مصطفی کمال اور آج کا ترکی - منصور اصغر راجہ

مصطفی کمال اتاترک نے نہ صرف ترک مسلمانوں کے قلب و روح سے دین محمدی نکالنے کے لیے انتہائی اقدامات کیے بلکہ ترک معاشرے کو اخلاقی طور پر تباہ کرنے کی بھی بھرپور سعی کی۔ اگر ایک طرف اذان و نماز میں عربی زبان کے استعمال کے علاوہ خواتین کو حجاب سے روکا گیا تو دوسری طرف اس نام نہاد ’’بابائے ترکی‘‘ کے کردار کی کجی اس سطح تک پہنچ گئی کہ اس کے حلقہ خاص میں شامل اس کے قریبی دوست اپنے گھر کی خواتین کو اس کی مجلس میں لانے سے کتراتے تھے۔ موصوف کے سوانح نگار احمدی العزیز اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنی اہلیہ لطیفہ کمال سے علیحدگی کے بعد بےشرمی کی انتہائوں کو چھونے لگے تھے۔ ہمہ وقت شراب میں مدہوش رہتے، قریبی دوستوں کی بہو بیٹیاں اور بیگمات کی عصمت بھی ان کی دست درازیوں سے محفوظ نہ رہی تھی، اور ’’بابائے ترکی‘‘ مرد پرستی کا بھی کافی شوق رکھتے تھے جس کے باعث عمر کے آخری حصے میں کئی جنسی بیماریوں میں مبتلا رہے۔ ان کے قریبی ساتھی اور سیاسی مشیر ڈاکٹر رضائے نور کے بقول ،’’ہمارے عظیم رہنما کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ عورتوں کو پسند کرتے ہیں اور انہیں تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ انہیں ریاست ترکیہ میں ’’عورتوں کا ذائقہ شناس اعلیٰ ‘‘ہونا چاہیے۔‘‘ طاقت کے زور پر اتاترک نے ترک قوم کو وقتی طور پر دبا لیا تھا لیکن اس وقت کے ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ترک معززین ان اقدامات پر دبے لفظوں میں تحفظات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ اتاترک کے ایک یورپی سوانح نگار کے مطابق جب ترک خواتین کو سرعام پبلک میں رقص کرنے کا حکم جاری کیا گیا تو ایک مجلس میں ایک کابینہ ممبر نے اس حکم نامے پر نظرثانی کا مشورہ دیا تو اتاترک نے اسے بےعزت کرکے اپنے دفتر سے باہر نکال دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیور ترک مسلمانوں نے اتاترک کے ان دین دشمن اقدامات کو کبھی بھی دل سے قبول نہیں کیا۔\n\nقیام پاکستان کے بعد جب حکومت پاکستان کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے علامہ محمد اسد نے اسلامی ممالک کا دورہ کیا تو وہ ترکی بھی تشریف لے گئے۔ اس سفر کی تفصیل انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’روڈ ٹو مکہ ‘‘پارٹ ٹو (اس کا اردو ترجمہ جناب اکرام چغتائی نے ’’بندہ صحرائی ‘‘کے نام سے کیا ہے ) میں لکھی ہے۔ علامہ صاحب کے مطابق اس وقت اتاترک کا انتقال ہوئے چند برس ہی ہوئے تھے، اور ملک پر اس کی باقیات کی گرفت بڑی مضبوط تھی، اس کے باوجود نمازوں کے اوقات میں خصوصاً دیہات اور قصبوں کی مساجد نمازیوں سے بھری ہوتی تھیں جو اس بات کا بین ثبوت تھا کہ مصطفی کمال ترکی کے کوہ و دمن سے روح محمد ﷺ نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔\n\nاس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگرچہ طیب اردوان نے میئر استنبول کی حیثیت سے جو خدمات انجام دیں، وہ آنے والے الیکشن میں ان کی جماعت کی کامیابی کا سبب بنیں، لیکن ان کی اسلامی پہچان اور شناخت نے بھی ترک قوم کو ان کی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 15جولائی کی بغاوت کو ناکام بنانے کے پیچھے بھی ترک قوم کی یہی سوچ کارفرما تھی کہ صہیونیت کا حمایت یافتہ لبرل ترکی تنزلی کی آخری حدوں کو چھونے لگا تھا مگر امریکہ و مغرب کی آنکھوں میں خار کی مانند کھٹکنے والا اسلام پسند ترکی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، لہٰذا انہیں لبرل نہیں، اسلام پسند ترکی چاہیے۔ حیرت ہے کہ ہمارے کچھ دانشوروں کو ترکی میں اسلام کا نام سنتے ہی ابکائی آنے لگتی ہے۔یہ دانشوروں کی وہی مخصوص نسل ہے جسے آج کل ترک حکومت بھی لگام چڑھا رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فکری طور پر بانجھ یہ قبیلہ صرف ان خیالات کی جگالی کرتا ہے جو ’’آسمان مغرب ‘‘سے اس پر اترتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو اس بات کی بڑی تکلیف ہے کہ طیب اردوان بغاوت میں حصہ لینے والوں کے خلاف کارروائی کیوں کر رہے ہیں؟ کیا دوہرا معیار ہے کہ ترک حکومت اپنے باغیوں کو سزائیں دے تو اسے ملاحیاں سنائی جاتی ہیں، اور ایران میں بےگناہ مسلمانوں کو بغاوت کے جھوٹے الزام میں پھانسی چڑھا دیا جائے تو کسی دانشور کے منہ سے بھاپ تک نہیں نکلتی۔ ترکی میں ایمرجنسی نافذ ہو تو وہ قابل گردن زدنی ہے اور اسی روز حکومت فرانس اپنے ہاں نافذ ایمرجنسی میں مزید چھ ماہ کی توسیع کر دے تو کسی دانشور کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ فتح اللہ گولن جیسے عناصر مسلم ممالک کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے نام نہاد انقلابی کینیڈا میں رہائش پذیر ہوں یا امریکہ میں، ان کی وفاداریاں اپنے ملک و قوم کے بجائے اپنے مغربی آقایان ولی نعمت کے ساتھ ہوتی ہیں۔ استعماری طاقتوں کے ان گماشتوں سے مسلمانوں کو خبردار رہنا چاہیے اور ان کا سختی سے محاسبہ کیا جانا چاہیے۔ ہم اس سلسلے میں طیب اردوان کے حامی ہیں۔