نظامِ زندگی اور اس کے تقاضے - ریاض علی خٹک

ریاض خٹک سانس لیتے وقت ہم فضا سے آکسیجن لیتے ہیں کہ یہ ہماری زندگی کی گاڑی کا ایندھن ہے، اور استعمال شدہ کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صورت خارج کرتے ہیں. ہمارے لیے فالتو کاربن ڈائی آکسائیڈ کسی کی زندگی کے لیے ضروری ہے. یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پودوں کی زندگی کی گاڑی کا پہیہ رواں دواں رکھتی ہے. یہی پودے بدلے میں آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں. یہ نباتات (پودے اور درخت)، چرند پرند اور انسانی زندگی کی ضمانت ہیں، یہ ان کی خوراک، ان کی آسائش اور اس دُنیا کا حُسن ہیں. اور قدرت کے اس عظیم لین دین کا مظہر بھی ہیں. پھولوں پر منڈلاتی شہد کی مکھیاں، بھنورے اور تتلیاں بھی جب ان سے رس کشید کرتی ہیں تو بدلے میں ان کی پولی نیشن کا باعث بھی بنتی ہیں. ان پودوں کے بیج پھیلا کر ان کی افزائش نسل میں مددگار ہوتی ہیں.\n\nسورج سے ہم روشنی، حرارت اور توانائی پاتے ہیں، یہی سورج اپنی حرارتی توانائی سے سمندروں میں بخارات پیدا کرتا ہے جو بادل بنتے ہیں، اور سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا کر دیتے ہیں. پھر یہی بادل پیاسی دھرتی پر برس کر نظامِ زندگی میں اپنا حصہ ملاتے ہیں. پانی کا کچھ حصہ تقطیر کے عمل سے گزر زیرزمین جمع ہوجاتا ہے اور انسانی استعمال میں آتا رہتا اور کچھ ندی نالوں دریاؤں میں سفر کرتا واپس سمندر میں مل کر اس نظام کا حصہ بن جاتا ہے.\n\nابنِ آدم جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کہلواتا ہے، وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے. اس کے لیے یہ نعمتیں تخلیق کی گئی ہیں. اور امتحان کی غرض سے اسے اس نظام (امتحان گاہ) میں بھیجا گیا ہے. تو کیا وہ اس لین دین سے مبرا ہے..؟ انسان امتحان میں ہے، امتحان ہوتا کیا ہے..؟ درست جواب و درست عمل..\n\nسورج اور زمین اپنے محور پر اور چاند اپنے مدار میں گامزن ہیں. اس زمین پر موجود ہر چیز اپنی ترتیب پر ہے، اس ترتیب سے ہٹنا اس کی ذات کا مقصد فوت کر دیتی ہے. گندم کا بیج بویا جائے تو گندم ہی حاصل ہوگی. آم مٹھاس کا مظہر، اگر کڑوا نکل آیا، تو وہ کچھ بھی ہو، آم کے طور پراستعمال نہ ہوگا.\n\nایسے ہی انسان ایک مقصد سے دُنیا میں بھیجا گیا، بندگی اور اس رب کی بندگی کی طرف بلانا اس کا ٹھہرا. اس دُنیا میں ہر چیز بالواسطہ یا بلاواسطہ انسان کے لیے ہی ہے، اُن میں سے کسی کی بھی کمی انسان کی کسی ضرورت کو براہ راست یا بالواسطہ متاثر کرے گی. گھاس گھوڑے کے لیے ہے مگر گھوڑا گھاس کے لیے نہیں. اسی طرح دُنیا انسان واسطے سجائی گئی، انسان دُنیا واسطے نہیں. یہی مقصد زندگی ہے، اس مقصد کی سمجھ روح کی آکسیجن ہے.\n\nجیسے ایک اچھا ایکو سسٹم تب ہی بنتا ہے جب اس سسٹم میں موجود ہر چیز مکمل رزلٹ دے. ایسے ہی اچھا معاشرہ تب ہی تکمیل پاتا ہے جب ہر فرد نہ صرف اپنا مقصد حیات سمجھے بلکہ اپنے آس پاس اس مقصد حیات کا ابلاغ کرے. جس معاشرے میں رزق بٹنا عام ہوجائے وہاں کوئی بھوکا نہیں ہوتا، جس معاشرے میں محبت بانٹی جائے وہاں فساد نہیں ہوتا، جہاں علم بانٹا جائے وہاں جہالت نہیں ہوتی. یہی انسان کا لین دین ہے اور اس لینے دینے میں دہرا فائدہ ہے. ایک آج کا کہ علم دو گے علم ملے گا، محبت دو گے محبت ملے گی. اور ایک کل کا، جو اصل ہے اور جس پر اللہ کا کلام کہتا ہے:\nاور یہ دُنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے، اور (ابدی) زندگی ( کامقام) تو آخرت کا گھر ہے، کاش یہ (لوگ) سمجھتے. سورۃ العنکبوت 46