لبرل ازم اور میڈیا کا کردار - شانی انصاری

شانی انصاری لبرلزم کا آغاز سولھویں صدی میں ہوا. یہ فرد کو مذہب سے آزاد کرنے کی خواہش پر بنی تحریک تھی. عیسائیت اول مذہب تھا جس پر لبرلزم نے وار کیا. انیسویں صدی کی ابتدا تک فرد میں لبرل ہونے کی سوچ راسخ کر کے سیکولرزم کی بنیاد ڈالی گئی. یہ ریاست کو مذہب سے آزاد کرنے کی خواہش تھی. یورپ میں اسے کامیاب حاصل ہوئی اور وہاں چرچ کو ریاستی معاملات سے الگ کر دیا گیا. سولھویں صدی سے قبل چرچ کو پارلیمنٹ کی سی حیثیت شامل تھی اور پوپ کا فیصلہ بادشاہ کا فیصلہ تصور ہوتا تھا اور اس کے اشارے پر سب کام ہوتے تھے.\n\nاسلام عقائد، عبادات اور ریاستی قوانین کا مجموعہ ہے. یہ محض عبادت کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشی، معاشرتی و ریاستی احکامات بھی موجود ہیں. اسلام کا مقصد صرف عقائد کی درستی نہیں تھا بلکہ لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کےلیے ریاست کا قیام بھی اس کا مقصد تھا، پہلی اسلامی ریاست مدینہ اس کا بین ثبوت ہے. بعض نوجوان اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح صرف عقائد اور عبادات پر فوکس کرتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے. اس غلط فہمی کو پھیلانے میں میڈیا پیش پیش رہا ہے. میڈیا نے ایک طرف نظامِ خلافت کو اس انداز میں پیش کیا کہ نوجوان نسل اسے غیرانسانی سمجھنا شروع ہوگئی. لبرل دانشوروں کی تحریروں میں نام نہاد خلافت اور نام نہاد نظام مصطفیٰ جیسے الفاظ کا استعمال بڑی حقارت سے ہوتا ہے، اور دوسری طرف علماء سے بدظن کیا گیا. کچھ جوشیلے مولویوں کا رویہ بھی نوجوانوں کےلیے وجہ نفرت بنا ہے. میڈیا میں‌ معتدل اور حقیقی علمائےدین کے کردار کو کبھی سامنے نہیں لایا جاتا بلکہ جوشیلے و بےشناس مولویوں کو سامنے لایا جاتا ہے تاکہ دین دار طبقے کے بارے میں غلط رائے قائم ہو.\n\nماہ رمضان میں جس طرح رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر ہلا گلا کا ماحول رہا، اسے دیکھ کر کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یہ کوئی سنجیدہ و فہیم آدمی بھی ہیں. بہرحال ایسے لوگوں سے مذہب کی نمائندگی میڈیا پر کروائی جاتی ہے جنھیں دیکھ کر مذہب کا تقدس ختم ہو جائے. ان کے مقابلے ایسے لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے جو اسلام کو سیکولرزم اور لبرلزم کا نمونہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور انداز گفتگو ایسا ہوتا ہے جو نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے. اس سب کا مقصد یہی ہے کہ اسلام کو بھی عیسائیت کی طرح بےاثر کرکے زندگیوں سے بےدخل کر دیا جائے. لبرل ازم کے داعی سیکولر اور 'اسلامسٹ' اپنے اس مشن سے مخلص بھی ہیں اور متحد بھی مگر بدقسمتی سے ہمارے علماء اور مذہبی قیادت اس کا ادراک کر رہے ہیں نہ باہمی طور پر متحد ہو رہے ہیں. مذہبی ذہن رکھنے والےبھی ابھی نظم و ضبط نہیں سیکھ پائے بلکہ گروہی اختلافات میں مبتلا ہیں. مذہبی جماعتیں بھی متحد نہیں ہیں. جماعت اسلامی کو اپنی فکر ہے تو جمیعت علمائے اسلام کو اپنی. جماعت الدعوہ کو اپنا فائدہ درکار ہے تو جمیعت اہلحدیث اپنا رونا لے کر بیٹھی ہے. ایسے میں اسلامی ریاست کا قیام کیسے ممکن ہے؟