شارٹ کٹ-ہارون الرشید

m-bathak.com-1421247288haroon-rasheed\n\nقسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے‘ جوسچائی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔\nنیک نام جسٹس سردار احمد رضا خان کی صدارت میں وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہوا تو کمیشن کے ایک افسر نے اخبار نویسوں کو کمرۂ عدالت سے نکل جانے کا حکم دیا۔ اخبار نویسوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ حکم تحریر طور پر جاری کیا جائے۔ پیپلزپارٹی کے وکیل نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ایک فوجی عدالت ہے؟ پھر تمام وکلا نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو حکم واپس لے لیا گیا۔\n\nعدالتیں خلا میں کام نہیں کرتیں۔ ملک کا مجموعی ماحول اثرانداز ہوتا ہے۔ گزشتہ کمیشن کے مقابلے میں موجودہ بڑی حد تک قابل اعتبار ہے، شدید عوامی تنقید کے ہنگام جس کے ایک ممبر جسٹس کیانی نے فرمایا تھا: اگر بے عزتی کا احساس ہوا تو چھوڑ کر ہم چلے جائیں گے، وگرنہ برقرار رہیں گے۔ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کے لیے دلائل کے انبار دھرے ہیں۔\n\n2011ء میں اپنے اثاثے انہوں نے 16کروڑ اور 2013ء میں 26 کروڑ بتائے۔ کیا یہ قابل فہم ہے؟ 2013ء کے الیکشن میں کاغذاتِ نامزدگی داخل کرتے ہوئے انہوں نے لندن کے مکانات کا ذکر کیا اور نہ پراپرٹی کے کاروبار کا، جس کی مالیت 800 ملین ڈالر سے کم نہیں۔ پاناما کی ان کمپنیوں کا بھی نہیں، جو اس وقت بنائی گئیں جب حسین نواز نیکر پہن کر سکول جایا کرتے تھے۔ برطانوی مکانوں کے بارے میں میاں صاحب ‘ان کی اہلیہ محترمہ‘ صاحبزادی اور فرزندوں کے بیانات مختلف ہیں، اتنے مختلف کہ مضحکہ خیز۔ انتخابی دستاویزات میں دبئی کی اس سرمایہ کاری کا بھی انہوں نے ذکر نہ کیا، پاناما لیکس پر شور و غوغا کے بعد قومی اسمبلی کو جس پر انہوں نے اعتماد میں لیا۔ جدہ کی سٹیل مل کا حوالہ کیا اس میں موجود تھا، ان کے بقول جسے بیچ کر لندن کی جائیداد خریدی۔ چوہدری نثار علی خان اور صدیق الفاروق کہتے ہیں کہ یہ خریداری 1992ء میں ہوئی۔ وزیر اعظم کے داماد کیپٹن صفدر کو بھی ظاہر ہے کہ جوابدہی کرنا ہو گی، 2008ء اور 2013ء میں جنہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کے اثاثوں کی تفصیل چھپا رکھی۔ ان دنوں اپنا دربار وہ الگ سجاتی ہیں‘سرکاری صحافیوں کو جہاں سے ہدایات ملتی ہیں کہ آزاد اخبار نویسوں کی کردار کشی کی جائے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ گالی گلوچ تو کیا، آزاد اخبار نویس کو اپنی نوکری ، حتیٰ کہ جان تک کی پروا نہیں ہوتی ۔\n\nفیڈرل بورڈ آف ریونیو کے افسر نے وضاحت کر دی ہے کہ قانون سمندر پار کمپنیاں بنانے والوں کے احتساب کی اجازت نہیں دیتا۔ شریف خاندان اگر منتقم مزاج اور سفاک بھٹو کے ہاتھوں اتفاق فائونڈری قومیائے جانے کے بعد دبئی میں سٹیل مل لگا سکتاہے ۔ جنرل مشرف کاہدف ہونے کے باوجود سعودی عرب میں اس سے بڑا کارخانہ تعمیرکر سکتاہے ۔ عرب حکمرانوں کی مدد سے سینکڑوں بھارتیوں کو اس میں کھپا سکتاہے ۔ اگر وہ اپنی شوگر مل میں دشمن ملک کے کاریگروں کو پناہ دے سکتاہے ، ممکنہ طور پر جو ''را‘‘ کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں تو کیا اس نے الیکشن کمیشن سے بچ نکلنے کا بندوبست نہ کیا ہوگا؟ تمام بڑے سرمایہ داروں کو قانون دان دستیاب ہوتے ہیں ۔\n\nسبکدوشی کے بعد جسٹس لون کو شریف خاندان نے سینیٹر کا عہدہ عطا کیا تھا اور جسٹس رفیق تارڑ کو صدارت کا۔\nہم فرض کرتے ہیں اور یہ فرض کرنے کا پورا جواز موجود ہے کہ الیکشن کمیشن کے تمام ارکان مکمل طور پر دیانت دار اور مکمل طور پر بے خوف ہیں ، عدالتیں مگر خلا میں کام نہیں کرتیں ۔ وہ قانون کے دائرے میں کارفرما ہوتی ہیں۔ شہادتوں پر وہ انحصار کرتی ہیں ۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے ،ستمبر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے اور وزیرِ اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جمہوری نظام کو وہ پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے ۔ اس کا مطلب کیا ہے ؟ دبئی میں زرداری صاحب سے سینیٹر اسحٰق ڈار کی ملاقات کا مطلب کیا ہے ؟ ٹی او آر کمیٹی سے ایم کیو ایم کے راہِ فرار اختیار کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ ؎\n\nہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ\nدیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا\n\nپنجابی ضرب المثل یہ ہے کہ فلاں آدمی تپتے ہوئے توے پر بیٹھ کر بھی کوئی بات کہے تو اعتبار نہ کیا جائے۔ زرداری خاندان ایک ہزاربار نواز شریف کو اکھاڑ پھینکنے کا دعویٰ کرے تو بھی اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اعتزاز احسن اور شیخ رشید ضرورسنجیدہ ہیں مگر غیظ و غضب کے جلو میں۔ غیظ و غضب میں شور و غوغا کیا جا سکتا ہے‘ دھمکیاں دی جا سکتی ہیں‘ مذاق اڑایا جا سکتا ہے‘ پیش گوئیاں کی جا سکتی ہیں، ظفر مندی ممکن نہیں ہوتی۔ ظفر مندی ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے پھر مستقل مزاجی سے جدوجہد اور ایثار و قربانی سے ممکن ہوا کرتی ہے ۔اعتزاز احسن چیختے رہ جائیں گے اور زرداری صاحب مفاہمت کر لیں گے دونوں کی اسی میں بقا ہے۔\n\nمری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی\nہیولیٰ برقِ خرمن کا‘ ہے خونِ گرم دہقاں کا\n\nبیرسٹر اعتزاز احسن کے موقف اور لب و لہجے پر غور کیجیے۔ وہ ہرگز یہ نہیں کہتے کہ لوٹ مار قابل برداشت نہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ شریف خاندان کو من مانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ناجائز دولت سمیٹنے کے وہ خلاف ہوتے تو جناب آصف علی زرداری کا اتباع کیسے کرتے؟1993ء کی ایک شام ‘جب میاں محمد نواز شریف قومی اسمبلی میں سرے محل کا انکشاف کرنے والے تھے‘ بیرسٹر صاحب نے مجھ سے کہا تھا: اس عورت (بے نظیر )سے میں تنگ آ چکا ہوں ۔دو دن کے بعد ڈٹ کر انہوں نے محترمہ کا مقدمہ لڑا۔ اب وہ انہیں شہید کہتے ہیں‘ ایک روحانی مقام و مرتبے پر فائز۔ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ہر روز وہ ایک بے معنی سی تقریر کرتے اور ان سے شکوہ سنج اخبار نویسوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اپنے بے لچک مزاج اور گاہے مردم بیزاری کا ارتکاب کرنے والے چوہدری صاحب بعض کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ مگر وہ بھکاری ہیں اور نہ خوشامدی۔ اپنے بل پر ضدی آدمی جیتا ہے۔ سیاست کی باریکیوں کو اعتزاز احسن اینڈ کمپنی سے وہ بدرجہا بہتر سمجھتا ہے ‘فصیح و بلیغ بھی ۔\n\nالیکشن کمیشن وزیر اعظم کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا؟ ممکن ہے وہ انہیں نااہل قرار دے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ان کے حریفوں میں سے اکثر کا انجام بھی یہی ہو گا۔ جب ایشیا کے نیلسن منڈیلا آصف علی زرداری‘ قائد انقلاب عمران خان ‘شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری سمیت سب کا۔\n\nکاش یہ لوگ ادراک کر سکتے‘ کاش نفی ٔذات پر کم از کم اس قدر وہ قادر ہوتے کہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت کھو نہ دیتے۔ پہلی بار یہ مشق نہیں‘ فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے میں سینکڑوں سیاستدانوں کو ''ایبڈو‘‘کردیا گیا تھا ،بعض کو عدالتوں کے ذریعے۔ پھر کیا ہوا؟ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ فوج کاروبارِ حکومت چلا نہیں سکتی کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔ سیاستدانوں کو برادری باہر کیا جا نہیں سکتا۔ طاقتور فوج ہے اور مقبول بھی ۔ کور کمانڈروں کا کیا یہ جی نہ چاہتا ہوگا کہ بدعنوان سیاستدانوں کو بحیرہ ء عرب میں اٹھا پھینکیں۔ مگر وہ پھینک نہیں سکتے۔ تجربات سے انہوں نے سیکھا ہے کہ انہی کے پامال حربوں پہ انہیں اترنا پڑتاہے۔ ان کا اپنا وقار جاتا رہتاہے اور آخر کار وہ ڈھے پڑتے ہیں ۔\n\nراستہ اور ہے ، حضورِ والا ! راستہ اور ہے ۔ ماضی کو بھول کر شائستہ مستقبل کی تلاش ۔ صاحبِ دانش جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا تھا :تاریخ سے کبھی کوئی نہیں لڑ سکا۔ تاریخ سے کبھی کوئی نہ لڑ سکے گا۔ آخر ایک دن وقت یہ فرمان جاری کرے گا کہ فوج کو جو راہ انہوں نے سمجھائی تھی ؛اگرچہ مخمصے کے ساتھ مگر اب بھی جس پر وہ چل رہی ہے ، وہی قابلِ عمل ہے۔ بھائیوں کی نا م پر ان کی کردار کشی ایک الگ موضوع ہے ، اس پر پھر کبھی ۔\n\nقوموں کے مقدر نعرہ بازی سے نہیں بدلتے ، شعبدہ بازی سے نہیں ۔ تدبر کی ضرورت ہوتی ہے ، دانش ، حوصلہ مندی ، مستقل مزاجی اور رواداری کے ساتھ پیہم جدوجہد کی۔ کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا۔ بلوغت اور بالیدگی کے لیے قوموں کو عشروں کی ریاضت درکار ہوتی ہے ۔ نواز شریف کو اٹھا پھینکنا سہل نہیں اور اٹھا پھینکا تو عدم استحکام کے ایک نئے‘ سنگین تر دور کا آغاز ہوگا۔ ع\n\nسخت کوشی سے ہے تلخیٔ زندگانی انگبیں\n\nقسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے ‘مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، جو سچائی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */