مملکت خداداد اور ہماری ذمہ داریاں - ذیشان علی

ذیشان اگست کے تاریخی مہینے کا آغاز ہو چکا ہے، چودہ اگست کی آمد آمد ہے، پاکستان کے لیے یہ مہینہ اور دن خاص اہمیت کا حامل ہے کہ آج سے تقریباً 70 برس قبل اسی مہینے کی 14 تاریخ کو وطن عزیز دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا اور مسلمانان برصغیر اس قابل ہوسکے کہ ایک آزاد ملک کی فضائوں میں سا نس لے سکیں۔ حسب روایت اس بار بھی آزادی کی خوشی میں تمام سرکاری اداروں، گھروں، گلیوں، محلوں اور چوراہوں میں سبز ہلالی پرچم لہرائے جائیں گے اور جگہ جگہ جھنڈیاں آویزاں کی جائیں گی کیونکہ ہم ایک آزاد اور زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی قربانیوں اور کارناموں پر فخر کرتی اور انہیں یاد رکھتی ہیں اور یہ قابل قدر واقعات آئندہ نسلو ں کے لیے رہنمائی اور حوادث و مسائل کی اندھیری گھاٹیوں میں ماہ کامل کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن کیا ہم واقعی زندہ قوم اور آزاد ملت ہیں؟ اس سوال کے ساتھ ہی بہت سے منتشر خیالات دماغ میں کھلبلی مچا دیتے ہیں اور میں ہمیشہ کی طرح ان کے سامنے بےبس ہو جاتا ہوں۔\n\nپاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، ہزاروں خاندانوں اور لا کھوں انسانوں نے اس کی بنیادوں کو اپنے لہو سے سینچا، اپنے معصوم بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کی اس پر نچھاور کیا اور اپنی ساری عمر کی جمع پونجی پس پشت ڈال کر ایک ایسی مملکت کی آس میں نکل کھڑ ے ہوئے جہاں اللہ اور اس کے رسول کے احکام قوانین مملکت ہوں‌، جہاں ایک اسلامی اور اصلاحی معاشرہ قائم ہو، جہاں محبت، اخوت اور ہمدردی کی ٹھنڈی ہوائیں چلیں مگر افسوس کہ جس تیزی سے یہ احساس اور جذبات پروان چڑ ھے تھے، کچھ عرصے میں اسی تیزی سے جھاگ کی طرح بیٹھتے چلے گئے. اجتماعی مفاد کی جگہ خودغر ضی نے لے لی، غیرت اور حمیت کے مقابل بےحسی آکھڑ ی ہوئی، کام چوری اور کاہلی کو وتیرہ بنا لیا گیا، تاجروں نے دھو کہ با زی اور فراڈ کو شعار بنا لیا، بازار اور مارکیٹیں سود اور لوٹ مار کے مراکز بن گئیں، نتیجتاً سیاسی، معاشی اور سماجی میدان میں پستی میں لڑھکتے چلے گئے. تحریک آزادی کے سرکردہ رہنمائوں نے ملک میں اسلامی معاشرے کے قیا م کے لیے بھرپور جدوجہد کی لیکن بدقسمتی سے ابتدائی سالوں میں ہی مخلص قائدین کے داغ مفارقت دے جا نے اور بعد میں آنے والے حکمرانوں کی نااہلی اور بےتوجہی نے اس خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔\n\nآج جتنی تحریک پاکستان اور اس کے مقاصد کو جاننے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھی. قوموں کی تاریخ ان کی ترقی میں ممد و معاون ہو تی ہے اور وقت کا صحیح استعمال سکھاتی ہے بقول ڈاکٹر صفدر محمود " تا ریخ قوم کا حافظہ ہوتی ہے، جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے گویا اپنے حافظے سے محروم ہوجاتی ہے "۔ آج ہمیں بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر نے، آپسی لڑائی جھگڑ ے اور رنجشوں کو دفن کرکے اور فرقہ واریت سے منہ موڑ کر اس عزم کا اظہار کر نے کی ضرورت ہے کہ وطن عزیز کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے تاکہ روز قیامت ان شہداء کی روحوں کے آگے سرخرو ہو سکیں جو آج بزبان حال چیخ چیخ کر اپنے لہو کا حساب ما نگ رہی ہیں اور جنہوں نے اپنا تن من دھن سب ایک مقدس سو چ اور فکر کی آبیاری کے لیے پیش کر دیا تھا. ہر شخص اپنی ذات سے محاسبے اور اصلاح کا آغا ز کرے گا تو اجتماعی اور حقیقی تبدیلی کا آفتاب اپنی پوری آب وتاب سے چمکے گا اور اس مملکت خداداد سے تمام تر ظلمتوں اور اندھیروں کا خاتمہ کر دے گا۔