کسی کا فیشنی جوڑا ہے، کسی کی زندگی ہے - سعدیہ نعمان

پچھلے دنوں مارکیٹ جانا ہوا تو خواتین کی کثیر تعداد افراتفری کا شکار ادھر اُدھر دوڑتی بھاگتی نظر آئی گویا کوئی میلہ سا لگا ہے یا کچھ بٹ رہا ہے. توجہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مختلف برانڈز پر سیزنل سیل لگ چکی ہے اور آج پہلا دن ہے. گفتگو جو کانوں میں پڑی وہ کچھ اس طرح تھی\n’’ کھاڈی کا یہ 6000والا سوٹ 50% سیل پہ مجھے 3000 کا مل گیا‘‘\n’’میں نے وردہ سے 2500 کی شرٹ لی تھی ساتھ میں 2000 کا دوپٹہ میچ ہو گیا اور 1500 کا ٹراؤزر لو جی میرا تو زبردست سوٹ تیار ہو گیا اب کون کپڑا لے اور درزیوں سے سلواتا پھرے۔‘‘ گویا کہ کل 6000 خرچ کر کے وہ خاتون کافی مطمئن تھیں کہ کتنی عقلمندی اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کیا انہوں نے۔\nاگر ان سلا سوٹ درزی کو سلنے دیا ہے تواس کے گلے کی ڈیزائننگ، ربن اور میچنگ لیس بٹن وغیرہ کے لیے خواتین بازاروں کی ہر دکان چھانتی اور خوار ہوتی نظر آتی ہیں جیسے زندگی کا مقصد کپڑے بنانا ہی رہ گیا ہو۔\nابھی کوئی دس بارہ سال پہلے تک بھی ایسی کوئی دوڑ نظر نہیں آتی تھی۔ ہو سکتا ہے اَپر کلاس کی محدود خواتین ایسے شوق پورے کرتی ہوں لیکن اب مڈل کلاس کی نوجوان نسل سے ادھیڑ عمر کی خواتین تک سب اس ہوش و ہواس سے بیگانہ کر دینے والی دوڑ میں شریک ہو چکی ہیں۔
\nچلیں ایک اور منظر دیکھیں۔ \nدو دن پہلے ایک خاتون تشریف لائیں. چہرے پہ عاجزی اور اضطراب تھا. کسی خوددار کے لیے دستِ سوال دراز کرنا کیسا کٹھن ہوتا ہے، ان کی کیفیت سے اس کا اندازہ ہوا. ان کی کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ خاوند مزدوری کرتا ہے، بیٹا حالات بدلنا چاہتا ہے جو اب تک کسی طرح بھی اچھے نہیں رہے، ڈپلومہ کے لیے جہاں داخلہ لیا ہے، وہاں داخلہ فیس 20,000 تھی، وہ تو کسی طرح ادا کر دی ہے، ماہانہ فیس 5000 ہے، وہ ہر ماہ ادا کرنا مشکل ہے، کچھ بندوبست ہو جائے تو ہمارا مستقبل بن جائے گا۔ \nدل کو عجیب سے احساس نے گھیر لیا کہ کسی گھرانے کا مستقبل ماہانہ 5000 سے وابستہ ہے تو کہیں ہم خواتین شوق اور منفرد نظر آنے کی حرص میں ایک دن میں کئی ہزار بازاروں میں جھونک آتی ہیں۔ \nتھوڑا رکیے\nخود کو اس آسیب سے نکا لیے۔ \nپھر ذرا روح کی دبی ہوئی صدا سنیے۔\nشاید آپ محسوس کریں کہ کہیں کچھ غلط ہے۔ \nحساب لگائیے ورنہ دینے والے کے پاس تو سب حساب ہے۔\nاچھا لباس ضرور پہنیے۔\nاچھا طرزِ زندگی ضرور رکیے۔\nآس پاس مگر ضرور دیکھیے۔\n کوئی آپ کے صرف 5000 کا محتاج ہے، آپ کے ایک جوڑا کپڑوں کے عوض کسی کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ \nکسی یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھیے۔\nکسی طالب علم کو وظیفہ جاری کر دیجیے۔ \nکسی مستحق خاندان کا راشن لگوا دیجیے۔\nکسی بیمار کی دوا کا ذمہ لے لیجیے۔ \nذرا اس فیشن میراتھن سے خود کو آزاد کیجیے۔ \nروح کی پکار سنیے، اس کی زندگی کی فکر کیجیے۔ \nایسا نہ ہو کہ دل مردہ ہو جائے۔ \nذرا جلدی کیجیے اور نیکیوں کی دوڑ میں شامل ہو جائیے۔ \n[pullquote]وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ[/pullquote]

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.