خدا کا خوشنما ہاتھ - راشد حمزہ

کسی دریا کے کنارے سرد لہر سے چلو میں پانی بھرتے وقت ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہ آب خنک آیا کہاں سے ہے اور کتنا طویل فاصلہ طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے؟ اس سفر میں کیسے کیسے حالات اُس پر گزرے ہیں؟ کیسی کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کتنے پتھروں سے لڑ کر سر پٹخ کر آگے بڑھا ہے؟ یا شاید یہ آب خنک کہیں سے آیا نہیں، ہماری تشنگی پیدا ہوتے دم ہی اس کی تخلیق ہوگئی، ہم یہ نہیں جانتے کہ اس چلو بھر آب خنک نے ہماری تشنگی کو جنم دیا ہے کہ تشنگی نے اس چلو بھر آب خنک کو.\n\nخدا کی پھیلائے گئے اس وسیع و غریض کائنات میں کوئی شے بے فائدہ، بے مقصد اور بے مطلب ہرگز نہیں ہے. کوئی جذبہ، کوئی سوچ، کوئی خیال اور کوئی احساس بے وقعت اور بےقیمت نہیں ہے، جو وجود میں ہے وہ موجود ہے جو موجود ہے وہ بلامقصد ہرگز نہیں. یہ آب خنک ایسے ہی تو چلو تک نہیں پہنچا ہے، کیا اسے معلوم تھا کہ کوئی تشنہ شخص میرے انتظار میں بیٹھا ہے، میں ہی اس کی قسمت ہوں، کہ وہ مجھے بے تابی کے ساتھ ان لہروں سے جدا کردے گا اور کس قدر اطمینان اور سرشاری کے ساتھ اپنے ہونٹوں سے لگا کر اپنی ذات کا حصہ بنا دے گا؟ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہمارا مقصود و مطلوب اس آب نے کسی گلیشیئر سے جنم لیا ہے کہ کسی جھیل کی کوکھ سے، یا کسی تشنہ کی تشنگی سے.\n\nاس چلو بھر آب خنک کی طرح ایسے ہی کچھ لوگ جو ہمیں بےحد مطلوب و مقصود ہوتے ہیں، ہماری زندگی میں آتے اور جاتے رہتے ہیں، ہم یہ نہیں جانتے کہ ان لوگوں کو ہماری طلب تخلیق کرتی ہے یا ہماری اپنی ذات میں ایسے لوگوں کے لیے کمی سی موجود رہتی ہے جو یہی لوگ اپنی ذات سے پورا کرتے ہیں. ہمارے اندر کے احساسات بہت توانا ہوتے ہیں، یہ وقت کی رفتار تک روک بھی لیتے ہیں اور باد رفتار جہاز کی طرح تیز بھی کرجاتے ہیں، یہی احساسات ایسے معاملات ہماری مطلوب شخصیات کے ساتھ بھی برتتے ہیں.\n\nزندگی کے سفر میں کسی ایسے شخص کے لیے تشنگی کا پیدا ہوجانا، پھر اس کی شخصیت کا وجود میں آنا، ہمارے لمحات کو روشن، پیاری پیاری اور انوکھی کیفیات بخشتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اندر کا جہاں نظر آنے والے جہاں سے ہزار گنا بڑا اور خوبصورت ہے، اندورن جہاں کو ہم کیسے دکھائیں گے، کیسے آشکار کریں گے، اور کیسے ثابت کریں گے، اس کے لیے احساس کا پیدا ہوجانا بےحد ضروری ہے، احساس ہی تخلیق کو جنم دیتا ہے.\n\nہر شخص کی زندگی کے تجربات مختلف ہوتے ہیں، اس وجہ سے اختلاف کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، پر مجھے کہنے دیجیے کہ تخلیق کرنا خدا کی صفت ہے، جس سے انسان کو بھی نوازا گیا ہے، میں انسان کے اندر رکھی گئی خدا کی تخلیقی صفت کو توانائی دینے کے لیے ایک محبوب شخص کے احساس کو لازمی سمجھتا ہوں، ہمارے اندر کی خوبصورتی تمام وضاحتوں اور تفصیلات کے ساتھ آشکار کرنے کے لیے ایک محبوب شخص ہمیں جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے، اس کا احساس روح کو گدگداتا اور دل کی پاتال گہرائیوں میں کلام کرتا رہتا ہے، یہ انوکھی اور پیاری سی گدگدی اور دل کی گہرائیوں میں کلام تشنگی کا اظہار تخلیق کے ذریعے کرتا ہے.\n\nسادہ الفاظ میں یہ محبوب شخص ہمارے خدا کا وہ پیارا اور خوشنما ہاتھ ہوتا ہے جو ہمارے من پر رکھا گیا ہوتا ہے، اس کے ذریعے خالق عظیم ہمارے اندر کی خبر ہم تک منتقل کر دیتے ہیں