فقہ میں برصغیری مزاج کا ستم - فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن برصغیر میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی خدمات کے سب معترف ہیں. ان کے افکار کو قرآن وحدیث کے علوم کے منبع اور مصدر و مرجع کا مقام حاصل ہے۔ لیکن بعد کے ادوار میں برصغیر کا خطہ بڑا ظالم ثابت ہوا بالخصوص دینی تعلیم و تعلّم کے حوالے سے۔\nاول:\nمسلک احناف کو دو دھڑوں میں تقسیم کرکے علمائے احناف کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ ایک طرف مشربی و مسلکی مسائل پر توجہ زیادہ ہونے لگی تو دوسری طرف فقہ المقارن برائے نام اور ایک تذکرہ تک محدود ہونے کی وجہ سے اختلافی مسائل میں اعتدال مفقود اور سختی نمایاں ہوگئی ۔\nدوم:\nعلمائے احناف کی دیوبندیت اور بریلویت میں تقسیم سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وسعت پیدا ہوتی (فقہ و تنقیح، مسائل، رویہ ومزاج میں ) جس طرح مذاہب اربعہ کے وجود سے دینِ اسلام کی وسعت اور آفاقیت نمایاں ہوتی ہے، مگر ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور صورتحال سب کے سامنے ہے. برصغیر کے اس فقہی و مشرَبی مزاج نے وسعت تو دور کی بات، ہر مسئلہ کو محدود، بےلچک اور ذہنوں کو مقید و محصور کرکے جہاں انھیں مسلکی طوق پہنایا وہیں تنگ نظری اور متشددانہ سوچ کا باعث بھی بنا۔\nسوم:\nعلمائے احناف اور فقہ حنفی کے ساتھ اہل حدیث اور اہل تشیع بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ اس مزاج نے انہیں بھی متاثر کیا اور وہ بھی تنگ نظری اور بعض فقہی آراء میں حد درجہ غلو کا شکار رہے ہیں ۔\n\nاس کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ من جملہ یہ سارے مکاتب فکر اور اس کے پیروکار اس خاص بر صغیری مزاج کے شکار ہوئے ہیں۔ بلکہ ہر فقہ و مشرب سے تعلق رکھنے والوں میں معتدل اور فقہ حنفی / مکتب اہل حدیث / اہل تشیع کے اصل وارث اور پیروکار موجود ہیں۔\nجس طرح آغاز میں ذکر کیا کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ کی خدمات کا اہل برصغیر کھبی انکار نہیں کر سکتے، ہر فقہ و مسلک کے پیروکار ان کو اپنا امام اور سند مانتے ہیں۔ اور اسی سند کو ہی قابل فخر و غرور اور علم و فضل کا آلہ سمجھا جانے لگا ہے۔\n(( برصغیر کے احناف اور فقہ حنفی کی تقسیم کا تنقیدی جائزہ ))

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.