ضیاء الحق سے نفرت کی وجہ کیا ہے؟ ارشد زمان

ارشد زمان جنرل ضیاء الحق مرحوم کی آمریت، ایم کیو ایم کی تخلیق اور دیگر کئی پالیسیوں اور فیصلوں سے شدید اختلاف کے باوجود انھیں پاکستان بلکہ دنیا کی تمام تر خرابیوں اور انتہاپسندی، دہشت گردی، لسانیت اور فرقہ واریت کا ذمہ دار ٹھہرانا قرین انصاف نہیں ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ داعش کو بھی بعض حضرات نے ضیاء الحق کے کھاتے میں ڈال دیا ہے، اس سے ان کی نفرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔\n\nضیاءالحق سے بغض رکھنے والوں میں ایک وہ پکے کیمونسٹ یا کیمونزم سے متاثر لوگ ہیں جو کیمونزم کے بت پاش پاش ہونے اور سویت یونین کے حصے بخرے ہونے پہ دل گرفتہ ہیں اور اس کا ذمہ دار ضیاء الحق اور افغان جہاد کو سمجھتے ہیں، اس لیے بھڑاس نکالنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ دوسرے وہ سیکولر حضرات ہیں جو دراصل دل میں اسلام سے پرخاش رکھتے ہیں اور جہاد کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پہلے یہ طبقات روس کی گود میں بیٹھے روبلز سے جی بہلا رہے تھے اور اب روس سے باقاعدہ طلاق لیے بغیر مغرب اور امریکہ کے ساتھ ہنی مون منانے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ تیسرے وہ روشن خیال اور ماڈریٹ دوست ہیں جو کسی بھی نظام کے ساتھ کشمکش سے جی کتراتے ہیں اور حکمت و مفاہمت کےنام پر صرف ’’امن‘‘ کے ساتھ جینے کے قائل ہیں، نفاذ اسلام، اقامت دین، اسلامی ریاست اور جہاد کی اصطلاحات سے انھیں چڑ ہے اور دنیا کی تمام تر انتہاپسندی اور ریاستی دہشت گردی تک کو وہ اسی فکر کا نتیجہ گردانتے ہیں۔\n\nکیا یہ سوالات قابل غور نہیں ہے کہ\nضیاءالحق کے دور سے پہلے پاکستان میں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں؟\nکیا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار ضیاءالحق ہے؟\nکیا سندھو دیش، آزاد بلوچستان اور پختونستان کے نعرے پہلے کبھی نھی لگے؟\nکیا ضیاءالحق پہلا اور آخری ڈکٹیٹر ہے؟\nکیا وسطی ایشیا کے ممالک کو روس نے ضیاءالحق کی وجہ سے ہڑپ کر رکھا تھا؟\nکیا افغانستان پر جارحیت روس نے ضیاء الحق کی دعوت پر کی تھی؟\nکیا فرقہ واریت، انتہاپسندی اور دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے؟\nکیا فلسطین، شام، شیشان، برما، عراق وغیرہ میں ریاستی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی ضیاء الحق ہے؟\n\nاس بات کا بھی سنجیدہ اور منصفانہ تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ نائن الیون سے پہلے اور بعد کے حالات میں دہشت گردی کی کیفیت، حالت اور حجم کیا رہا ہے؟\nکیا موجودہ حالات سے پرویز مشرف بالکل بری الذمہ ہے؟\n\nافغان جہاد اور مجاہدین کی ’’تخلیق‘‘ کا باقاعدہ عمل تو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں شروع ہوچکا تھا جبکہ طالبان کی تخلیق کار محترمہ بےنظیر بھٹو تھیں جس پر انھیں فخر بھی تھا اور انھیں ہمارے بچے گردانتی تھیں۔\n\nیہ بھی نہایت اہم سوال ہے کہ ضیاء الحق کی پالیسیوں کو ’’سیکولر ولبرل حضرات‘‘ نے کیوں برقرار رکھا بلکہ پوری شدت کے ساتھ جاری رکھا؟\nمعلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ضیاء الحق کے بجائے کچھ اور ہے۔\nکیمونزم کا انہدام\nسویت یونین کا بکھر جانا\nسیکولرازم کی ناکامی\nاور\nاسلامی احیاء کی تحریکات کی بڑھوتری\nنفاذ اسلام، اسلامی ریاست کے قیام اور اسلامی احکامات پر عملدرآمد۔\n\nاسلام کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق اور ملا آج تک ہدف کے طور پر چلے آ رہے ہیں