فاروق ستار کی ایم کیو ایم - آصف محمود

آصف محمود فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا فی الوقت مشکل ہے۔\nالطاف حسین کی واپسی کا راستہ اب بھی انہوں نے کھلا رکھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ناسازگار لمحات میں کیا گیا ایک ڈرامہ ہو تاکہ کچھ وقت حاصل کیا جائے اور جب یہ دباؤ کی لہر گزر جائے تو ایک روز کہا جائے کہ اب الطاف بھائی کی ذہنی حالت بہتر ہو گئی، اس لیے آج سے وہی دوبارہ اس جماعت کو چلائیں گے۔\nتاہم اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ ایک صدق دل سے اٹھایا گیا قدم ہو اور اس قدم کے ذریعے واقعی ایم کیو ایم کو الطاف کے عفریت سے نجات کی کوئی صورت تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔\nحقیقت کیا ہے اس کا فیصلہ فاروق ستار اور ان کے رفقائے کار کے رویے کریں گے۔ انہیں دوٹوک انداز میں سیاست اور جرم کو الگ الگ کرنا ہو گا۔ انہیں چاہیے کہ الطاف حسین کو جانے والی مالیاتی سرچشموں کی نشاندہی کریں۔ ایم کیو ایم کے اندر جو غنڈہ گرد عناصر ہیں ان کی بھی نشاندہی کریں۔ یہ عسکری گروہ ہی الطاف حسین کی اصل قوت ہے۔ اس قوت کا خاتمہ ضروری ہے۔ اسی قوت کے ذریعے الطاف حسین معاملات پر گرفت حاصل کرنے کی ایک کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ اور کراچی میں خون کی نئی ہولی اور ٹارگٹ کلنگ کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔\nتاہم ایم کیو ایم فاروق ستار یا کسی بھی اور رہنما کی قیادت میں ایک سیاسی جماعت کے طور پر زندہ رہنا چاہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ مہاجر ایک حقیقت ہیں جو ملک کے دارالحکومت میں ہجرت کر کے آن آباد ہوئے تھے اور ایک روز انہیں سندھ کا رہائشی بنا دیا گیا۔ اس کے بعد محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے، جس کے خاتمے کے لیے مہاجروں کی سیاسی آواز کا زندہ رہنا ایک نعمت سے کم نہیں۔\nفاروق ستار مخلص ہیں یا شعبدہ بازی کر رہے ہیں ۔دونوں صورتوں میں وقت کا موسم بدل رہا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ معاملہ کا حل آپریشن کے بجائے سیاسی عمل میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ سیاسی قوت سیاست کرے اور مجرموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے۔ سب کچھ معمول کے مطابق ہو۔ایک فطری انداز میں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.