حوصلہ - ریاض علی خٹک

ریاض خٹک دُنیا کی تنوعات میں خدا کی ساری مخلوقات میں یہ انسان بھی عجب ہے. جب حوصلے پر آتا ہے، تو پہاڑ چیر دیتا ہے، سمندر میں اپنے راستے بنا دیتا ہے، پاتال سے خزانے نکال لاتا ہے، چاند پر چہل قدمی کر آتا ہے، سیاروں پر اپنی پتنگیں بھیج دیتا ہے. مگر جب حوصلہ ہار جاتا ہے تو اپنی ذات سے ہی نالاں ہوجاتا ہے، دُنیا بدل جاتی ہے، ہر چیز مشکل ہو جاتی ہے، اپنے قدموں پر کھڑا ہونا بھی اسے بار لگتا ہے، سہم جاتاہے، کسی کھونے کھدرے میں چھپ بیٹھتا ہے.\n\nیہ انسان جسے اللہ نے چند مربع انچ پیروں کے تلووں پر کھڑا ہونے اور بھاگنے دوڑنے کا ہنر دیا ہے، سٹیل جیسی مضبوط ہڈیاں دیں، ہزارہا مختلف خوشبوئیں سونگھنے کی حس اس کی ناک میں رکھی، ایک لاکھ میل لمبی رگوں پہ مشتمل جسم کو خون کی ترسیل کا نظام دیا، اس کی آنکھیں دس ملین رنگوں کے امتزاج کی پہچان رکھتی ہیں، 576 میگا پکسل کیمرے کی قوت دی، وہی انسان دماغ اور دماغ کی سوچ پر کھڑا ہے.\n\nہماری سانس میں آنے والی بیس فیصد آکسیجن استعمال کرنے والا دماغ اپنے جسم کے نظام کا نگران، بقائے ذات کےلیے سرگرداں، جب حوصلہ مند ہوتا ہے، تو دنیا بدل دیتا ہے. اگر حوصلہ ہار جائے تو اپنی ذات سے ہی بےگانہ ہوجاتا ہے.\n\nہم اپنی ذات سے نکل کر دیکھیں تو اس حوصلے کی کرشمہ سازیاں آشکار ہوتی ہیں، کسی بچے کی حوصلہ افزائی کریں، کسی بڑے کے کندھے پر تھپکی دیں، کسی کے فن کی حوصلہ افزائی کریں، کسی کے لفظوں کی قدر کریں، کسی کی آواز پر واہ واہ کریں، ہر طرف اس حوصلہ افزائی سے وہ فرد وہ بچہ وہ فنکار وہ کھلاڑی میدان مار لیتا ہے.\n\nتو کیا میری اور آپ کی اپنی ذات اس حوصلہ افزائی کی محتاج نہیں ہے؟ یہ ضرورت انسان کی فطرت میں ہے. جب دوسرے انسان اس سے تقویت پاتا ہے، تو پھر میں اور آپ کیسے منفرد ہوئے؟ آج کے اس تیز تر دور میں جب ہر ایک دن رات اپنی بقا کی جنگ سے نبرد آزما ہے، ایسے میں اپنی ذات کو حوصلے کی یہ تھپکیاں ضروری ٹھہرتی ہیں.\n\nاپنی ذات کو حوصلہ کیسے دیں؟ یہ سوال ہر ایک کا ہے. جواب اپنے اپنے رحجانات کے حساب سے مختلف ہوسکتے ہیں، مگر سوال سبھی کا یکساں ہے. کسی بھی ذات کو حوصلہ دینے سے پہلے اسے تسلیم کرنا ہوتا ہے، اس کی قدر کرنی ہوتی ہے، اس کی اہمیت ماننی ہوتی ہے. پس اپنی ذات کی بھی قدر کریں، اسے تسلیم کریں اور عزت دیں.\n\nآپ کی ذات بھی آپ سے وقت مانگتی ہے، اسے بھی آرام کی طلب ہے. اسے بھی اپنی فطرت کے مطابق کچھ خوشگوار لمحات کی طلب ہوتی ہے، اسے بھی امید چاہیے، کچھ خوبصورت لفظ، کوئی مترنم آواز، کچھ پر فضا منظر اور نہیں تو آنکھیں بند کر کے کل کی ٹینشن بھول کر اپنی ذات کو اس کی سابقہ کاوشوں پر چند تھپکیاں ہی سہی.\nاسے حوصلہ دیں کہ حوصلہ پا کر یہ کچھ بھی کرسکتی ہے.

ٹیگز

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.