کیا اردگان عدنان مندریس بننے جا رہے ہیں؟ سراج الدین امجد

ترک حکمران رجب طیب اردگان حالیہ سالوں میں عالم اسلام کے ابھرتے ہوئے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ مثالی طرزحکمرانی، اقتصادی ترقی کے کامیاب ماڈل اور سیاسی بصیرت سے انہوں نے نہ صرف ترکی کا عالمی تاثر بہتر کیا بلکہ خود ترک عوام کے دلوں میں گہری جگہ بنائی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بغاوت میں بھرپور عوامی تائید نے نہ صرف ان کے اقتدار کے تحفظ کے لیے جانی قربانیوں سے ایک نئی تاریخ رقم کی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ اچھے حکمرانوں کے لیے عوام آج بھی کس والہانہ جوش و جذبے سےگھروں سے نکلنے کو تیار ہیں ۔\n\nرکیے! یہ کہانی کا ایک رخ ہے. دوسراپہلو یہ ہے کہ بغاوت شاید ابھی فرو بھی نہ ہوئی تھی کہ امریکہ میں پناہ گزین صوفی منش مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کو ساری بغاوت کا سرغنہ قرار دے دیا گیا اور پھر بڑے پیمانے پرگولن ہمنواؤں کی تطہیر کا عمل شروع ہوگیا۔ فوج سے لے کر تعلیمی اداروں تک اور عدلیہ سے لے کر نشریاتی اداروں تک شاید ہی کوئی جگہ بچی ہو۔ سینکڑوں کی تعداد میں معطلی، تنزلی، قیدو بند اور کڑی سزاؤں کی تنفیذ کا غلغلہ بلند ہوا۔ اس قدر شدید ردعمل بالخصوص گولن تحریک سے وابستگان ہزاروں لوگوں کے خلاف شدید کارروائی کے تاثر سے مغربی میڈیا تو کجا خود اردگان کے ہمنوا حلقے بھی حیرت و استعجاب کی تصویر بن گئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ایک معتد بہ حصہ اسے ترکی کی سالمیت اور وحدت ملی کے لیے حد درجہ ناگوار شگون قرار دینے لگا۔\n\nآئیے! ذرا اس ساری صورت حال کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنجیدہ مبصرین آج کے اردگان اور 50/60ء دہائی میں معروف ترک سیاسی رہنما اور وزیراعظم عدنان مندریس میں مماثلت دیکھ رہے ہیں. حقیقت پسندانہ انداز فکر اور عدنان مندریس کے سیاسی سفر کا بےباک تجزیہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کس طرح مقبولیت اور عوامی پذیرائی حکمرانوں کے آمرانہ جذبات کو مہمیز دیتی ہے اور کل تک جمہوری رویوں اور شورائی طرز فکر کے علمبردار انا ولا غیری کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اس آشیانہ کو آگ دکھاتے ہیں جس کی تعمیر میں عمریں بیت گئی ہوتی ہیں۔ عدنان مندریس اتاترک کے سیکولر انقلاب کے بعد عوامی تائید سے منتخب ہو نے والے پہلے حکمران تھے. وہ 1950ء سے 1960ء تک وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہے. انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت اور معاشی پالیسیوں سے ترکی معیشت میں انقلاب برپا کردیا. شرح نمو 9% کی حیرت انگیز سطح تک بڑھ گئی۔ سیکولر ترکی میں انہوں نے اسلامی اصلاحات نافذ کرنے کا جرات مندانہ موقف اپنایا. سالوں بعد اذان کا دوبارہ عربی زبان میں شروع کروانے ایسا کارنامہ انھی کے ہاتھوں انجام پذیر ہوا تاہم ؎ ’مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘ کے بمصداق شخصی آمریت رنگ دکھانے لگی۔ ذراسی تنقید مزاجِ شاہی کے لیے حد درجہ ناگوارِ خاطر ہوتی یہاں تک کہ سنسرشپ کے کڑے قوانین نافذ کر دیے گئے. بات یہاں تک رکتی تو شاید کچھ بہتری کا ساماں باقی تھا۔ مخالفین کو کچلنے کے لیے لامحدود اختیارات کے حامل تحقیقاتی کمیشن نے رہی سہی کسر پوری کردی اور پھر جب 1961ء میں فوجی بغاوت ہوئی تو صدر جمال گرسل سے لے کر اپوزیشن رہنما عصمت انونو کی اپیلیں بھی انہیں پھانسی کے پھندے سے نہ بچا سکیں۔\n\nآج اگر کہا جا رہا ہے کہ اردگان مندریس کے اسی اندوہناک انجام کی وجہ سے اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور اسی بنا پر مخالفین کو چھوڑنے کو تیار نہیں تو اس خوفناک انجام سے وہ یہ عبرت کیوں نہیں پکڑتے کہ انتقامی کارروائی سے آگ مزید بھڑکے گی۔ چند سو افراد کا سازش میں ملوث ہونا تو قرینِ قیاس ہو سکتا ہے مگر ہزاروں لوگوں کے سازش میں ملوث ہونے کا الزام تو بادیُ النظر میں لغو اور بےہودہ معلوم ہوتا ہے۔ گولن کے 50 سالہ دعوتی کام، رفاہی طرز عمل اور صوفیانہ روش کے باوجود ان کے استعمار یا شیطانِ بزرگ کے ہاتھوں استعمال ہونے کے تصور سے انکار نہیں تاہم یہ تصور ہر ایک کے لیے روح فرسا ہے کہ سیکولر ترکی میں دینی تعلیمات کے فروغ کے لیے نصف صدی وقف کر دینے والا شخص دراصل استعماری ایجنٹ اور باغیوں کا سرغنہ ہے اور جب تک وہ اور اس کے ہزاروں ہمنوا ختم نہیں کر دیے جاتے. پہلے بھی کہا تھا، بارِ دگر عرض ہے کہ اگر گولن اس قضیہ میں قصوروار ہے تو بھی سزا دیتے ہوئے جوش انتقام کے بجائے ہوش فرخندہ فرجام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. اسلامی ممالک کے آمروں کی اسی جذبۂ ناگزیریت کا تو کرشمہ ہے کہ کئی ممالک میں ملکی استحکام پارہ پارہ ہو گیا تاہم حکمران اور ان کے زلہ رُبا شخص معین کی حکمرانی کو ہی ملکی سالمیت کے مترادف قرار دیتے رہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */