آزادی اور ہمارے تمھارے دادا - رضوان اسد خان

رضوان اسد خان تمہارے دادا بہت بڑے نواب تھے اور میرے دادا ان کے ہاری. تمہارے دادا نے میرے دادا سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ان کا ساتھ دیں تو انہیں وہ مل جائے گا جو وہ چاہتے ہیں: یعنی نظام مصطفی (صل اللہ علیہ و سلم). کیونکہ انگریز کے جانے کے بعد ہندو کبھی بھی یہ نہ ہونے دیتا، لہٰذا میرے دادا کو اور کیا چاہیے تھا. وہ فوراً مان گئے اور تن، من، دھن کے ساتھ تمہارے دادا کا ساتھ دیا. تمہارے دادا کی جماعت نے بڑی محنت کی اور انگریز سے اپنے لیے الگ ملک لینے میں کامیاب ہو گئے. میرے دادا بہت خوش تھے حالانکہ ان کے بہن بھائی یہاں ہجرت کرتے ہوئے شہید کر دیے گئے. پھر انہوں نے تمہارے دادا کو ان کا وعدہ یاد دلایا. وہ بولے اس پہ کام ہو رہا ہے. پھر تمہارے دادا نے خوشخبری سنائی کہ لو بھئی قرارداد مقاصد منظور ہو گئی ہے، اب اسلامی نظام بس آیا ہی سمجھو. میرے دادا پہلے تو حیران ہوئے کہ یہ تو سیدھی سی ’’انڈرسٹوڈ‘‘ بات تھی جو قرآن میں درج ہے، اس کو منظور کرنے کی بھلا کیا تُک؟ لیکن پھر سوچا کہ، ’’چلو ہوگی کوئی ’کاغذی کارروائی‘ جو مجھ میٹرک پاس کی سمجھ سے باہر ہو.‘‘\n\nپھر میرے دادا بوڑھے اور بیمار ہو گئے پر میرے بابا کو بتا گئے کہ جس’’وعدے‘‘ کے لیے انہوں نے محنت کی تھی، وہ تمہارے دادا کو یاد دلاتے رہیں. اور یوں ایک دن وہ اپنی حسرت دل میں ہی لیے اپنے اللہ جی کے پاس چلے گئے. تمہارے دادا بھی اب آخری سانسیں گن رہے تھے. انہوں نے تمہارے بابا کو بلا کر اپنی لمبی چوڑی جاگیر کا حساب کتاب بتانا شروع کیا تو ظاہر ہے زمین کی طرح حساب بھی پھیلتا چلا گیا اور وہ وعدے والی بات کی نوبت ہی نہ آ سکی اور تمہارے دادا بھی چل بسے.\n\nپھر جب میرے بابا نے تمہارے بابا کو وہ وعدہ یاد دلایا تو وہ بولے یہ اسلامی نظام ہی تو ہے. تمہیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور خاص طور پر گائے کی قربانی سے کوئی روکتا ہے؟ میرے بابا نے کچھ کہنا چاہا کہ عدالت میں ہمارا جو مقدمہ چل رہا ہے، اس کا فیصلہ تو اسی پرانے قانون کے تحت ہو رہا ہے پر تمہارے بابا بہت مصروف تھے. انہوں نے میرے بابا کی ایک نہ سنی اور انہیں چلتا کیا. پھر تمہارے بابا نے تمہیں پڑھنے کے لیے امریکا بھیج دیا اور میں یہاں ٹاٹ کے سکول میں پڑھنے لگا. تم ولایتی ڈگری لے کر آتے ہی اپنے بابا کی طرح وزیر بن گئے. میں نے بھی تھوڑی بہت محنت کر کے ڈاکٹری کر لی. میرے بابا نے مجھے یہ ساری کہانی سنائی اور کہا کہ اپنے حق سے پیچھے نہ ہٹوں اور تمہیں وہ وعدہ یاد دلاتا رہوں جو تمہارے دادا نے کیا تھا.\n\nمیں تم سے ملا اور یہ سب بتایا تو تم ہنس پڑے. تم نے کہا کہ تمہارے دادا نے میرے دادا کو بیوقوف بنایا تھا اور یہ کہ تمہارے اور میرے دادا کے لیڈر، قائداعظم تو سیکولر ملک چاہتے تھے، اسلامی نہیں. تم نے کہا کہ آج کی دنیا میں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. تم نے کہا کہ فکر نہ کرو ہم انسانوں کی اجتماعی عقل کے مطابق اس ملک کو ایک اچھا نظام دیں‌گے جیسا امریکا اور برطانیہ میں ہے. ہر مذہب والے کو اپنے مذہب پہ چلنے کی آزادی ہوگی لیکن کوئی اپنے مذہب کو ریاست اور دوسروں پر تھوپنے کی کوشش نہیں کر سکے گا.\nپتہ نہیں تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟\nنہیں، نہیں، ہمارے قائد سیکولر نہ تھے،\nوہ تو اسلام کی تجربہ گاہ چاہتے تھے،\nقرارداد مقاصد والے بھی اسلام چاہتے تھے،\n1973ء کی اسلامی دفعات بھی شرعی نظام کے لیے تھیں.\n\nکیا کہا؟\nمیں بہت بھولا ہوں؟\nتم ہی بتاؤ،\nامریکا اور برطانیہ جیسا نظام ہی چاہیے تھا تو تمہارے دادا نے انہیں جانے ہی کیوں دیا؟\nان سے آزادی کیوں لی؟\nہندو سے بچنے کے لیے؟\nلیکن وہ تو اب بھی ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے، ہمارے کشمیر پر قابض ہے، ہمارے دہشت گردوں کا پالنہار ہے.\nپر تم کہتے ہو کہ ہمیں اسے نفرت نہیں پیار سے سمجھانا ہے،\nدشمنی نہیں، دوستی کرنی ہے،\nتجارت کرنی ہے، ثقافت کی باتیں کرنی ہیں.\nتو اے میرے دوست،\nکیا تم یہاں لبرل، سیکولر نظام چاہتے ہو؟\n\nجہاں ہر شخص کو ہر چیز کی آزادی ہو،\nطوائف کو چکلہ چلانے کی آزادی ہو،\nسیٹھ اور بنک کو سود پہ قرض دینے کی آزادی ہو،\nسینما میں فحش انگریزی، ہندی، اردو فلموں کی آزادی ہو،\nپیروں کو سجدے کروانے کی آزادی ہو،\nجادوگروں کو کالے علم کی آزادی ہو،\nنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی آزادی ہو،\nنئے نئے نبی بنانے کی آزادی ہو،\nصحابہ کی تکفیر کی آزادی ہو،\nاسلام کے خلاف بولنے کی آزادی ہو،\nامریکی، بھارتی جاسوسوں کو ہر جگہ جانے کی آزادی ہو،\nتو میرے بھائی ایسی ’’آزادی‘‘ تمہیں ہی مبارک ہو.\n\nلیکن یاد رکھو،\nجب تک میرے جیسوں کے گھر میں\n’’اسلام کے لیے آزادی‘‘\nکی یاد میں سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا،\nتمہارے جیسوں کی\n’’اسلام سے آزادی‘‘\nکا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com