ترکی میں ناکام بغاوت کی جڑیں اور مابعد کا منظرنامہ - محمد فاروق

صاحب تحریر محمد فاروق نے بغاوت کے بعد ترکی کا دورہ کیا اور تفصیلی طور پر ناکام بغاوت کے اسباب، بعد از بغاوت ردّعمل اور طیب اردگان کے مستقبل کے حوالے سے دلیل ڈاٹ پی کے کے لیے خصوصی بلاگ لکھا ہے.

\n\nمحمد فاروق ترکی میں بغاوت کے حوالے سے اب تک کافی کچھ لکھا جا چکا ہے، میں مختصر طور پر اپنے تاثرات پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جو کچھ مجھے قیام استنبول کے دوران وہاں کے دوستوں کی گفتگو اور اخبارات کے تبصروں سے معلوم ہوا.\n\n1- یہ ایک ’’مکمل‘‘ اور ہمہ گیر بغاوت تھی۔ اس میں فوج کا کوئی چھوٹا گروپ نہیں، بہت بڑا حصہ ملوث تھا چنانچہ فوج میں جس پیمانے پر گرفتاریاں اب تک عمل میں آئی ہیں، وہ اسی کی عکاس ہیں۔ معاملہ اس سے کہیں گہرا ہے جتنا کہ یہاں سمجھا یا بیان کیا جا رہا ہے۔ آپ مستقبل قریب میں کچھ مزید گرفتاریوں کا بھی سنیں گے ( بلکہ شاید ہم تک ایسا کچھ نہ بھی پہنچ پائے )۔ مگر حقیقت بہرحال یہی ہے۔ اس طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اردگان پر اس کے ردّعمل میں جس ’’بےاحتیاطی‘‘ کا الزام ہے، وہ دراصل ’’حد درجہ احتیاط‘‘ ہے، نہ کہ بے احتیاطی۔ اور یہ پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کے مترادف ہے۔\n\n2- امریکہ، یورپی یونین کے کرتا دھرتا اور بحیثیت مجموعی تمام مغربی طاقتیں یا تو براہ راست اس بغاوت کی پشت پر تھیں ( جیسے امریکہ )، یا کم از کم اس سے باخبر اور اس بغاوت کی حمایت کرنے والی تھیں۔\n\n3- کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ گولن تحریک نہ صرف یہ کہ اس بغاوت کی پشت پر تھی بلکہ عملاً یہ گولن تحریک کے فوجی ٹولے ہی کی براہ راست کارروائی تھی۔ بتایا گیا کہ عملا گولن تحریک کی یہ تیسری کوشش تھی۔ اس سلسلے کی پہلی کوشش، 2013ء میں گولن کے ’’پولیس ایجنٹوں‘‘ نے مجسٹریٹ یا عدالتی تقاضوں کے بغیر جسٹس پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کو بدعنوانی کے الزام میں براہ راست گرفتار کر لیا تھا۔ اُن میں سے بعض جب گولن تحریک سے متاثرہ عدالتی ججوں کے سامنے پیش ہوئے تو مجرم ٹھہرے، مگر دوسری عدالتوں میں پیش ہوئے تو بری ہوگئے۔ یہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ تحقیقات پر معلوم ہوا کہ پولیس کے اُن افسران کو باقاعدہ ایسا کرنے کی ہدایت ملی تھی۔ دوسری کوشش، فوج کے اندر کچھ سیکولر افسران پر بغاوت کا جھوٹا الزام لگوا کر حکومت کے زور سے انہیں نہ صرف فارغ کرکے گولن کے ہم خیال فوجی افسران کے لیے جگہ خالی کروائی گئی بلکہ فارغ افسران کو جیل بھی جانا پڑا۔ حکومت کو اس غلطی کا بعد میں ثبوتوں کے ساتھ پتہ چلا، مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اور گولن ٹولہ اس مرحلے پر اپنے اگلے ممکنہ اقدام کے لیے’’بہتر‘‘ پوزیشن پر آچکا تھا۔\n\n

بغاوت کی ناکامی :

\n\n1- آپ کو یاد ہوگا کہ ترکی نے روس کے ایک جیٹ فائٹر کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر چند مہینے پہلے مار گرایا تھا۔ وہ طیارہ چند سیکنڈ کے لیے ہی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، مگر اسے مار گرانے میں ’’غیر معمولی‘‘ مستعدی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اس واقعہ پر ظاہری مذمت اور جوابی مذمت کے باوجود اندرونی طور پر ترک اور روسی حکومتیں، دونوں حیران تھیں کہ آخر ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟ ترکی اور روس کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ دونوں کے درمیان سبزی، پھلوں کی تجارت اور کنسٹرکشن کمپنیوں کے مابین بلین ڈالرز کی تجارت ہے۔ سیاحت ان کے باہمی تعلقات اور تجارت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ شام کے مسئلے پر واحد اختلاف پر تھا، بعد از خرابی بسیار دونوں حکومتیں سر جوڑ کر کسی مصالحت پر پہنچنے کی کوشش میں تھیں کہ اچانک یہ سانحہ رونما ہوا۔ اس پر دونوں حکومتیں چونک اُٹھیں۔ صدر پیوٹن نے اس مرحلے پر کمال حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے جدید اور قابل اعتماد انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے طیارہ مار گرانے کے اس غیرمعمولی واقعے کی تحقیقات کرائیں۔ پتہ چلا کہ ترکی فوج اور مختلف اداروں کے اندر ایک اور کچھڑی پک رہی ہے، اور طیارہ گرا کر آنے والے ’’ممکنہ اقدام‘‘ سے پہلے ترکی کو روس کی متوقع حمایت و مدد سے محروم کرنا مقصود تھا! پیوٹن نے اپنے ایک انتہائی قابل اعتماد سفارت کار کو اس پوری رپورٹ کے ساتھ اردگان کے پاس بھیجا۔ وہ اردگان جس پر آج مغربی میڈیا انتقامی کارروائیوں، جلدبازی اور زیادتی کا الزام لگا رہا ہے، اس نے رپورٹ پر فوری ردّعمل دکھانے کے بجائے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں سے مشورے اور تحقیقات کا راستہ اپنایا۔ معلوم ہوا کہ روسی ایجنسیوں کی بات درست تھی۔ ترکی جزیرے پر چھٹیاں گزارنے کے بعد اردگان حکومت کی جانب سے اس مبینہ سازش پر ہاتھ پڑنے والا تھا، کہ ادھر اس کی گُن سُن اہل ’’باغیوں‘‘ کو لگ گئی تو مناسب سمجھا گیا کہ بغاوت کے لیے مقررہ اگست کے مہینے تک انتظار کرنے کے بجائے پہل کردی جائے تاکہ اردگان کو ایکشن لینے سے پہلے ہی انجام تک پہنچا دیا جائے۔ مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا، چنانچہ بغاوت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اس کا وقت سے پہلے طشت ازبام ہونا ثابت ہوا اور ساتھ ہی منصوبہ بندی میں مقررہ وقت سے پہلے پری میچیورلی ( pre- maturely ) اس پر ایکشن لینا اس کی ناکامی میں ایک بڑا سبب ٹھہرا۔\n\n2- اس بغاوت کی ناکامی کا اس سے بھی بڑا سبب اللہ رب العزت کی طرف سے ترک قوم اور اردگان کی خاص مدد تھی۔ ترک صدر ایک تو اس موقع پر صدارتی محل میں موجود نہیں تھے، اور سیاحتی مقام پر جس ریسٹورنٹ میں تھے اس پر دو بار حملہ کیا گیا، مگر اللہ نے بچا لیا اگر باغی اپنی منصوبہ بندی کے مطابق صدر کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو بغاوت کی ناکامی کا امکان تقریباً ختم ہوجاتا، اور ترکی یقینی طور پر ایک اور طویل دور تک اندھیروں میں ڈوب جاتا۔ یہ اس قوم کے ساتھ اللہ کی خاص مہربانی تھی کہ اردگان بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہوئے اور بروقت اپنی قوم کو باہر نکلنے کا پیغام بھی پہنچایا۔\n\n3- بغاوت کی ناکامی کی تیسری بڑی وجہ ترک قوم کا نہ صرف اس کے خلاف پورے اتفاق رئے سے باہر نکلنا تھا، بلکہ خالی ہاتھ مسلح افواج کی بندوقوں اور ٹینکوں کے سامنے ہمت اور بہادری سے مزاحمت دکھانا تھا۔ اس کی مثال ماضی قریب میں کسی اور قوم اور ملک میں ملنا مشکل ہے ۔\n\n

یہ بھی پڑھیں:   رجب طیب ایردوان کے ساتھی پارٹی کیوں چھوڑنے لگے؟ ڈاکٹر فرقان احمد

بعد از بغاوت ردّعمل :

\n\nبغاوت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے، اور حیرت انگیز طور پر جس میں مغربی میڈیا اور اردگان کے بعض خیر خواہ، دونوں کسی نہ کسی صورت ہم نوا ہیں، وہ اردگان کا ردّعمل ہے جو حکومتی سطح پر دکھایا ہے۔ اس معاملے میں بے شک رائے مختلف ہو سکتی ہے، اور اپنی اپنی سوچ اور فکر کے مطابق مختلف آراء کے درست اور نادرست ہونے کے امکانات موجود ہیں، مگر جو کچھ میں نے ترکی کی زمین پر خود دیکھا، سنا اور سمجھا، وہ کچھ یوں ہے:\n\n1- ترکی قوم اس وقت گولن کو ہر قسم کے ذہنی تحفظات کے بغیر مکمل اتفاق رائے سے اس سازش کے لیے ذمہ دار سمجھتی ہے، اور حکومت سے سخت سے سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ہم باہر بیٹھ کر شاید بجا طور پر محسوس کرتے ہوں کہ اردگان کے اقدامات ضرورت سے زیادہ سخت یا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہیں۔ لیکن اندر کا معاملہ یہ ہے کہ حکومت اور اردگان دونوں ترک قوم کی طرف سے سخت ترین اقدامات کے لیے بہت سخت دبائو میں ہیں۔ ترک قوم اور ترکی کی مختلف حکومتوں نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے بہت ہوم ورک کیا تھا، اور اب برطانیہ کے نکلنے کے بعد تو ترکی کی شمولیت کا معاملہ گویا دو چار ہاتھ لب بام والا تھا، مگر اب قوم کی طرف سے سزائے موت کی بحالی کا مطالبہ ایک طرف قوم کی طرف سے شعوری طور پر یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش کو خدا حافظ کہنا ہے تو دوسری طرف خود یورپی یونین کے منہ پر یہ طمانچہ ہے کہ اگر تمہیں اسلامی نظریے کو پسند کرنے والے ایک جمہوری ترکی کے بجائے ایک فوجی ڈیکٹیٹر کے ذریعے کسی نام نہاد سیکولر حکومت کی شمولیت چاہیے، تو جائو، اپنی راہ لو، ہم نہیں کھیلتے !\n\n2- ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ فوجی تو بغاوت میں براہ راست ملوث تھے مگر ججوں اور اساتذہ کا کیا قصور؟ مگر کیا کیجیے کہ ترک قوم کے اس سوال کا جواب ابھی تک کوئی نہ دے سکا کہ اگر ایک قاتل آپ کو گولی مار کر قتل کرتا ہے، اور دوسرا سلو پوائزننگ سے آپ کی جان لینے کی کوشش کرتا ہے، تو دونوں میں فرق کیا ہے؟ آپ دونوں کی سزا میں کیا، کیوں اور کیسے فرق کریں گے؟ فوج نے بندوق اُٹھا کر براہ راست جمہوری حکومت کے غیرقانونی خاتمے کی ناکام کوشش کی، گولن کے حامی پولیس افسران نے قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ممبران پارلیمنٹ کو راتوں رات گھروں سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر پہنچایا اور ایک مصنوعی ہنگامی صورت حال پیدا کرکے حکومت کو زچ اور ناکام کرنے کی کوشش کی، جس کا ثبوتوں کے ساتھ پتہ چلا کہ معاملہ بدعنوانی کو ختم کرنے کا نہ تھا، ورنہ اس کے لیے نظام میں پہلے ہی طریق کار موجود تھا جسے اختیار نہ کرکے یہ ثابت کیا گیا کہ بد عنوانی کا خاتمہ نہیں، حکومت کا خاتمہ مطلوب تھا۔ گولن کے حامی ججوں نے اس خاص موقع (2013ء) پر انصاف کے تقاضے کچھ اس انداز میں پورے کیے کہ پارلیمنٹ کے ممبران کو اندر کروا کر منصوبہ سازوں کو یہ سہولت فراہم کردی کہ وہ باقی ماندہ ارکان میں اردگان کے لیے سادہ اکثریت ختم کرکے اور پہلے مرحلے میں عدم اعتماد کے ذریعے ایک ڈمی وزیر اعظم ملک پر مسلط کرکے اپنے آگے کے ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچانے کا راستہ ہموارکریں۔ اردگان ایک سرجری کے لیے پرائیویٹ ہسپتال جارہا تھا کہ آپریشن سے عین پہلے اس کے قابل اعتماد سیکورٹی انچارج نے اسے مطلع کیا۔ اسے آپریشن ملتوی کرا کر واپس پارلیمنٹ پہنچنا پڑا، اور گولن تحریک کی یہ کوشش بار آور ثابت نہ ہوسکی۔ ان فوجیوں، پولیس والوں اور ججوں کو ’’فیڈ بیک‘‘ انھی سکولوں سے مل رہا ہے، لہذا اردگان نہیں، ترک قوم اس موقف میں حق بجانب ہے کہ اس ناسور کو جڑ سے اگر کاٹنا ہے تو ان سکولوں پر ہاتھ ڈالے بغیر یہ ممکن نہیں۔ رہی یہ بات کہ ان سارے اداروں میں دوسرے ملازمین، جو بےگناہ ہیں، اُن کا کیا بنے گا؟ تو معاملہ یہ ہے کہ ان اداروں کو نئے انتظامیہ کے تحت چلانے کا پروگرام ہے، جس میں ان سب کو ایڈ جسٹ کیا جائے گا۔ حتی کہ پولیس اور فوج میں بھی جو بےخبری کی بنیاد پر سینئرز کے حکم پر بیرکوں سے باہر آئے تھے، اُنھیں بحال کرنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے.\n\n

یہ بھی پڑھیں:   وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے -

اردگان کا مستقبل :

\n\nحالیہ ناکام بغاوت کے نتیجے میں ایک بات طے ہے کہ ایک طرف اردگان کے عقیدت مندوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف بیرون ملک دشمن اپنی دشمنی اور انتقامی جذبے میں مزید پختہ ہوگئے ہیں۔ ان دشمنوں کی طرف سے ممکنہ ردّعمل کچھ ان امکانات کے ساتھ ہے:\n\n1- اردگان کا قتل۔ اس کا امکان ضرور ہے مگر اس کے دشمن جانتے ہیں کہ اس کی جان لے لینے میں اُن کو فائدے کے بجائے اُلٹا نقصان ہوگا۔ وہ پہلے ہی کسی وزیر اعظم، صدر یا سیاسی رہنما کے مقام سے بہت آگے جا کر ایک ’’معمار قوم‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کا قتل آئندہ صدیوں تک اسے امر کردے گا۔ اور اس طرح ترکی سے’’سیکولرزم‘‘ کا جنازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ’’ہوشیار‘‘ دشمن یہ راستہ کبھی اختیار نہ کرے گا۔ ہاں! ہوشیار دشمن کے ہاں بھی اب ڈونلڈ ٹرمپ اور بورس جانسن جیسے موجود ہوئے ہیں لہذا امکان کی حد تک اس سے انکار نہیں، بےشک بہت کم ہی ہو۔\n\n2- یقینی راستہ جو اس کے دشمن اختیار کریں گے، اور اس پر کام جاری بھی ہے، وہ یہ ہے کہ ترکی میں دہشت گردی کا طوفان بر پا کرکے امن و امان کے مسائل اور ساتھ ہی بےروزگاری و اقتصادی مسائل میں اضافہ کروا کر اردگان کی مقبولیت کو کم کردیا جائے۔ چنانچہ ترکی سرحد سے متصل علاقہ اب دولت اسلامیہ سے ’’آزاد‘‘ کروا کر کردوں کے تسلط میں دیا جا چکا ہے. اب وہاں پر ان کی مستقل’’آئینی حکمرانی‘‘ کے لیے دوڑ دھوپ ہو رہی ہے۔ یہ ترکی کے لیے ایک’’افغانستان‘‘ کو وجود میں لانے کا منصوبہ ہے. وہ افغانستان جو بدقسمت پاکستان کی تقدیر میں پہلے ہی موجود تھا، مگر خوش قسمت ترکی ابھی تک اس انوکھے لاڈلے ہمسائے کے ’’فیوض وَ برکات‘‘ سے محروم ہے ۔\n\n3- آئندہ الیکشن میں ایک طرف سارے سیکولرز کو ترکی کے’’عظیم تر مفاد‘‘ میں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا. اور یہی نہیں بلکہ کہ خود حکمران پارٹی میں دولت، لالچ اور دبائو کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے ایک دھڑ ے کو اقتدار کا لالچ دے کر انھی سیکولرز کی حمایت کا یقین دلا یا جائے گا۔ اس کام کے لیے انکل سام بڑی بےشرمی سے کروڑوں ڈالرز کے بجٹ کے ذریعے اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا، جس طرح اس نے ایران کو غیرمستحکم کرنے کے لیے تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ بجٹ منظور کروایا تھا۔\n\nیہ سب ہم انسانوں کے عقل و فہم اور حالات کے جائزوں پر ہمارے محدود علم کی رسائی ہے۔ اللہ کی حکمتیں اور رحمتیں بے پایاں ہیں، نہ معلوم کس وقت کسی فرد یا قوم کے لیے کسی آزمائش کا فیصلہ فرماتا ہے یا بہتری کا کوئی راستہ کھولتا ہے۔ ہم بے بس ہیں اور صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔ آئیے دعا کیجیے کہ آج کے سیلابِ کفر کے سامنے اللہ تعالی اُمّت مسلمہ کی اس آخری چٹان کو قائم اور مستحکم رکھے ورنہ خدانخواستہ اس کے بہہ جانے کی صورت میں اس تباہی کا تصور بھی نہیُں کیا جاسکتا جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کا یقینی مقدر بنے گی۔