نعت میں خطابیہ لہجہ اور صیغہ واحد حاضر- محمد یعقوب آسی

اس موضوع پر پہلے سے اتنے طویل مباحث موجود ہیں جن پر کوئی مفید اضافہ اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔اپنے محسوسات کے حوالے سے چند گزارشات کرنا مقصود ہے۔ اچھی لگیں تو دعا دیجیے گا، اچھی نہ لگیں تو بھی دعا دیجیے گا۔​\n\nجناب حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نعت گویوں کے امام ہیں۔ ظاہر ہے انہوںؓ نے نعت میں جو کچھ نظم کیا، وہ عربی میں ہے۔ جناب حسانؓ کے نعتیہ کلام میں تخاطب کا صیغہ غالب ہے یعنی واحد حاضر مذکر۔ اِنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءٗ۔ اس کے لفظی ترجمہ میں نبی کریم کے لیے اردو کا متبادل لفظ ’’تُو‘‘ آتا ہے۔ فارسی میں بھی ایسا ہی ہے۔ انگریزی میں بھی ایک عرصہ پہلے تک thou, thy, thee, thine مستعمل تھا، شاعری میں آج بھی ہوتا ہو گا (کوئی اہل لغت بتائیں گے) ؛ حالیہ نثر میں یہ غالباً شاذ ہے اور صرف وہیں مستعمل ہے جہاں ناگزیر ہو۔ دعا، درخواست، خطاب کے موقع پر اِس ’’تُو‘‘ کا استعمال، اللہ کریم جل جلالہٗ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہر محترم شخصیت کے لیے مروج رہا ہے اور وہیں سے اردو میں آیا ہے۔ اس میں ایک عنصر یہ بھی رہا ہے کہ اللہ کا کوئی ثانی نہیں، لہٰذا اُسے خالص واحد صیغہ’’ تو‘‘ ہی میں پکارا جائے گا؛ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مثیل نہیں، لہٰذا آپ کے لیے بھی (تخاطب کی صورت میں) واحد حاضر کا صیغہ استعمال ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’تم‘‘ کا صیغہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، وجہ اس کی غالباً یہ ہے کہ ہم اردو میں واحد حاضر کے لیے ’’تم‘‘ بھی بولتے ہیں؛ انگریزی میں جیسے thou کی جگہ you نے لے لی، تاہم مراد مخاطب واحد ہی ہوتا ہے۔\n\nاردو میں شائستگی کا عنصر ’’تُو‘‘ اور ’’تم‘‘ کو بدل کر ’’آپ‘‘ کی صورت دے دیتا ہے، اور فعل کا صیغہ بھی واحد سے جمع میں بدل جاتا ہے۔ ہم اپنے والدین اور بزرگوں کو اور دیگر محترم شخصیات کو تُو یا تم کہہ کر پکارنا معیوب خیال کرتے ہیں کہ ایسا کرنا شائستگی کے خلاف ہے۔ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارے جملہ محترمین سے ہزاروں لاکھوں درجے زیادہ محترم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ کلمات کیوں نہ ادا کیے جائیں جو ممکنہ حد تک احترام کی اعلٰی ترین سطح کی نمائندگی کریں۔ اس لفظ ’’آپ‘‘ میں ایک اور خوبی بھی ہے، کہ یہ غائب کے لیے بھی بولا جاتا ہے، یعنی جہاں تخاطب کے بجائے ذکر مقصود ہو۔ کسی فرد مفرد کے حوالے کے بغیر (صیغہ واحد غائب کے لیے) یہ جملے دیکھیے: (۱) اس نے کہا، (۲) انہوں نے کہا، (۳) آپ نے کہا، (۴) آپ نے فرمایا، (۵) آپ کا ارشاد ہے؛ وغیرہ۔ بات کرنے والے کے لہجے میں مذکور کے لیے احترام کے درجات از خود واضح ہوتے جاتے ہیں۔\n\nیہاں ہمارے ایک خطیب ہیں وہ دعا میں اللہ کریم کو بھی ’’آپ‘‘ کہتے ہیں۔ مثلاً: آپ غفور و رحیم ہیں، ہم کمزوروں کی کوتاہیوں سے صرفِ نظر فرمائیے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائیے، تمام جہانوں کو آپ نے تخلیق فرمایا اور حکم بھی آپ کا چلتا ہے؛ و علٰی ہذا القیاس۔ اور سچی بات ہے کہ یہ لہجہ اچھا لگتا ہے۔ رہی بات یہ کہ اساتذہ نے خطابیہ لہجے\nمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو، تم، تیرا، تمہارا، تجھے، تمہیں استعمال کیا ہے؛ یہ درست ہے؟ یا نادرست؟ میری درخواست ہے کہ گزشت آن چہ گزشت؛ آپ اس بحث میں نہ پڑیے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو، تم، تمہارا کے بجائے ’’آپ‘‘ کو اپنائیے۔ اللہ توفیق دے۔\nجیسا پہلے عرض کر چکا ہوں یہ گزارشات میرے محسوسات کی نمائندہ ہیں، اہل علم اور اہل لغت جو بھی فرمائیں سر آنکھوں پر۔