بہار کے انتظار کے دن-احمد حاطب صدیقی

Ahmed Hatib Siddiqui\n\nمستقبل کی خبریں دینے والے بہت ہیں۔ایسی خبروں کا ایک بازارگرم ہے۔ماضی کے برعکس، حال میں ہرچیز جنسِ بازار بن گئی ہے۔سو، پیش گوئیوں کا بازار بھی لگا ہوا ہے۔کس سیاسی عمل کا کیا انجام ہوگا؟ ہرتاجر آوازیں لگا لگا کراپنی پیش گوئیوں کے ضرورت مند گاہکوں کومتوجہ کررہاہے۔ یہ پیش گوئیاں تھوک کے حساب بھی بیچی جاتی ہیں اور پرچون کی شرح پر بھی۔ ہر ملک، ہرقوم، ہرادارہ اور ہرفرد اِن میں سے اپنی اپنی ضرورت کی پیش گوئی لے لیتا ہے۔جس طرف دیکھیے اِن پیش گوئیوں کی خرید وفروخت کی گہماگہمی اورگرم بازاری ہے۔ کہتاہے کوئی: ’لے‘ کوئی کہتا ہے:’لارے لا‘۔مگرمارکیٹ میں پیش گوئیاں تو اور بھی ہیں۔\n\nکسی کی پیش گوئی ہے کہ دُنیا کا نقشہ بدل جائے گا۔کوئی کہتاہے کہ فلاں سن تک فلاں ملک کا دُنیا کے نقشے پر کوئی نشان باقی نہ رہ جائے گا۔کوئی محوِ آرزو ہے کہ فلاں فلاں ممالک کے فلاں فلاں صوبے نئے نئے ملک کے طورپر دُنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہوجائیں گے۔ کوئی یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ فلاں ملک مستقبل میں آکاس بیل کی طرح پھیل جائے گا اور موجودہ دُنیا کے متعدد ممالک کوہڑپ کرجائے گا۔ (نیز یہ کہ یہ وہ ملک ہے جو آج محض اِتنا سا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے لوگ اگر صرف اُس ملک پر تھوکنا شروع کردیں تو ملک کا ملک تھوک کی غلاظت میں غرق ہوکررہ جائے)وغیرہ وغیرہ۔\n\nپس مستقبل کی خبریں دینے والے بہت ہیں۔ مگر سچی خبریں صرف وہی ہیں جو ہمیں مخبرِصادق صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے پہنچائی ہیں۔ ماڈل کالونی کراچی کی ’ربّانی مسجد‘ کے ایک خطیب اور پیش امام صاحب، مرحوم وحیداﷲ نظمی کی ایک نظم بہت لہک لہک کر گایا کرتے تھے۔ ٹیپ کا مصرع تھا:’اِسلام غالب آئے گا ۔۔۔ اِسلام غالب آئے گا‘۔ اُن کامخصوص اور پُرجوش ترنم آج بھی ہمارے سامعہ کی یادداشت میں گونج رہا ہے۔ یہ یاد ہمارے بچپن کی یاد ہے۔ بچپن کے بعد لڑکپن آیا۔ لڑکپن کے بعد نوجوانی۔ نوجوانی کے بعد جوانی۔ اوراب اشہبِ عمر بڑھاپے کی سمت بگٹٹ بھاگا جارہاہے۔(افسوس کہ بڑھاپے کااِس دُنیا میں کوئی’مستقبل‘ نہیں )۔ تاہم ماضی سے سنی جانے والی’ مستقبل کی یہ پیش گوئی‘ آج بھی ہمارے لیے حیلۂ حیات ہے کہ:’اِسلام غالب آئے گا ۔۔۔ اِسلام غالب آئے گا‘ ۔’کب آئے گا‘۔۔۔ یہی سوال کسی نے رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ وسلّم سے بھی کرلیا تھا۔۔۔متیٰ نصراﷲ؟۔۔۔ (اﷲ کی نصرت کب آئے گی؟) توآپؐ نے جوجواب مرحمت فرمایا اور جس کیفیت میں فرمایا وہ سب کو یاد رکھنا چاہیے۔\n\nہم تواپنے سامنے صرف ’شاندار ماضی‘ رکھتے ہیں۔ محض اِتنا جانتے ہیں کہ اِسلام ہی نے ہم ۔۔۔’ خاک کے ذرّوں کو ہم دوشِ ثریا کردیا‘۔۔۔مگر وہ بات بھول جاتے ہیں جو ہادئ برحق صلی اﷲ علیہ وسلّم نے ’متیٰ نصراﷲ؟‘ کاسوال کرنے والوں کو بتائی تھی۔ بات یہ ہے کہ بہارکے نوشگفتہ پھولوں کو کیاخبر کہ خزاں کیسی حشرساماں گزرتی ہے ؟(اوربھلا خزاں گزرے بغیر بہارکیسے آسکتی ہے؟)\n\nگُلِ نَو دَمیدہ کو کیا خبر جو ہلاکتیں جو قیامتیں\nدلِ شاخِ گُل پہ گزرگئی ہیں، خزاں سے لے کے بہار تک\n\nپس یہ دن بہارکے انتظار کے دِن ہیں۔اوراِس وقت ہم ہلاکتوں اور قیامتوں کے طوفانی دورخزاں سے گزررہے ہیں!\nجودِن گزرگئے ہیں کبھی کبھی اُن پر بھی نظر ڈال لیناچاہیے۔دِنوں کی ایک تصویری نُمائش ہے جو نظرکے سامنے سے گزررہی ہے۔اِس تصویری نُمائش میں سے، ہمارے ہوش کی نگاہوں کے سامنے کھلنے والی پہلی تصویر ’تحریکِ نظامِ مصطفی ؐ‘ کی ہے۔1977ء میں اِسلامی انقلاب کی آس میں جولازوال قربانیاں دی گئیں، اُن کے عینی شاہد ابھی اُن یادوں کو تازہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔ لہوکے چراغ سے بھی چراغ جلا کرتے ہیں۔ شاید ہم نے یہ فیصلہ کرنے میں بڑی جلدبازی کی کہ قربانیاں رائیگاں چلی گئیں۔ ابھی تحریک کے انجام کا فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ 1978ء میں ہمسایہ برادر ملک ایران میں بھی اِسلامی انقلاب کے لیے لہوکے چراغ جل اُٹھے۔ وہاں دی جانے والی قربانیوں کے مناظراگرجزئیاتی تفصیلات کے ساتھ دیکھنے ہوں تو محترم مختارمسعود کے روزنامچۂ انقلاب ’لوحِ ایّام‘ کامطالعہ کر لیجیے۔ مختصر سے کالم میں تمام تصویری مناظر کا احاطہ ممکن نہیں۔مگر آئیے ایک سرسری سی نظر ہی ڈالتے چلیں۔\n\n1979ء کے آغازمیں ایران میں ’اِسلامی انقلاب‘ کا اعلان ہوااورسال کے اختتام تک یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلک کی فوجیں افغانستان میں گھس آئیں۔ اِسلامی انقلاب کارستہ روکنے کے لیے۔ ڈرتھا کہ کہیں روسی ترکستان کی سابق اسلامی ریاستیں بھی نہ جاگ اُٹھیں۔ مگر ہوایوں کہ دُنیا بھرکی اِسلامی ریاستوں کے پرجوش نوجوان جاگ اُٹھے۔ شاعر کہتاہے: ’جس بات کا ڈر ہے تمہیں، وہ بات تو ہوگی‘۔مان لیجیے کہ اُنھیں سوویت یونین نے جگایا۔ افغانستان کے علمائے دین نے ’شورویوں‘ کے خلاف ’جہاد‘ کا اعلان کردیا۔’ اِسلامی جہاد‘ کا مدتوں بعد احیاء ہوا تو لذّتِ شہادت کے متوالے پوری دُنیا سے اِس خوانِ نعمت پر ٹوٹ پڑے۔قرونِ اُولیٰ کے مجاہدین کی یاد تازہ کردی گئی۔ ایسے ایسے چشم دید واقعات ہیں کہ سنیے تو دنگ رہ جائیے۔ روس کے تادیر پٹنے کا منظر دیکھا تو امریکا بھی میدان میں کود پڑا۔(جب افغانستان میں روسی فوجیں داخل ہوئی تھیں تب امریکاکیوں نہ آیاتھا؟)\n\n1989ء میںیونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلک کالشکر جس کیفیت میں یہاں سے بے نیلِ مرام بھاگا۔۔۔یابھگایاگیا۔۔۔ وہ کیفیت محتاجِ بیان نہیں۔ جس بات کا ڈر تھا وہ بات ہوکر رہی۔ وسطِ ایشیا کی اِسلامی ریاستیں ایک ایک کرکے ایک آزادملک بنتی چلی گئیں۔ USSRپارہ پارہ ہوگیا۔ عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمنے لگے۔۔۔’کہ یہ ٹوٹاہواتارامہِ کامل نہ ہوجائے‘۔چناں چہ بوسنیاپر ہلاکت خیز قیامتیں ٹوٹ پڑیں۔ عراق پر دومرتبہ قیامت خیزی ہوئی۔ نائن الیون کے بعدابوغُرائب جیل اور گوانتا نامو بے کی قیامت خیز تصاویر بھی ہمارے سامنے آئیں۔قبرص، فلسطین اورکشمیر توتھے ہی۔ صابرہ، شتیلا، لبنان اور غزہ کی نئی داستانیں رقم ہوئیں۔ پاکستان میں غیور قبائلی مسلمان، لال مسجد کے طلبہ وطالبات اور سوات کے شہری اور قبائلی پاکستانی بالخصوص نشانہ بنے اورتمام پاکستانی شہری بالعموم۔ مصر میں سیسی کے مظالم نے قرون اولیٰ کے قاہروں کے مظالم تازہ کردیے۔ جنگ اب بھی زوروں پر ہے۔ ترکی کی تازہ مثال بالکل سامنے کی بات ہے۔ اِس کے باوجود وہ بیداری ہے کہ رُک نہیں رہی ہے۔ وہی بیداری جس کا رستہ روکنے کے لیے ’شورویوں‘ کے خاتمہ کے بعدصلیبیوں نے بھی مُسلم اُمّہ پر فوج کَشی کردی ۔توکیا لوگوں نے اسلام کادامن چھوڑ دیا؟ چند ’ڈالر خرید‘ دانشوروں کے سوا، کہ ۔۔۔ کہیں نامِ جہاد آئے تو وہ رہ رہ کے ہنستے ہیں ۔۔۔مگر ہمارے ملک کا وہ عام مسلمان جو شہِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلّم کا پرچم بلند رکھنے پر ایمان رکھتاہے، اُس کا حال یہ ہے کہ وہ ان طاغوتی طاقتوں کو منہ کے بل گر کر زمین کی دھول چاٹتے دیکھ رہاہے۔ بقول اکبرؔ الٰہ آبادی:\n\nبھول کر رنج اپنے مٹنے کا\nمنتظر ہوں اب اُن کے پٹنے کا\n\nبہ حیثیتِ مجموعی، سچ تو یہ ہے کہ۔۔۔’مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے‘۔۔۔دوسری طرف اِس لشکر کشی سے خودغیر مسلم اقوام کے اندربھی اِسلام اور قرآن کو جاننے کی پیاس بڑھ گئی ہے۔خواہ یہ اقوام مغرب کی ہوں، مشرق کی ہوں، شمال کی ہوں یا جنوب کی۔تو کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک بار پھر یہ حیرت انگیز منظر نظر آئے کہ ۔۔۔’پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے؟‘ ۔۔۔ اقبالؔ نے پردۂ تقدیر میں چھپے ہوئے اس عالَم نو کی سحر کو اپنی نگاہوں میں بے حجاب دیکھ لیاتھا اور یہ دیکھ کر ہی ہمیں متوجہ کیا تھا کہ:\nکھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ\nمشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ