑکات کی تعمیر کے ٹینڈر جاری کر دِیے۔\n11۔ ہماری جامع نے چند ہی سالوں میں سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کِیا۔\n12۔ صاحبِ صدر نے دستکاری سکول کے افتتاح کے موقعہ پر دو لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کِیا۔\n13۔ ہمارا سکول شہر سے تین میل کے فاصلے پر واقعہ ہے۔\n14۔ مجھے سخت حیرانگی ہے کہ کلرک نے افسر کی ناراضگی کے باوجود حساب کتاب کی درستگی میں غفلت کیوں کی؟\n15۔ کون کسی کا ہے یہاں؟ یہاں سب مائع ہے۔\n16۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا، راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا\n17۔ اِک ہجر جو ہم کو لاحَق ہے، تادیر اُسے دوہرائیں کیا (ملکۂ غزل فریدہ خانم)\n18۔ نوجوان موٹر سائیکل سوار خاتون سے پرس چھین کر فرار۔\n19۔ مہنگائی نے عام آدمی کے دِل و دماغ میں غصہ اور نفرت بھر دِیا ہے۔\n20۔ مادام کیوری کے چوتھی منزل پر واقعہ کمرہ میںفقط ایک ہی دریچہ تھا۔اِس میں نہ تو گیس تھی، نہ ہی بجلی اور نہ ہی سردی (روکنے) کا اِنتظام تھا۔\n21۔ بجلی کی آئے روز کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر کے رکھ دِیا ہے۔\n22۔ مہنگائی کا گراف دِن بدن بلندی کی طرف جا رہا ہے۔\n23۔ ترقی کے مواقعوں کی پہچان اور ان سے فائدہ اُٹھانا آدمی کے لیے کامیابی کی کلید ہے۔\n24۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور چنددوسرے پیغمبروں کے علاوہ تمام یہودی حکمران خود کو قانون سے بالاتر اور مقتدرِ اعلیٰ سمجھتے تھے۔\n25۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ مسلمان مخصوص شرائط پر پورے اُترنے والے حکمرانوں کو ہی اپنا امیر بنا سکتے ہیں۔\n26۔ نیز اِس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اِنسان کو جو کچھ علم سکھایا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہی سکھایا ہے۔\n27۔ وسیع مطالعہ اور غوروفکر، جس شخص میں یہ دو خوبیاں ہوں، اپنا اِظہار اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔\n28۔ آج کی اعلیٰ عدلیہ کی کثیر اکثریت اپنے فیصلے میرٹ پر کر رہی ہے۔\n29۔ حکومت قومی ایجنڈا پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجہ میں بہتر پاکستان کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ (یہ فقرہ وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جاری کردہ اُردو لغت سے لیا گیا ہے)\n30۔ (ایک بڑے قومی سطح کے اخبار کی بالائی اور ذیلی سرخی ملاحظہ کیجیے)\nوزیرِاعلیٰ کینسر کے مرض میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بچوں کے علاج اور ادویات کی فراہمی کا خصوصی اعلان کریں گے۔\n31۔ ترقی یافتہ فلاحی ممالک میں اَیورجاً ہر شخص کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔\n32۔ 24 سال کی عمر میں نپولین ایک گمنام سپاہی تھا، جس کا جائے پیدائش بھی فرانس سے باہر تھا۔\n33۔ حاجی صاحب کا نمازِ جنازہ ہاکی گراؤنڈ میں ادا کیا جائے گا۔\n34۔ یہ بات تحقیق طلب ہے کہ شیخ چلّی کیا واقعی کوئی تاریخی شخصیت تھی؟\n35۔ کبھی کبھی جہاندیدہ شخص بھی ناعاقبت اندیشی سے اپنا کام بگاڑ بیٹھتا ہے۔\n36۔ عظیم فاتح نپولین کینسر کے عارضے میں لاحق ہو کر 1821ء میں جاںبحق ہوا۔\n37۔ کرنل معمرالقذافی اغلباً جدید اِسلامی دُنیا کے واحد انقلابی لیڈرتھے جنھوں نے عالمی سامراج کو اپنے مُلک میں مَن مانیوں کے حوالے سے طویل عرصے تک بے بس کیے رکھا۔\n39۔ یہ تمام غیر متوقع فیصلے بنیادی منصوبوں سے قریب غیر متعلق تھے۔\n40۔ اعلیٰ تعلیم سے اپنی محرومی کے باوصف لیون ہاک کو ’’ڈچ ‘‘ کے علاوہ کوئی زبان نہیں آتی تھی۔\n41۔ قدیم یونان میں عوام الناس بھی ہومر کی شاعری سے واقف تھی۔\n42۔ کس نے سیاست میں رہنا ہے اور کس نے جانا ہے، اس بات کا فیصلہ عوام کرے گی۔\n43۔ جین مت سے ہمیں یہ مثال مِلتی ہے کہ کس طور مذہبی اعتقادات معاشرے کی مجموعی طرزِ معاشرت کو تباہ کر دیتے ہیں۔\n44۔ شاہد نے نوید کے ساتھ اس مشکل مہم پر روانہ ہونے کہ حامی بھر لی۔\n45۔ بیٹا ! ایک جگ پانی کا لاؤ، اور ہاں، ہمراہ دو گلاس بھی لیتے آنا۔\n45۔ بچے کہاں ہیں؟ وہ ساتھ والے کمرے میں ہوم ورک کر رہے ہیں۔\n\nپھر وضاحت کہ صاحبانِ علم و قلم اِس مضمون کو اپنی اَنا پر آنچ تصور نہ کریں، اسے فقط نوآموز لکھاریوں اور طلبہ و طالبات کی راہنمائی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔