پاکستان نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ - عظمی عروج عباسی

عظمی ایاز پاکستان نہ ہوتا تو میں کیا ہوتا؟ ہندوستان کا دوسرے درجے کا شہری؟ نہیں شاید تیسرے یا چوتھے درجے کا شہری کیوں کہ دوسرے درجے پہ تو ہندو دلت فائز ہیں، تیسرے پر سکھ اور عیسائی. چوتھے درجے کے شہری کو مسلمان کے بجائے مسلا کہہ کر تمسخر آمیز لہجے سے پکارا جاتا. میں جس مسجد میں نماز پڑھتا، وہاں شروع میں کوئی ہندو انتہاپسند تنظیم ہر دوسرے تیسرے دن خنزیر کا سر کاٹ کر پھینکتی، پھر بھی میں نماز پڑھنے سے باز نہ آتا تو ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے یا تو مسجد کو تاریخی یادگار قرار دے کر اس پر تالا لگا دیا جاتا یا پھر کوئی ہندو تاریخ دان اس مسجد کی بنیادوں میں چھپا کوئی مندر ڈھونڈ لیتا اور وہ مسجد مسمار کر دی جاتی.\n\nاگر میں پاکستانی نہ ہوتا تو کسی کاروبار کرنے کی وجہ سے حیدر آباد دکن کے تاجروں کی طرح ہر چیز چھین کر مجھے زندہ جلا دیا جاتا، سیاست میں جاتا تو گجرات کے اقبال احسان ایم ایل اے کی طرح بیٹیوں سمیت برہنہ ذبح کر کے جلا دیا جاتا یا پھر کسی ٹی وی شو میں ایک گروہ آ کر مجھ پر پٹرول چھڑکتا اور آگ لگا دیتا. پاکستانی نہ ہوتا تو اپنے رب کی حلال کی گئی چیزوں کو جان کے خوف سے اپنے لیے حرام سمجھ لیتا. اگر کوئی عالم ہوتا تو مجبورا ہندوؤں کو اپنا بھائی بناتا اور میرے فتوے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں ہوتے.\n\nمیں اگر پاکستانی نہ ہوتا تو کیا انسان بھی ہوتا؟ کیا چانکیہ سوچ مجھے ایک انسان کا درجہ دیتی؟ کیا مجھے سکون سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے دی جاتی؟ کیا میں اسلامی عقائد و فرائض ادا، اور اسلامی شعائر کا احترام کر سکتا؟ یا ہندوستان کے باقی مسلمانوں کی طرح مجھے بھی مجبورا سیکولر ہونے کا ناٹک کرنا پڑتا؟\n\nمیں پاکستانی ہوں، اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میرے آباء کی قربانیاں ہیں، ان کی لازوال جدوجہد ہے جس کی وجہ سے آج میں پرسکون فضاؤں میں سانس لے رہا ہوں، جہاں مجھے ہندو سنگھٹنوں کا خوف نہیں. یہاں پہنچنے کےلیے میرے آبائو اجداد کو خون کا دریا عبور کرنا پڑا، ریاست پٹیالہ کی تحصیل سمانے سے لے کر لاہور تک ایک خونی سفر طے ہوا جس کی رواداد سن کر میں ہمیشہ کانپ اٹھتا ہوں. اپنے آباء کے لہو میں ڈوبی یہ داستان ہر اگست میں میرے دماغ پر چھا جاتی ہے اور مجھے یاد دلاتی ہے کہ بیٹا یہ پاکستان پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا تھا، اس کے لیے جوانوں کی جوانیاں، بہنوں کی عزتیں، بزرگوں کی بزرگیاں اور بچوں کی معصومیت لٹائی گئیں. سمانے کے زمیندار گھرانے در در خاک چاٹنے کو مجبور ہوئے، بڑی بڑی حویلیوں میں رہنے والوں نے کُٹیا میں رہنا سیکھا. یہ ہجرت نہیں خون کا سمندر تھا جس میں ڈوبے اپنے عزیز و اقارب آج بھی یاد آتے ہیں. ان قربانیوں کے طفیل میں چوتھے درجے کا نہیں، اول درجے کا شہری ہوں، پاکستانی ہونے کا تاج میرے سر پر سجا ہے. اور آج میں یعنی جدوجہد کرنے والوں کی تیسری نسل الحمداللہ فخر سے یہ بتا سکتا ہوں کہ\nہاں میں پاکستانی ہوں\nاور اول درجے کا شہری ہوں