بڑھتے وزن سے پریشانی کا حل - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

عاصم اللہ بخش آپ بڑھتے وزن سے پریشان ہیں؟ سب کچھ کر لیا کوئی فائدہ نہیں ہوا ؟ پریشان ہونا چھوڑیے اور جینا شروع کیجیے. یہ سب اب ماضی کی بات ہونے جا رہا ہے. حیران کن نتائج .... لیکن نہ تو ورزش کی پابندی اور نہ ہی بھوک کے ہاتھوں پریشان ہونے کی ضرورت....\nیہ نسخہ مجرب بھی ہے اور مستند بھی....\nلیکن جناب، سنی سنائی کے ہم قائل نہیں.... کسی بھی چل چلاؤ نسخہ کو "آپا" یا بھائی جان بن کر دوستوں بھائیوں پر تھوپ دیں، ایسا تو سوچنا بھی گمراہی ہے. کتنے ہی لوگوں نے اس سے فیض پایا لیکن ہم نے نہ مانا جب تک آپ نہ آزمایا..\nنتائج کی سو فیصد گارنٹی. خود بھی استعمال کریں اور دوسروں کو بھی بلا جھجک اس کی تاکید کریں، اس عاجز کی طرف سے مکمل اجازت ہے. بس دعاؤں میں یاد رکھیں. کہ نہ ستائش کی طلب ہے نہ صلے کی پرواہ.\nآپ کا مطلوب وزن، اب صرف دس قدم پر.\nنوٹ کر لیجیے :\n۱۔ کپڑے ڈھیلے پہنیں\n۲۔ تصویر ہمیشہ دُور سے لیں اور کوشش کریں کہ پاس کوئی بڑی چیز جیسے بَس ٹرک یا بلند عمارت ہو\n۳۔ وزن کرتے ہوئے ہمیشہ ایک پائوں زمین پر رکھیں (اور دوسرے سے سکیل کو دبائیں یہاں تک کہ سوئی آپ کے آج کے ہدف تک پہنچ جائے)\n۴۔ دُبلے پتلے اور خوراک کا خیال رکھنے والے دوستوں سے تعلقات توڑ دیں\n۵۔ خود کو یقین دلائیں کہ موٹاپے کا احساس صرف اور صرف آپ کے دماغ کی خرافات ہیں۔ روزانہ سو مرتبہ یہ وِرد کریں "آئی ایم بیوٹی فُل، آئی ایم پرفیکٹ"\n٦. کھانے سے پہلے اور بعد میں خوب کھانا کھائیں تا کہ کھانے کے وقت بھوک کم لگے.\n٧۔ کھانا ہمیشہ بہت زیادہ بنائیں تا کہ بچے ہوئے کھانے کو دیکھ کر یہی احساس ہو کہ جو بھی کھایا، کم کھایا.\n٨. اپنے کمرے میں جگہ جگہ جاپانی پہلوانوں کے پوسٹر اور تصاویر آویزاں کریں. (جاپانی پہلوان سے مراد سومو پہلوان ہیں. انوکی یا بروس لی وغیرہ جیسے چھچھورے اس فہرست کے اہل نہیں) .\n٩۔ روزانہ متعدد بار ورزش سے بھاگیں۔ بقیہ اوقات میں ریلیکس کریں اور ورزش کا خیال دل میں نہ لائیں.\n۱٠۔ موٹاپے کی طرف توجہ دلوانے والے دوستوں کو غلط وزن بتائیں اور اُنہیں اپنی آنکھیں چیک کروانے کا مشورہ دیں. نیز انہیں غرور کا سر نیچا والی کہانی بھی سنائیں.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */