ہم نئی تاریخ کب بنائیں گے؟-حامد میر

hamid_mir1\n\nدوسال پہلے عادل کرمچی نے فرانس سے شام جانے کی کوشش کی لیکن اسے راستے میں گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتاری کے وقت اس کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ فرنچ پولیس نے اسے ایک ممکنہ دہشت گرد قرار دیکر جیل بھیج دیا لیکن عدالت اس کے خلاف ثبوت مانگتی رہی۔ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کئے جانے کے باعث عدالت نے اسے ہر ہفتے ویک اینڈ خاندان کے ساتھ گزارنے کی اجازت دیدی تاہم پولیس نے اس کے جسم پر الیکٹرانک ڈیوائس لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاسکے۔\n\nفرانس کے علاقے نارمن ڈے سے تعلق رکھنے والے عادل کرمچی نے عدالت سے ملنے والی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ایک ساتھی عبدالمالک سے رابطہ کیا اور پھر دونوں نے نارمن ڈے کے ایک چرچ پر حملے کا فیصلہ کیا۔ 26 جولائی کو یہ دونوں نارمن ڈے کے ایک چرچ میں گھس گئے۔ چرچ میں 86 سالہ پادری فادر جیکوئس حمل اور تین عورتیں موجود تھیں۔ چاقوئوں سے مسلح عادل کرمچی اور عبدالمالک نے بوڑھے پادری کو آسانی سے قابو کر کے ان کا گلا کاٹ دیا۔ اس دوران ایک عورت بھاگنے میں کامیاب ہوگئی اور اس نے سیکورٹی الارم بجا دیا جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے فرار کی کوشش کرنے والے دونوں حملہ آوروں کو گولی مار دی۔ دونوں کی عمریں انیس سال تھیں۔ دونوں فرانس میں پیدا ہوئے تھے۔ دونوں کا تعلق بربر عرب گھرانوں سے تھا۔ دونوں کے بزرگ شمالی افریقہ سے ہجرت کر کے فرانس میں آئے تھے۔\n\nنارمن ڈے میں آباد مسلمانوں نے فادر جیکوئس حمل کے قتل پر بطور احتجاج عادل کومچی اور عبدالمالک کو اپنے مقامی قبرستان میں دفن کرنے سے انکار کردیا۔ نارمن ڈے کی مسجد کے امام محمد کاربیلا نے اپنی ہی برادری کے ان دونوں مسلمان حملہ آوروں کا جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا۔ فادر جیکوئس حمل کے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی لیکن داعش نے یہ نہیں بتایا کہ ایک 86 سالہ پادری کو قتل کرانے کی کیا وجہ تھی؟ اس سے قبل نیس میں ایک ٹرک ڈرائیور نے 80 افراد کو روند ڈالا تھا۔ فرانس میں ہونے والے ان حملوں کے بعد سے پورے یورپ میں مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔\n\nستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف تو شام سے ہجرت کرنے والے لاکھوں مسلمان یورپ میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں دوسری طرف داعش کی جانب سے ان یورپی ممالک کو مسلمانوں کیلئے غیر محفوظ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فرانس اور جرمنی میں مسلمان لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ فرانس میں آباد مسلمانوں کی اکثریت کا تعلق الجزائر، مراکش اور تیونس سے ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد فرانس کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف اندھا دھند کریک ڈائون کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مل کردہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود فرانس سمیت مختلف یورپی ممالک میں سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ مغرب میں آبا دمسلمان اپنے لئے جو حقوق اور آزادی مانگتے ہیں کیا انہوں نے یہ حقوق اور آزادی مسلم ممالک میں آباد غیر مسلموں کو دے رکھی ہے؟ طعنہ زنی کرنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکا کے مسلمان ڈونلڈ ٹرمپ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ کہیں انہیں یہ خطرہ تو نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن گیا تو اپنے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو مسلم ممالک میں غیر مسلموں کے ساتھ کیا جاتا ہے؟\n\nمذکورہ بالا سوالات اٹھانے والے پڑھے لکھے جاہل کچھ مسلم ممالک کی حکومتوں کی پالیسی پر اعتراض کرنے میں حق بجانب ہوسکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ دین اسلام نے ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ہر قسم کے حقوق دیئے ہیں۔ اگر کسی مسلم معاشرے میں غیر مسلموں کو ان کے تمام حقوق نہیں ملتے تو یہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ آجکل مغربی میڈیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرنے والے ایک پاکستانی نژاد مسلمان خضر خان کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے جس نے ٹی وی کیمروں کے سامنے امریکی آئین کا حوالہ دیکر ٹرمپ کو کہا کہ اس آئین نے مجھے جو حقوق دیئے ہیں انہیں جاننے کیلئے تم بھی اس آئین کا مطالعہ کرو۔ خضر خان کا بیٹا کیپٹن ہمایوں خان 2004ء میں عراق میں فوجی خدمات سرانجام دیتے ہوئے ایک خودکش حملے کی نذر ہوگیا تھا۔ خضر خان کی وجہ سے صرف امریکا میں نہیں بلکہ تمام مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کو کچھ نہ کچھ ذہنی ریلیف ملا ہے\n\nلیکن یہ ریلیف وقتی ہے۔ کچھ انتہا پسند تنظیموں کی یہ کوشش ہوگی کہ کسی نہ کسی طریقے سے مغربی حکومتوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لایا جائے کیونکہ یہ لڑائی شروع ہونے کے بعد ہی ان تنظیموں کو زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل ہوسکتی ہے لہٰذا اپنے مقصد کے حصول کیلئے یہ تنظیمیں مغربی ممالک میں مسلمان نوجوانوں کو قتل و غارت کیلئے استعمال کرنے کی کوشش جاری رکھیں گی۔\n\nبہت سے مسلم ممالک پہلے سے داخلی مسائل کا شکار ہیں۔ مغرب اور مسلمانوں میں محاذ آرائی بڑھی تو اس کا اثر کئی مسلم ممالک پر بھی پڑے گا اور وہاں بھی مغرب سے محاذ آرائی کے حامیوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ خدانخواستہ حالات بگڑ گئے تو سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوگا؟ سب سے زیادہ نقصان غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو ہوگا۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر مسلمانوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والی تنظیموں کے علاوہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو بھی سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ بہت نازک اور پیچیدہ ہے۔ ماضی کی نوآبادیاتی طاقتوں نے اپنے غلاموں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ ایک زمانے میں الجزائر بھی فرانس کی نوآبادی تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کو شکست دینے والا چارلس ڈیگال الجزائر کی تحریک آزادی کا مقابلہ نہ کر پایا اور 1962ء میں الجزائر نے آزادی حاصل کرلی۔ تاریخ صرف یہ نہیں بتاتی کہ فرانس کی فوج نے الجزائر کی تحریک آزادی کے مجاہدین پر بہت ظلم کئے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ فرانس کے مسلمانوں نے پہلی جنگ عظیم میں فرانس کی فوج کے ساتھ مل کر جرمنی کا مقابلہ کیا اور اس جنگ میں مارے گئے لاکھوں مسلمانوں کی یاد میں 1926ء میں پیرس کی سب سے بڑی جامع مسجد بنائی گئی تھی۔ اس مسجد میں دوسری جنگ عظیم کے دوران پیرس کے یہودیوں کو پناہ دی جاتی رہی اور بہت سے جرمنوں نے ہٹلر کے ظلم سے بچنے کیلئے اس مسجد سے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ یہ مسجد آج بھی فرانس کے مسلمانوں کا فخر ہے۔\n\nتاریخ بڑی ظالم چیز ہے۔ لندن کے لوگوں نے ایک مسلمان صادق خان کو اپنا میئر بنا کر نئی تاریخ بنا دی ہے۔ اب اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو بھی ایک نئی تاریخ بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح ایک امریکی مسلمان خضر خان نے پوری دنیا کو بتایا کہ امریکی آئین نے مسلمانوں کو وہی حقوق دیئے ہیں جو غیر مسلموں کو حاصل ہیں اسی طرح او آئی سی کو بھی یہ بتانا ہے کہ اسلام نے غیر مسلم اقلیتوں کو بہت سے حقوق دیئے ہیں اور ایک مسلمان کا خون غیر مسلم کے خون کے برابر ہے۔ او آئی سی کو تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور اسکالرز کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ دنیا کو بتانا ہوگا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جس میں بے گناہوں کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں۔ غیر مسلم معاشروں میں مسلمانوں کو حقوق ملیں یا نہ ملیں لیکن او آئی سی اپنے رکن ممالک سے مطالبہ کرے کہ وہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو وہ تمام حقوق دیں جو مسلمان شہری غیر مسلم ممالک میں مانگتے ہیں.