کیا یہ صرف کارٹون ہیں؟ والدین کے لیے خاص - ماہی احمد

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی خوراک دودھ ہوتا ہے. وہ بھی کوئی عام دودھ نہیں. ایسا مخصوص قسم کی کمپوزیشن والا ہلکا اور پتلا سا دودھ جو بچے کو انرجی تو دیتا ہے مگر اس کے معدے پر بوجھ نہیں بنتا. جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دودھ کی کمپوزیشن بھی بدلتی ہے. پھر آہستہ آہستہ آپ بچے کو ٹھوس غذا کی طرف لاتے ہ\0یں. پہلے بہت نرم، پھر ذرا سخت. غرض کم ازکم بچے کو اس دنیا میں موجود انواع و اقسام کے پکوان کھانے کے لیے4 یا 5 سال لگ جاتے ہیں. تب بھی ایک چیز پر غور کریں کہ بچہ ہر ذائقہ فورا قبول نہیں کرتا، آہستہ آہستہ، وقت کے ساتھ ساتھ، اگر آپ بچے کو پیدائش پر ہی یا ایک سال بعد کوئی انتہائی روغنی چیز مرچ مصالحوں سے بھری ہوئی کوئی ایسی چیز کھلائیں گے، اور کھلاتے چلے جائیں گے تو کیا ہوگا؟ اول تو بچہ کھائے گا نہیں. دوم، اگر کھائے گا بھی تو اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا، طبیعت بگڑ جائے گی، معدے پر گراں گزرے گا. تین، ایسی صورت حال میں اس کی physical growth ہو پائےگی کیا؟ چار، چلو فرض کیا آپ کسی طرح قدرت کے قانون کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کو دو ڈھائی سالہ بچہ انتہائی آرام سے صبح دوپہر شام آپ کے ساتھ لاہوری کھابے اور حیدرآبادی بریانی کے ساتھ انصاف کرتا ہے، تو سوچیں اسے معدے کی بیماریاں کتنی چھوٹی عمر میں شروع ہو جائیں گی.\n\nیہ سب باتیں اس لیے لکھیں کیونکہ میں نہ صرف ڈورے مون بلکہ اور بھی بہت سی (تقریبا 98%) کارٹون سیریز اور موویز کے خلاف ہوں. جب آپ کا بچہ کھانے کے معاملے میں ایک مخصوص عمر سے پہلے عام کھانے نہیں کھا سکتا، مرچ مصالحے ایکسپٹ نہیں کرسکتا، جب آپ کو اس کی جسمانی غذا کے متعلق سٹیپ بائے سٹیپ ہی چلنا ہے، تو روحانی اور ذہنی کے نشونما اور غذا کے متعلق ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا آپ اپنے 2، 3 سالہ بچے کو انگریزی کی abcd سکھائے بغیر، انگریزی پڑھنا سکھائے بغیر شیکسپئیر پڑھا سکتے ہیں؟ سائنس کی بنیادی چیزیں سمجھائے بغیر اس کو physics کے بڑے اور پیچیدہ لاز سمجھا سکتے ہیں؟ نہیں. تو پھر اس قسم کے کارٹونز کے ذریعے اپنے بچوں کو ذہنی کنفیوژن میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ انٹرٹینمنٹ کے نام پر جو الم غلم ہم اپنے بچوں کو دیتے چلے جا رہے ہیں وہ ہمارے بچوں پر کیسا اثر ڈال رہا ہے ہم یہ کیوں نہیں سوچتے؟ کیا زبان سیکھنے کا کوئی اور طریقہ نہیں؟ کیا بہتر یہ نہیں کہ ایک مخصوص عمر میں پہنچنے کے بعد جب ماں باپ کو لگے کہ ہاں ہمارا بچہ اب اس قسم کی بات سمجھ سکتا ہے تب اس کو اس کے والدین جنسی تربیت دیں؟ ایک بات ذہن میں رکھیں، بچوں کے دماغوں کے taste buds نہیں ہوتے. جو بھی چیز آپ دکھائیں گے، وہ ہر چیز کو بڑے آرام سے ایکسپٹ کرتے جائیں گے. اگر تشدد اور اس قسم کی خرافات دکھائیں گے تو بچے بےحس ہو جائیں گے. میں نہیں سمجھتی کہ ایک مخصوص عمر سے پہلے، جب تک ماں باپ بچوں کو reality اور fantasy کا فرق نہ سمجھا دیں اور بچے اچھی طرح سمجھ نہ جائیں، بچوں کو ٹی وی کے سپرد کرنا چاہیے.\n\nاگر آپ انٹرٹینمنٹ کا بہانہ بنا کر اپنے بچوں کو ٹی وی، انٹر نیٹ اور کارٹونز کی آغوش میں چھوڑتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں کہ یہ بچوں کے ساتھ کھلی دشمنی ہے. اس طرح بچے کے اندر کی پرتجسس روح کہیں سو جاتی ہے. بچوں کے لیے یہ دنیا ایک عجوبہ ہے، روز نئی چیز ایکسپلور کرتے ہیں، دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں. ان کے لیے انٹرٹینمنٹ کا انتظام پہلے سے موجود ہے، بس انہیں اپنے بڑوں کی رہنمائی چاہیے. انہیں بے بی اسٹیپس لے لے کر ہی بڑھنے دیا جائے تو اچھا ہے. عقلمندی یہی ہے کہ ان کو معصوم ہی رہنے دیا جائے، بچے ہی رہنے دیا جائے. جس عمر میں آپ کے بچے کو راہ چلتے ہوئے کنارے پر لگے کسی ننھے سے پھول کو بیٹھ کر غور سے دیکھنا چاہیے، یہ سوچنا اور پوچھناچاہیے کہ وہ جو کل دیکھا تھا وہ لال تھا اور یہ پیلا ہے، کیوں؟ یہ پوچھناچاہیے یہ یہاں کیسے کھڑا ہے؟ یہ پہلے تو نہیں تھا آج یہاں کدھر سے آگیا؟ اس عمر میں آپ کے بچے رومانس، ایکشن، تھرل، فیری ٹیل نامی خرافات نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ سیکھ بھی رہے ہیں. ہم لوگوں میں یہ common sense کیوں نہیں ہے کہ اگر رومانس سیکھنے کے لیے 2، 3 سال کی عمر ہی قدرت کو منظور ہوتی تو پھر بلوغت کی عمر ڈیڑھ سال ہوتی اور آپ اپنے 3،4 سالہ بچوں کی شادیاں کر رہے ہوتے. (یہ نکتہ ان تمام لوگوں کے لیے جو سمجھتے کہ وہ بچوں کو اس قسم کےکارٹونز سے سکھا اور تربیت دے رہے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ کیا آپ اپنے بچے کو 2، 3 سال کی یا 6، 7 سال کی عمر میں کیمسٹری سکھانے کے لیے کسی انتہائی بڑی اور اچھی کیمسٹری لیب میں بھیج دیں گے؟ یہ جانتے ہوئے کہ وہاں کتنے خطرناک کیمیکلز بھرے پڑے ہیں، اور آپ کے بچے کو پریکاشنز پڑھنا تک نہیں آتیں؟). ہم سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ بچے وہی کرتے ہیں جو دیکھتے ہیں.\n\nایک بار سوچیں جب بچہ ٹام کو جیری پر تشدد کرتے دیکھتا ہے، دیکھتا ہے کہ ٹام نے ہتھوڑا اٹھایا اور جیری پر دے مارا، لیکن کچھ دیر بعد جیری بالکل ٹھیک ٹھاک شرارتیں کرتا پھر رہا ہے تو بچے کو اس مخصوص تشدد بھرے عمل کی سنگینی تو نہ سمجھ میں آئی نا. اب اگر خدانخواستہ کسی دن وہ اپنے کسی دوست یا چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ پریکٹیکل کر بیٹھے تو کیا بنے گا؟ نقصان کا ذمےدار کون ہو گا؟ آپ نے تو سوچ لیا کہ بچہ کچھ غلط کرےگا تو سمجھا دیں گے، لیکن کبھی یہ سوچا کہ اگر موقع ہی نہ ملا سمجھانے کا تو؟ آپ کا بچہ دیکھتا ہے کہ سپر ہیرو کھڑکی سے چھلانگ لگاتا ہے اور ہووائوں میں اڑتا پھرتا ہے، کتنا فیسینیٹنگ ہےنا یہ، اب جب وہ خود اماں کا لال دوپٹہ باندھے کھڑکی سے چھلانگ لگائے گا تو کیا بنے گا؟ کبھی غور کیا آپ نے کہ ڈزنی فلموں میں اکثریت ایسی ہےکہ ماں پہلے سے مر چکی ہے. کیوں؟ یہ سوچا کیا؟ کیونکہ مائیں گھر کو گھر بنائے رکھتی ہیں، بچوں کو باہر نہیں دیکھنا پڑتا توجہ کے لیے، محبت کے لیے، خصوصا بیٹیوں کو، کیونکہ ان کی بہترین سہیلیاں مائیں ہوتی ہیں. مگر بچے یہ بات نہیں سمجھتے. 16،17 سال کی ڈزنی پرنسز کو گھر سے پہلا قدم نکالتے ہی خوابوں کا شہزادہ مل جاتا ہے.\n\nآپ کی بچیاں کیا سیکھ رہی ہے؟ یہی کہ یہ جو گھر میں ایک مما نامی عورت ہے، یہ جو مجھے باہرنہیں جانے دیتی، گھر میں رہنے کی، اجنیبیوں سے نہ ملنے اور بات نہ کرنے کی تلقین کرتی ہے تو یہ بالکل رپنزل کی سوتیلی ماں جیسی ہے، اور وہ تو فلم کی ولن تھی، وہ تو ایک بری عورت تھی. جب بچی دیکھتی ہے کہ میری ماں مجھے یہ کہہ رہی ہے کہ بٹیا گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹائو وغیرہ تو وہ عورت سنڈریلا کی سوتیلی ماں جیسی لگنے لگتی ہے. جب بچی کو ایک شخص کہتا ہے کہ آئو تمہیں دنیا گھما کر لائوں تو وہ اسے فلین رائیڈر (tangled فلم کا ہیرو، ایک چور اچکا) لگنے لگتا ہے. بچے معاشرے میں خوبصورت نقاب کے پیچھے چھپے گھنائونے چہروں اور ان کی آنکھوں میں موجود گندے عزائم کو نہیں جانتے، آپ تو جانتے ہیں نا!. کیوں نہ اس سب خرافات کے بجائے بچوں کو creative learning کی طرف لایا جائے؟ انہیں اچھی اور مثبت باتیں سکھائی جائیں، ایسا لٹریچر پڑھنے کی عادت ڈالی جائے جو ان کی معصومیت کو برقرار رکھے اور انہیں معاشرے کا اچھا انسان بننے میں مدد دے؟ کیوں نہ انہیں physical activities میں مشغول رکھا جائے؟ مجھے یقین ہے اس کا جواب ہوگا کہ ماں باپ کے پاس وقت نہیں ہے. وہ کیسے کریں یہ سب؟ تو جناب ایک آخری بات اس سے متعلق. اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو ایسی معصوم اور پاک روحوں کو وہیں رہنے دیں جہاں سے وہ آئے، دھرتی پر پہلے ہی بہت غلاظت ہے، مزید ڈھیر مت لگائیں، خود کو بھی پریشانی ہو گی اوردوسروں کو بھی.\n\nوہ لوگ جو یہ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف کارٹونز ہی کیوں؟ ایک مخصوص پروگرام ہی کیوں بین کیا جائے؟ صرف بچوں پر ہی کیوں پابندی لگے وغیرہ، ان سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ کے گھر آگ لگ جائے، آگ بجھانے والا عملہ آنے میں تاخیر سے کام لے، تو آپ کیا کریں گے؟ یقینا ایک بالٹی اٹھائیں گے، پانی لیں گے اور آگ بجھانے کی کوشش شروع کر دیں گے. اب اگر ایسا ہو کہ ایک مجمع جمع ہو جائے وہاں اور آپ پر لعن طعن شروع کر دے اور کہے کہ جی ہم تو تمہارے اس عمل کےبہت خلاف ہیں. یہ کیا کیا؟ اس دیوار پر کیوں ڈالا؟ اس پر کیوں نہیں ڈالا؟ باقی آگ دیکھائی نہیں دیتی کیا؟ صرف ایک بالٹی سے کیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ تو کیسا لگے گا آپ کو؟ کیا آپ چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے؟ یہ جانتے ہوئے کہ اس گھر کےاندر آپ کا خاندان، بیوی بچے، والدین یا اور رشتہ دار موجود ہیں، آپ انہیں جلنے دیں گے؟ نہیں نا؟ تو پھر اس معاملے میں کیوں؟ ہماری approch یہ کیوں نہیں ہے کہ ہاں یہ پروگرام بھی بین ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ دوسرے بھی جن کے ذریعے سے ہماری اقدار متاثر ہو رہی ہیں.\n\nکارٹونز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ننھے منے دماغوں پر بہت جلدی اثر انداز ہوتے ہیں، ناصرف یہ بلکہ بہت چھوٹی عمر سے بچے وہ سب سیکھنا شروع کرتے ہیں جو کہ ان کی معصومیت کو تباہ کر دیتا ہے، ان کے دماغوں کو مائوف کردیتا ہے، وہ روبوٹ بنتے جاتے ہیں. پاکستانی میڈیا کے دوسرے بہت سے پروگرامز بھی قابل مذمت ہیں. بہت آہستہ آہستہ ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف لایا گیا ہے. آج سے 15، 20 سال پرانا پروگرام اٹھائیے اور آج کے پروگرام سے اس کا موازنہ کیجیے. آپ کے سامنے حقیقت خودبخود کھل جائے گی. میڈیا کا ترقی کرنا، نئی ٹیکنالوجیز کا آنا اور تباہ کن مواد اور خرافات کا ایک مثبت موضوع بن جانا یہ دونوں بہت مختلف چیزیں ہیں. اپنے گھروں میں دیکھیے، روایات اور اخلاقیات کس موڑ پر ہیں؟ کیا ویسی ہی ہیں جیسے آپ کے باپ دادا کے دور میں تھیں؟ خدارا اس گرتے چلے جانےکو ترقی اور آگے بڑھنا مت کہیے گا. چلیں پرائم ٹائم ڈراموں کی بات کرتے ہیں کیونکہ قوم کی مائوں اور بیٹیوں کا یہ پسندیدہ پروگرام ہوتا ہے، اب سے تقریبا 5 سال قبل ڈراموں کا موضوع نوجوان نسل اور ان کے درمیان پلنے والی محبت تھی، جس کا دشمن پورا زمانہ ہوتا ہے، مگر ڈرامے کے اختتام پر وہ محبت حاصل ہو جاتی تھی کیونکہ وہ پریم پنچھی بالکل صحیح تھے اور پورا زمانہ غلط. اب موضوع تھوڑا آگے بڑھ چکا ہے. اب موضوع شادی شدہ افراد ہیں. پرائم ٹائم کے ڈراموں کو اٹھا کر دیکھیں صرف. 90% ڈراموں کا موضوع شادی شدہ افراد کی، بچے ہو جانے کے باوجود، ناکام ازدواجی زندگی ہے. طلاق کا ہونا تو ایک بہت عام سی بات دکھائی جاتی ہے، اور پھر اس کے بعد خاتون یا حضرت کی دوسری شادی. کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ کیا سیکھ رہے ہیں ہم؟ کیا سکھا رہے ہیں ہم؟\n\nاس قسم کے ڈرامے دکھانے کے بعد ہم روتے ہیں کہ معاشرے میں طلاق کی شرح کیوں بڑھ گئی؟ ہم پریشان ہوتے ہیں کہ ہماری بچیاں اپنے گھروں میں خوش نہیں، گھر بس نہیں رہے. ایک وقت تھا ماں باپ بچیوں کو سیکھاتے تھے کہ اب تمہارا جنازہ ہی نکلنا چائیے اس گھر سے، اوپر سے دیکھیں تو یہ جملہ بہت سخت لگتا ہے، ایسے لگتا ہے ماں باپ کے سینے میں تب پتھر ہوتے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تب دل ہوتے تھے، احساس ہوتے تھے، فہم ہوتا تھا اوراب بس پتھر، وہ بھی شاید عقلوں پر. تب اس جملے سے مراد یہ ہوتی تھی کہ بٹیا نباھنا، جیسے بھی حالات ہوں، رشتے نباھنا، اور بچیاں نباہ کرتی تھیں، سب کچھ سہتی تھیں، مگر گھر بنا لیتی تھیں. 5 سال بعد، 10 یا 20 سال بعد وہی سسرال ان بچیوں کے گن گاتا تھا، اور اب، اب شادی کے پہلے ماہ ہی بات طلاق تک پہنچتی ہے. اور میں نے ایسا دیکھا ہے، یہ مبالغہ آرائی نہیں.\n\nخیر موضوع سے بہت ہٹ گئے مگر خدارا کچھ خیال کریں. اپنی اقدار کا، اپنی روایات کا، خود کو اور اپنے اہل و عیال کو اس دنیا اور ہمیشہ کی دنیا والی آگ سے بچا لیں. کچھ وقت نکالیں اور غور سے دیکھیں، نوٹ کریں، آپ کے بچے، آپ کےگھر والے، کیا دیکھ رہے ہیں، کیا سیکھ رہے ہیں؟ کہیں وہ انجانے میں تباہی کے راہی تو نہیں بنتے جا رہے. تباہی بھی وہ جو صرف ایک فرد نہیں پوری نسلوں کو نگلتی جا رہی ہے.