ایک امریکی لڑکی کی کہانی - معظم معین

معظم معین ا مغرب کو ہمارے معاشرے کے دانشور بہت متمدن اور مہذب بنا کر پیش کرتے ہیں اور مغربی میڈیا بھی اپنے کو تاریخ کا مہذب ترین معاشرہ گردانتا ہے مگر گاہے بگاہے ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جو اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ امریکہ کی تیرہ سالہ الیسا کوساکاویز Alicia Kozakiewicz کے ساتھ پیش آیا۔ اس میں والدین کے لیے بھی سبق ہے اور اس کی کہانی انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والی دوستیوں کا حال بھی بتاتی ہے۔\n\nتیرہ سالہ الیسا امریکی ریاست پنسلوانیا میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کی دوستی انٹرنیٹ کے ذریعے ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ ہوگئی۔ بدقسمت الیسا کو معلوم نہ تھا کہ ٹیری نام کا وہ آدمی کوئی نوجوان نہیں بلکہ ایک اڑتیس سالہ شخص ہے جسے وہ نادانی میں اپنا ہم عمر سمجھ رہی تھی۔ الیسا کے گھر میں کمپیوٹر ایک ایسی جگہ پر رکھا ہوا تھا جہاں سے اہل خانہ اس کی نگرانی کر سکتے تھے مگر عیار ٹیری ہمیشہ رات کو اس وقت الیسا سے بات کرتا جب سب گھر والے سو رہے ہوتے۔ ایک سال کے دوران ان کی دوستی پروان چڑھتی رہی اور آخر کار ٹیری اسے اپنے دام میں پھنسانے میں کامیاب ہو گیا۔ نئے سال کی وہ پہلی رات تھی جب الیسا نے ٹیری کے ساتھ ملنے کا پروگرام بنایا۔ اس نے اس رات کھانے کی میز سے جلد اٹھنے کے لیے پیٹ درد کا بہانہ بنایا۔ رات سات بجے وہ چپکے سے گھر سے نکلی۔ وہ ایک یخ بستہ رات تھی۔ نکلتے وقت اس نے اپنا کوٹ بھی نہ پہنا تھا کیونکہ اس کا رات زیادہ دیر گھر سے باہر رہنے کا ارادہ نہ تھا۔ اپنی گلی سے باہر نکلتے ہوئے اس کے دل میں کھٹکا سا ہوا کہ وہ کچھ غلط کر رہی ہے۔ اس کا دل اس سے کہہ رہا تھا کہ وہ واپس گھر چلی جائے مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ اچانک ایک طرف سے اسے اپنا نام پکارنے کی آواز آئی۔ جب اس نے اس سمت دیکھا تو وہاں کسی نوجوان کا نام و نشان نہ تھا بلکہ وہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اس سے پہلے کہ اسے کچھ سمجھ آتی اسے گاڑی میں دبوچ لیا گیا اور گاڑی فراٹے بھرنے لگی۔ وہ اغوا ہو چکی تھی۔\n\nاوباش ٹیری اسے اغوا کر کے پنسلوانیا سے پانچ سو کلومیٹر دور ریاست ورجینیا کے ایک نواحی قصبےمیں اپنے اڈے پر لے گیا اور اسے تہہ خانے میں قید کر دیا۔ پھراس نے اسے بےلباس کر کے اس کے گلے میں کتوں کو ڈالنے والا پٹہ ڈالا اور زنجیروں میں جکڑ دیا۔ چار دن تک وہ معصوم الیسا کے ساتھ زیادتی کرتا رہا اور اس پر تشدد کرتا رہا۔ اس نے اس پر بھی بس نہ کی بلکہ اس درندگی کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر چلادی۔ وہ کمزور الیسا کی بےبسی اور مظلومیت کا مذاق اڑاتا رہا۔ وہ چار دن اس پر کسی قیامت سے کم نہ تھے۔ وہ زندوں میں تھی نہ مردوں میں۔ چوتھے دن ٹیری نے معنی خیز انداز میں الیسا سے کہا کہ تم مجھے اچھی لگنے لگی ہو، شام کو ہم سیر کو چلیں گے۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ الیسا سمجھ گئی کہ آج وہ اسے موت کے گھاٹ اتار دے گا مگر اسے ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید اسے ڈھونڈنے والے اس تک پہنچ جائیں اور وہ موت کے منہ سے بچ نکلے۔ بے بس اور نڈھال زنجیروں میں جکڑی تہہ خانے کے فرش پر وہ نیم مردہ حالت میں پڑی تھی جب اس نے شور کی آوازیں سنیں۔ اسے یقین آگیا کہ اس کا آخری وقت آگیا ہے۔ ڈر کے مارے وہ پلنگ کے نیچے جا چھپی۔ کچھ دیر کے بعد مسلح افراد کمرے میں داخل ہوئے جنہوں نے اسے باہر آنے کو کہا۔ پلنگ کے نیچے سے نکل کر اس نے دیکھا تو وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے۔ انھوں نے اسے اس عذاب سے نجات دلائی۔ اس وقت وہ اس قابل نہیں تھی کہ بول سکتی یا بات کر سکتی۔ اسے فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور طبی امداد دی گئی۔\n\nالیسا خوش قسمت تھی کہ فلوریڈا کے ایک رہائشی نے انٹرنیٹ پر جب اس کی ویڈیو دیکھی تو اسے شک گزرا۔ اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دے دی۔ پولیس کے پاس الیسا کے والدین کی طرف سے دی گئی گمشدگی کی اطلاع پہلے سے موجود تھی۔ انھوں نے آئی پی ایڈریس سے ٹیری کا پتا چلا لیا اور یوں وہ الیسا تک پہنچ گئے۔ ٹیری گرفتار ہوا۔ اس پر مقدمہ چلا اور انیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ آج سے چودہ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ وہ آج 'الیسا پراجیکٹ' کے نام سے ایک ادارہ چلا رہی ہے جس کا مشن بچوں کو انٹرنیٹ پر پھیلے ہوئے اوباش کرداروں سے بچانا ہے۔\n\nاس کہانی میں ہم سب کے لیے اہم سبق ہے۔ آج تو کمپیوٹر سے آگے نکل کر دنیا ٹیبلٹ کمپیوٹر اور سمارٹ فون تک پہنچ چکی ہے۔ آج بچوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں صرف لاہور شہر میں نو سو سے زائد بچے اغوا ہو چکے ہیں۔ اس ضمن میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ آج کی احتیاط اور تھوڑی سی سختی کل آپ کو اور آپ کے بچوں کو کسی بڑی مشکل سے بچا سکتی ہے۔ اپنے بچوں کی خود حفاظت کرنے کے لیے چند نکات پر عمل مفید ثابت ہو سکتا ہے۔\n1. جب تک بچہ سمجھداری کی عمر کو نہ پہنچے اسے موبائل نہ لے کر دیں۔ اپنے بچے کی سمجھداری کی عمر کا اندازہ والدین سے بہتر کوئی اور نہیں کرسکتا۔\n2. بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو بھی سمجھداری کی عمر کے ساتھ منسلک رکھیں۔ انھیں اپنی ذاتی چیزیں شئیر کرنے سے روکیں اور ان کی فرینڈ لسٹ پر نظر رکھیں۔\n3. بچوں کے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اور موبائل وغیرہ پر پاسورڈ ضرور لگائیں تاکہ گمشدگی کی صورت میں کوئی اس کے ڈیٹا کا غلط استعمال نہ کر سکے۔\n4. ان تمام ڈیوائسز کے پاسورڈ آپ کو معلوم ہونا چاہییں۔\n5. اپنے بچوں کی دوستیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے تمام دوستوں یا سہیلیوں کے نام اور فون نمبرز اپنے پاس رکھیں۔ ان کے والدین کے ساتھ بھی آپ کا رابطہ ہونا چاہیے۔\n6. رات کو دیر تک کسی صورت بھی انٹرنیٹ کے استعمال کی اجازت نہ دیں۔\n7. بچوں کے موبائل پر جیو ٹیگنگ Geo Tagging کی آپشن کو غیر فعال Disable رکھیں تاکہ کوئی غیر مطلوب فرد ان کی لوکیشن نہ جان سکے۔ عموماً موبائلز کی Settings میں یہ آپشن ہوتی ہے۔\n8. اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بچوں کے ساتھ قریبی تعلق قائم رکھیں تاکہ وہ اپنی ضروریات اور مشکلات آپ سے بیان کرنے میں نہ ہچکچائیں۔ اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو کوئی اور یہ کام کر کے بچوں کے دل میں اپنی جگہ پیدا کر سکتا ہے اور اس طرح اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کر سکتا ہے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.