طلاق سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج طلاق طلاق طلاق\nیہ لفظ کس آسانی، روانی اور بےدھیانی سے آج ہمارے ڈراموں اور فلموں میں استعمال کر دیا جاتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس منظر کے ہمارے معاشرے پر، ہماری نوجوان نسل پر اور پھر ان کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ شاید ہم زیادہ غور نہیں کرتے کہ لفظوں کے معنی ہی نہیں، ان کی نفسیات اور اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ایک دن مومنوں کی ایک ماں یعنی رسول کریم ﷺ کی ایک بیوی نے دوسری بیوی کے بارے میں کچھ ایسے الفاظ کہہ دیے کہ جو ان کی ظاہری شان میں تنقیص پر دلالت کرتے تھے۔ تب نبی کائنات ﷺ نے انھیں فرمایا کہ تمھارے یہ لفظ اتنے کڑوے ہیں کہ اگر یہ ساگر وسمندر میں ملا دیے جائیں تو ان کے زہر کی تاب نہ لاتے ہوئے سمندر بھی زہریلا اور کڑوا ہوجائے ۔ اسی سے اندازہ کر لیجیے کہ کچھ لفظ کتنے کڑوے اور کتنے زہریلے ہوتے ہیں۔ مگر شاید ہی کبھی ہم نے اپنی نسل ِنو کوبتایا ہو کہ یہ چھوٹا سا لفظ طلاق جو بڑی آسانی سے لبوں سے لفظوں کی صورت ادا ہو جاتا ہے، یہ کس قدر تباہ کن اور کس قدر دور تک اپنی تباہی کے جراثیم لےجانے اور پھیلانے کی ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے۔ آپ ذرا قیامت کوتصور میں لائیے۔ قیامت کیا ہے؟ اس کائنات کا زیر و زبر ہوکے تباہ و برباد ہوجانا۔ طلاق بھی تو یہی ہے۔ جو ایک خاندان کی دنیا اور کائنات کی ساری محبت اور ساری تعمیر اور سارے مستقبل کو برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔ طلاق کے لفظ دراصل وہ کالا جادو اور بھیانک طلسم ہیں کہ جو محبت کے مضبوط ترین قلعے کو ایک لمحے میں بھسم کرکے مسمار کر دیتے ہیں۔ یوں کہ پھر جب آنکھ کھلتی ہے تو انسان کے پاس تاج محل جیسے زندگی آمیز لمحوں اور جنت جیسے لحظوں کی بس ایک کسک، اک یاد اور اک فریاد ہی باقی رہ جاتی ہے۔ وہ دو دل کہ جو اس کائنات میں سب سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب، سب سے زیادہ ایک دوسرے کا دکھ درد سمجھنے والے، ایک دوسرے کے سب سے زیادہ مزاج شناس اورایک دوسرے کے لیے سب سے زیادہ رفیق اور رقیق ہوتے ہیں۔ انھی کالے طلاق کے لفظوں سے وہی پیارے دل ناقابلِ بیاں نفرت سے بھر کر ناقابلِ عبور فاصلوں کی پستی میں جا گرتے ہیں۔\n\nکیا طلاق صرف دو دلوں، دو زندگیوں اور جسموں کو کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ریزہ ریزہ کر دیتی ہے؟ یعنی یوں کہ چوٹ لگ جائے تو کیا ہوتا ہے؟ ذرا آئینے کو پتھر پہ گرا کے دیکھیے، اگر ہم ایسا سوچتے ہیں تو ہم کس قدر بھولپن کا شکار ہیں۔ میرے ایک دوست اپنی بعض ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں ایک عرصہ فیملی کورٹ میں آتے جاتے رہے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میاں بیوی کی لڑائی میں کبھی تو یوں ہوتا کہ جب بچے ایک طرف ممتا کی ماری اپنی پیاری ماں اور دوسری طرف مشفق و مہربان باپ کو دو الگ الگ کٹہروں میں دشمنوں کی طرح کھڑے دیکھتے اور پھر کسی ایک کو بچے کے دوسرے پیار سے دور لے جاتا دیکھتے تو یوں بلک بلک کے روتے کہ پتھروں کے بھی دل پسیج جاتے اور یہاں تک کہ جج کی بھی آنکھیں بھیگ جاتیں اور وہ اپنا منصب بھلا کے ماں اور باپ کے آگے ہاتھ جوڑ دیتااور کہتا کہ خدا کے لیے اپنی انا کو چھوڑ دو۔ کم از کم ان بچوں پر تو ترس کھائو۔ ان معصوموں کے پھول سے دلوں کے تو بےرحم قصائیوں کی صورت ٹکڑے ٹکڑے نہ کرو۔ ایسے میں کبھی توکچھ جوڑے مان کے اپنی جنت بچا لیتے مگر کچھ شیطان کی سازش میں آئے دل اپنی سختی میں پتھروں کو بھی شرما دیتے۔\n\nیاد رکھنا چاہیے کہ یہ اسلام کی وسعت اور فراخ دلی ہے کہ اس نے کسی انتہائی صورت میں طلاق کو جائز اور روا رکھا ہے۔ وگرنہ اسے اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ترین جائز کاموں میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض مرد بات بات پر عورت کوطلاق دینے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ دراصل انھیں مردانگی کے درجے سے گرا دیتا ہے۔ اللہ نے طلاق دینے کا حق مردکو اس لیے دیا ہے کہ وہ نسبتا زیادہ برداشت والا اور دوراندیش ہوتا ہے۔ جبکہ طلاق کو ڈراؤنا ہتھیار بنا کے وہ خود کو کسی کم عقل عورت سے بھی بےقیمت، بےوقوف اور بےعقل ثابت کر دیتا ہے۔ بعض عورتیں بھی روزمرہ معمولی معاملات سے گھبرا کر طلاق کے مطالبات کرنے لگتی ہیں۔ ہماری مسلمان خواتین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بلاوجہ طلاق طلب کرنے والی عورت کو اسلام، اللہ تعالیٰ اور نبی رحمت ﷺ نے قطعا پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ ارشادِ نبوی ﷺ یہ ہے کہ بلاوجہ طلاق طلب کرنے والی عورت جنت کی خوشبو سے بھی محروم رکھی جائے گی۔ طلاق جتنی تباہ کن اور اللہ کو ناپسند ہے، اللہ کے دشمن شیطان کو یہ اتنی ہی زیادہ پسند ہے۔ حدیث شریف میں اس سلسلے میں ایک بڑی عبرت ناک اور چشم کشا حقیقت ہمارے لیے بیان کی گئی ہے۔ پیارے پیغمبر ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ شیطان پانی پر اپنا شیطانی تخت بچھاتا اور پھر اپنے ایجنٹوں سے ان کی شیطانی کارگزاریوں کی رپورٹ لیتا جاتا ہے۔ آپ اندازہ فرمائیے کہ دنیا میں کیا کیا جرائم اور گناہ نہیں ہوتے؟ کیسے کیسے گناہ اور انسان کو جانوروں سے بدتر ثابت کردیتے کام نہیں ہوتے۔ یقینا ان سبھی کاموں کے پیچھے انسانوں یا جنوں میں سے سرگرم رہنے والے شیطانی ایجنٹ بڑے جوش خروش سے اپنے اپنے سیاہ کارناموں کا تذکرہ کرتے جاتے ہیں، مگر ان سب پر شیطان ایک واجبی سی ہوں ہاں کرتا جاتا ہے اور کچھ خاص خوش نہیں ہوتا۔ لیکن جونہی ایک ایجنٹ یہ کہتا ہے کہ آج میں نے ایک میاں بیوی کے درمیاں طلاق کا رخنہ ڈال کے جدائی کروا دی ہے تو شیطان مارے خوشی کے اٹھ کے اسے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے یہ ہوا نہ کرنے کا کام۔\n\nمیڈیا کا اثر اپنی جگہ، لیکن ہمارے ہاں طلاق اور ازدواجی زندگی کے جہنم بننے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس سلسلے کی ضروری دینی اور دنیاوی تعلیم ہم بچوں کو ہرگز نہیں دیتے۔ بچے بھی میڈیا میں دکھائے گئے شادی شدہ زندگی کے وہ پہلو دیکھتے رہتے ہیں کہ جن کا یا توحقیقی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا یا پھر وہ پورا سچ نہیں ہوتا۔ یوں بلاتربیت نئی زندگی شروع کرنے والے بچے اور بچیاں عملی زندگی کو فوم کے اس گدے کی ٹی وی پر چلنے والی ایڈ ”زندگی اب تو گزر جائے گی آرام کےساتھ“ سے مختلف پاتے ہیں اور خیالی دنیا میں پالی اپنی آئیڈیل ازم کی کہیں بڑی توقعات کو پورا ہوتا نہیں دیکھتے تو پھر اس سے جان چھڑانے اور اپنی زندگیوں میں تباہیوں کے دروازے کھولنے پر تل جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں خواتین کے دو ادارے النور انٹرنیشنل اور الہدی بچیوں کی اچھی تربیت کر رہے ہیں۔ دیگر دینی جماعتیں اور دینی ادارے بھی یقینا یہ کام کر رہے ہیں، لیکن یہ سلسلہ زیادہ ہونا چاہیے اور پھر اس سلسلے میں لڑکیوں ہی کی نہیں لڑکوں کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔ تاکہ ہمارے اپنے گھر اور پھر ہمارے بچے بچیوں کے گھر شاد اور آباد رہیں۔ اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم اس سلسلے کا دینی لٹریچر ضرور ہمیں اپنی اولادوں کو پڑھا دینا چاہیے۔ گاہے گاہے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور تجربات بھی ان سے شئیر کرتے رہنا چاہیے۔ یہ غلط رویہ ہے کہ ہمارے ہوتے ہمارے پیاروں کو زندگی کی تلخی کا کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے۔ آپ انھیں تلخ چکھائیں نہیں مگر جاہل بھی نہ رہنے دیں۔ امید ہے اس سے کئی گھر اجڑنے سے اور کئی دل مرجھانے سے بچ جائیں گے۔ ان شااللہ ۔ آئیے دعا کیجیے کہ کسی کے دل کے نور اور آنکھوں کے سرور کو یہ داغ نہ دیکھنا پڑے.

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.