’میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس‘-خورشید ندیم

m-bathak.com-1421245366khursheed-nadeem\n\nمیں عمران خان کی سیاست کو دیکھتا اور اکثر جون ایلیا کو یاد کرتا ہوں ؎\nمیں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس\nخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں\n\nیہ محض شاعری نہیں، جون کی آپ بیتی ہے جو دو مصرعوں میں سمٹ آئی ہے۔ نرگسیت نے جون ایلیا کو برباد کیا اور یہی عمران خان کے درپے ہے۔ خود پسندی جب خود پرستی میں ڈھلتی ہے تو آدمی عالم ِمثال کو اپنے اردگر دیکھتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ اس کا تخیل امرِ واقعہ میں ڈھل چکا۔ اس کی آنکھ کھلتی تو ہے مگر تاخیر کے ساتھ۔ اس کے بعد تنہائی ہوتی ہے اور عمرِ رائیگاں کا ماتم۔ تنہائی نرگسیت کا نا گزیر نتیجہ ہے جس سے بچنا محال ہے۔\n\nمیں اب عمران خان کے بارے میں کچھ لکھنے سے گریز کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سعی لاحاصل ہے۔ اس کانتیجہ ان دو حرفوںکے سوا کچھ نہیں جو اس کی محبت میں گرفتار کچھ لوگ بھیجتے ہیں، اکثر بغیر پڑھے اور سمجھے۔ محبت میں بڑا نقص یہ ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ تجزیے کی صلاحیت سے محروم ہو تی ہے۔ محبوب آب و گل سے نہیں، رنگ و خوشبوسے تخلیق ہوتا ہے۔ اس لیے عرض کرتا رہتا ہوں کہ اہل سیاست سے رومان نہیں پالنا چاہیے۔ سیاست کی دنیا اور ہے، دل کی دنیا اور۔ یہ بات کہی تو جا سکتی ہے، سمجھائی نہیں جا سکتی، خود کو بھی نہیں۔ اس لیے دشنام کو محبت کی مجبوری سمجھ کر نظر انداز کرتا ہوں۔کہتے ہیں کہ کچھ افراد کو بطور خاص یہی ذمہ داری سونپی گئی کہ ناقدین پردو حرف بھیجتے رہیں۔ حقیقت خدا جانے۔ میں گریز کے خواہش کے باوجود، پھر لکھنے بیٹھ جاتا ہوں تو اسے کالم نگار کی مجبوری سمجھا جائے کہ اس کے لیے عصری سیاست سے گریز مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔\n\nپاکستان کا آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی متبادل قیادت نہیں۔ نواز شریف روایتی سیاست کا جدید ایڈیشن ہیں۔ ان کی سیاست انہی خطوط پر استوار ہے جو مدتوں سے قائم ہیں۔ اس میں کوئی ندرت ہے نہ جدت۔ وہ اِس روایتی سیاست کی خوبیوں اور خامیوں، دونوں کے نمائندہ ہیں۔ یہ ایک پیکج ڈیل ہے۔ نواز شریف کے انتخاب کا مطلب دونوں کو قبول کرنا ہے۔ مثال کے طور پر روایتی سیاست میں سب سے اہم نکتہ سیاسی کامیابی ہے۔ حلقۂ انتخاب میں کامیاب ہونا ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ کون امیدوار اس کی اہلیت رکھتا ہے۔ جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے(Electables) اس سیاست کا فطری انتخاب ہیں۔ اخلاق اور دیانت سکہ رائج الوقت نہیں ہیں۔ نواز شریف صاحب کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اخلاق کی خاطر، نشست ضائع کرنے کا خطرہ مول لیں۔ روایتی سیاست کا درس یہی ہے۔ اگر کہیں حسن اتفاق سے اخلاق اور عصبیت جمع ہو جائیں تو یقیناً نواز شریف اس پر مسرور ہوںگے۔ وہ شاید یہی چاہتے ہوں، لیکن محض دیانت ان کی ترجیح نہیں ہو سکتی۔ پیپلز پارٹی کی سیاست بھی اس سے مختلف نہیں۔\n\nپاکستان کو اس سیاسی کلچر میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی سماجی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ جمہوریت سماجی تبدیلی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ جمہوریت کی موجودگی میں بہتری کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ جمہوریت خود ایک سماجی تبدیلی ہے۔ نظام ِا قدار کی مکمل تبدیلی جوسماجی تبدیلی کے لیے ناگزیر ہے،اگر نہ بھی آئے توجمہوریت سے وابستہ خیر بھی کچھ کم نہیں۔ اگر ہم اس پر ہی کھڑے ہو جائیں کہ قیادت کی تبدیلی ہمیشہ جمہوری طریقے سے آئے گی تو اس سے بھی اصلاح کے بہت امکانات وابستہ ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ عوام کے پاس اگر بہتر متبادل ہو تو لوگ اس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ بہتری کا تعلق افراد سے ہوتا ہے اور نظام سے بھی۔ جمہوری تبدیلی کے نتیجے میں جس حد تک بہتری ممکن تھی، عمران خان اسے برپا کر سکتے تھے۔ افسوس کہ انہوں نے یہ موقع گنوا دیا۔\n\nعمران خان اپنی افتاد طبع کے باعث مثبت سیاست سے تدریجاً منفی سیاست کی طرف بڑھے۔ اب وہ پوری طرح رد عمل کی سیاست کا شکار ہو چکے۔ ردِ عمل ایک منفی جذبہ ہے۔ ہیجان، رومان اور انتقام اب ان کی سیاست کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ پے در پے ناکامیوں نے انہیں اس سیاست میں پختہ تر کر دیا ہے۔ اس منفی سیاست کے باعث ان کی شخصیت کا مثبت پہلو ایک تخریبی قوت بن چکا ہے۔ یہ مثبت پہلو جہد ِمسلسل ہے۔ ان کی نرگسیت نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ انسان جہد ِمسلسل سے ہر ناکامی کو کامیابی میں بدل سکتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ فاسٹ بالر نہیں بن سکتے۔ انہوں نے محنت سے اس تاثر کو بدل ڈالا۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے، وہ اب یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ سیاست کو بھی بدل ڈالیںگے۔کرکٹ اور سیاست کا فرق کبھی ان کی سمجھ میں نہیں آسکا۔ نرگسیت کے ساتھ جب سماجی اور سیاسی حرکیات سے عدم واقفیت جمع ہو جائیں تو پھر ایک المیہ ہی تخلیق ہو سکتا ہے۔\n\nوہ نواز شریف کا متبادل بن سکتے تھے اگر وہ جمہوری تبدیلی کے عمل کو سمجھتے ہوئے سیاست کرتے اور قوم کے سامنے ایک متبادل رکھتے۔ یہ متبادل قیادت اور پروگرام دونوں صورتوں میں ہونا چاہیے تھا۔ وہ ایسا نہیں کر سکے۔ اس امرِ واقعہ سے اب انکار مشکل ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ میں قیادت اور جماعتی کلچر میں کوئی جوہری فرق ہے۔ لوگ اس کو مانتے ہیں لیکن عمران خان کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بھی ایک واہمہ (myth) ہے۔ ان کے بارے میں اب بہت سی باتیں عدالتوں کے رو برو کھلنے والی ہیں۔ یہ بھرم بھی اب چند دن کا مہمان ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا انہوں نے دفاع کیا ہے۔ پھر دیانت داری کا یہ تصور بھی میرے لیے کبھی قابل فہم نہیں رہا کہ ہر بد دیانت کی بد دیانتی پر پردہ ڈال دینا چاہیے اگر وہ آپ کا سیاسی ہم سفر بن جائے۔ اس سوچ کے ساتھ بھی اگر کوئی شخص 'ذاتی طور پر دیانت دار‘ مانا جا سکتا ہے تو پھرلغت میں 'دیانت‘ کے معانی کو بدل دینا چاہیے۔\n\nآج وہ ہر صورت میں نوازشریف صاحب کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ رد عمل کی اس نفسیات نے عمران کو روایتی سیاست کے میدان میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہیں شاید اندازہ نہیں یہ نواز شریف کا میدان ہے۔ یہاں پر ان کی فتح کے امکانات بہت کم ہیں۔ آج ان کی مقبولیت کا گراف نیچے گیا ہے تو ان کی جماعت کے لوگ ن لیگ کے دروازے پر دستک دینے لگے ہیں۔ ان 'بڑے راہنماؤں‘ کے مطالبات اتنے چھوٹے ہیں کہ آدمی کو اس اخلاقی پستی پر حیرت ہوتی ہے۔ اس پر بھی ن لیگ کے لوگ سوچ رہے ہیں کہ انہیں قبول کیا جائے یانہ کیا جائے۔\n\nاب عمران خان یہ کہتے ہیں کہ مقبولیت کم ہو جائے تو بھی وہ پاناما لیکس کو انجام تک پہنچائیں گے۔ یہ کم و بیش واضح ہے کہ وہ قانونی جنگ نہیں جیت سکتے۔ اس کے باوجود رد عمل کی سیاست پر ان کا اصرار اُن کی سیاست کا راستہ مزید تنگ کر دے گا۔ مجھے ملال ہے کہ بطور قوم ہم نے متبادل قیادت کے فروغ کا ایک موقع گنوا دیا۔ افسوس یہ ہے کہ خود عمران خان کو اس کا اندازہ نہیں۔ جون ایلیا کی طرح نرگسیت انہیں بھی اس موڑ پہ لے آئی کہ انہیں اپنا نفع نقصان بھی دکھائی نہیں دیتا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اگر آپ نے خورشید ندیم اور عمار مسعود جیسوں کے ہی کالم شائع کرنے ہیں تو کیا ہم دلیل کے یہ پھکڑ پڑھنا چھوڑ دیں؟\r\nیہ دونوں وہی ہیں جو ٹی وی پر مریم کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں اور کالموں میں خان کے خلاف زہر گھولتے ہیں \r\nانکا مسئلہ دانشوری کے زریعے راہ دکھانس نہیں بلکہ کچھ اور ہے عمار مسعود صاحب تو جب سے جنگ میں لکھنے لگے ہیں نوے جے زاویے پر بدل گئے ہیں