مکی دور میں شخصی دفاع کا حق اور بدلے کی اجازت - محمد مشتاق

محمد مشتاق کئی دوستوں نے دو باتوں کا بار بار ذکر کیا ہے۔ ایک یہ کہ مکہ میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت نہیں تھی اور دوسری یہ کہ جہاد ریاست کا کام ہے۔ ان دونوں باتوں کو جتنا سادہ بنا کر اور ’’مسلمات‘‘ کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے، ایسا ہے نہیں۔ پہلے تو اس پر غور کریں کہ کیا جنگ کی اجازت نہ ملنے اور دفاع کا حق ملنے میں کوئی تعارض ہے؟ اگر ہاں تو پھر اسے کیا کہیں گے کہ مکی دور کے درمیان میں دفاع کا حق اور برابر کے بدلے کا حق تو مسلمانوں کو دے دیا گیا تھا؟ سورۃ النحل کی آیت ہے: ’’و ان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ۔‘‘ یہ مکی سورت اور مکی آیت ہے اور مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق اس سورت کا نزول سورۃ الانعام سے بھی پہلے ہوا تھا، گویا مکی دور کے درمیان میں مسلمانوں کو دفاع اور بدلے کا حق دے دیا گیا تھا۔ پھر سورۃ الشوری جو مکی دور ہی کی سورت ہے لیکن نسبتاًً بعد کے دور کی، اس میں مسلمانوں کی خصوصیت یہ ذکر کی گئی کہ ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں: و الذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور آیات کا سیاق و سباق دیکھیں تو نظم کی گواہی یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کو دفاع کے لیے اجتماعی طریقہ اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے کیوں کہ اس سے پہلے مسلمانوں کی یہ خصوصیت بھی ذکر کی گئی : ’’و امرھم شوری بینھم۔‘‘ واضح رہے کہ یہ حکم مدنی دور کے لیے نہیں بلکہ مکی دور کے لیے تھا اور اس سورت کے بعد بھی مسلمان کافی عرصہ مکہ میں ہی مقیم رہے اور سیرت کی کتابیں شاہد ہیں کہ انھوں نے ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے کئی طریقے وضع بھی کرلیے تھے۔ اب ذرا غور کریں اس بات پر کہ مکہ میں مسلمانوں کو اس وقت دفاع اور بدلے کی اجازت دی گئی جب ابھی ان کی تعداد سیرت نگاروں کی تحقیق کے مطابق بہ مشکل ساڑھے سات سو تھی!\n\nپھر مزید غور کریں کہ جو لوگ ریاست کے بغیر جہاد کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے اس بات سے استدلال کرتے ہیں کہ مکہ میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت نہیں تھی، انھی دوستوں کا موقف یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا جہاد ایک خاص نوعیت کا تھا اور اس کے ذریعے دراصل آپ کے منکرین کو اتمام حجت کے بعد خداوندی عذاب دیا جا رہا تھا اور ان دوستوں کا موقف یہ بھی ہے کہ اتمام حجت کے بعد ہی رسول کو ہجرت کا حکم دیا جاتا ہے! تو بھئی اگر یہ اتمامِ حجت اور رسول کے منکرین پر عذاب کا معاملہ تھا تو ابھی جب اتمام حجت ہوا ہی نہیں تھا اور ہجرت ہوئی ہی نہیں تھی تو عذاب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس سے ان مظلوموں کی جدوجہد کیسے غلط ثابت ہوتی ہے جو ظالم کے خلاف منظم دفاع کرنا چاہتے ہیں؟ جب رسول کا جہاد sui generis ہے تو اسے sui generis ہی رہنے دیں۔\n\nباقی رہا ریاست کا معاملہ ، تو وہ زیادہ تفصیلی بحث چاہتا ہے کیوں کہ اسلامی قانون ’’ریاست‘‘ نام کے ’’فرضی شخص‘‘ (fictitious person) کو جانتا ہی نہیں ہے۔ قرآنی آیات، رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور فقہائے کرام کی تمام بحث’’امام‘‘ یعنی حکمران کے ارد گرد گھومتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ اسے حکومت قرار دے سکتے ہیں۔ ریاست ایک بالکل ہی مختلف تصور ہے جو اسلامی قانون کے لیے اجنبی ہے۔ اس اجنبی تصور کو لے کر اسلامی قانون کے اصول و قواعد کی طرف دیکھنے سے ہی وہ بہت سی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں جن میں اس وقت ہماے بیشتر دانشور مبتلا ہیں۔ اس تصور پر میں الگ سے بحث کروں گا، اگر اللہ نے توفیق دی۔ فی الوقت صرف اتنی گزارش ہے کہ سوال کو reframe کریں۔ بجائے اس کے کہ یہ پوچھیں کہ ریاست کے بغیر جہاد ہوسکتا ہے یا نہیں، یہ سوال کریں کہ حکومت کے بغیر جہاد ہوسکتا ہے یا نہیں؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.